قومی

Gaurav Gogoi lambasted the ECI: جوابدہی سے بھاگ رہا ہے الیکشن کمیشن، گورو گوگوئی نے بہار ایس آئی آر پر ’’جلد بازی‘‘ کیلئے کمیشن کو آڑے ہاتھوں لیا

نئی دہلی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں ڈپٹی لیڈر آف اپوزیشن گورو گوگوئی نے پیر کو بھارت کے الیکشن کمیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں اسمبلی انتخابات سے قبل اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) مشق کو جلدبازی میں انجام دیا گیا اور اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے سوالوں سے الیکشن کمیشن ’’جوابدہی سے فرار‘‘ اختیار کر رہا ہے۔

اپوزیشن کو اعتماد میں نہ لینے کا الزام

گوگوئی نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایسے افسروں کے ماتحت کام کر رہا ہے جو ’’جانبدار‘‘ ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بہار میں ایس آئی آر ڈرائیو شروع کرنے سے قبل مختلف سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور مہاراشٹر میں لوک سبھا انتخابات کے اختتام کے صرف چند ماہ بعد 70 لاکھ نئے ووٹروں کے اندراج پر بھی کمیشن خاموش رہا۔

حق رائے دہی جمہوریت کی جان

کانگریس رہنما نے کہا کہ ووٹ کا حق جمہوریت کو زندہ رکھنے کا سب سے اہم آئینی حق ہے اور اس حق کے محافظ کے طور پر الیکشن کمیشن کو شفافیت دکھانی چاہیے تھی۔ لیکن وہ انتخابی فہرست میں بے ضابطگیوں اور انتخابی عمل پر اٹھنے والے سوالوں کا جواب دینے سے قاصر ہے۔ انہوں نے کہا: ’’الیکشن کمیشن اپنی جوابدہی سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘‘

چیف الیکشن کمشنر پر تنقید

گوگوئی نے مزید کہا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے پریس کانفرنس بلاکر ایس آئی آر ڈرائیو پر وضاحت دینے کے بجائے اپوزیشن جماعتوں پر ہی حملہ کیا۔ ان کے مطابق، سپریم کورٹ نے بہار ایس آئی آر ڈرائیو کے حوالے سے جو ریمارکس دیے ہیں وہ الیکشن کمیشن کے دلائل کو مسترد کرتے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر اور راہل گاندھی آمنے سامنے

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب چیف الیکشن کمشنر کمار نے اتوار کو کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کے حالیہ ’’ووٹ چوری‘‘ کے الزامات کو خارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ آئین ہند کی توہین ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے راہل گاندھی سے مطالبہ کیا کہ وہ یا تو حلف نامہ داخل کریں یا قوم سے معافی مانگیں۔ انہوں نے کہا: ’’یا حلف نامہ دینا ہوگا یا ملک سے معافی مانگنی ہوگی۔ تیسرا کوئی راستہ نہیں۔ سات دن میں حلف نامہ نہ دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔‘‘

راہل گاندھی کا جوابی حملہ

راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن پر دوہرے رویے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن ان سے تو حلف نامہ مانگتا ہے، لیکن جب بی جے پی ممبر پارلیمنٹ انوراگ ٹھاکر وہی بات کہتے ہیں تو ان سے کوئی وضاحت نہیں طلب کی جاتی۔ انہوں نے کہا: ’’الیکشن کمیشن مجھ سے حلف نامہ مانگتا ہے، لیکن جب انوراگ ٹھاکر وہی الزام دہراتے ہیں تو ان سے کچھ نہیں پوچھا جاتا۔‘‘

 بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Nandigram by-election: نندی گرام ضمنی انتخاب، سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی حمایت کے اعلان کے بعد کانگریس امیدوار ملن پردھان گرفتار

ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…

9 minutes ago

India vs Afghanistan T20: بھارت-افغانستان سیریز کے دوران 19 افراد گرفتار، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

13 ستمبر کو بھارت نے پہلا میچ 7 وکٹ سے جیتا، جب کہ دوسرے مقابلے…

2 hours ago

Prime Minister Modi: دہلی میں ماحولیات پر بڑا بین الاقوامی اجلاس، وزیر نریندر اعظم مودی 19 ستمبر کو کریں گے افتتاح

’ماحولیات اور آب و ہوا کی حرکیات کا مستقبل‘ کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس،…

2 hours ago