قومی

India Tops Global Charts in Child Wellness: مشن اندر دھنُش سے میزلز اینڈ روبیلا چیمپیئن ایوارڈ تک، بچوں کی صحت کے حوالے سے بھارت کا کامیاب ماڈل بنا عالمی سطح پر مثال

بھارت نے بچوں کی صحت اور حفاظتی ٹیکہ کاری کے شعبے میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے عالمی سطح پر ایک مثالی مقام حاصل کر لیا ہے۔ 2024 میں ملک میں ’’زیرو ڈوز‘‘ بچوں—یعنی وہ بچے جنھیں ایک بھی ویکسین نہیں ملی ہو—کی شرح کم ہو کر صرف 0.06 فیصد رہ گئی ہے، جو کہ 2023 میں 0.11 فیصد تھی۔ اس نمایاں کامیابی کو اقوامِ متحدہ کی انٹر ایجنسی گروپ برائے امواتِ اطفال (UN IGME) کی رپورٹ اور Measles & Rubella Partnership نے عالمی سطح پر تسلیم کیا ہے۔ اس کے لیے بھارت کو ’’میزلز اینڈ روبیلا چیمپیئن ایوارڈ‘‘ سے بھی نوازا گیا ہے۔

بچوں اور ماؤں کی صحت میں غیرمعمولی بہتری

بھارت نے 1990 سے 2023 کے درمیان پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات میں 78 فیصد کمی کی، جو عالمی اوسط (61 فیصد) سے کہیں بہتر ہے۔ اسی عرصے میں نوزائیدہ بچوں کی اموات میں 70 فیصد اور زچگی اموات (MMR) میں 86 فیصد کمی ہوئی ہے۔ یہ اعداد و شمار بھارت کی صحت عامہ میں سنجیدہ اور دیرپا کوششوں کا ثبوت ہیں۔

یونیورسل امیونائزیشن پروگرام: ہر بچے تک رسائی

بھارت کا یونیورسل امیونائزیشن پروگرام (UIP) ہر سال تقریباً 2.6 کروڑ بچوں اور 2.9 کروڑ حاملہ خواتین کو مفت ویکسین فراہم کرتا ہے۔ 2013 تک صرف 6 ویکسین دی جا رہی تھیں، جب کہ اب یہ تعداد بڑھ کر 12 ہو چکی ہے، جن میں پولیو، خسرہ، روبیلا، ہیپاٹائٹس، نمونیا، اور دیگر شامل ہیں۔

مشن اندردھنُش اور زیرو ڈوز منصوبہ

2014 میں شروع ہونے والا مشن اندردھنش اب تک 5.46 کروڑ بچوں اور 1.32 کروڑ خواتین کو حفاظتی ٹیکے فراہم کر چکا ہے۔ 2024 میں حکومت نے ’زیرو ڈوز امپلیمنٹیشن پلان‘ کا آغاز کیا، جس کا ہدف 143 اضلاع میں ویکسین سے محروم بچوں تک رسائی حاصل کرنا ہے۔

ٹیکنالوجی، آگاہی اور مکمل رسائی

بھارت نے U-WIN پلیٹ فارم کے ذریعے ہر بچے کی ویکسین کی نگرانی کو ڈیجیٹل بنا دیا ہے۔ آشا اور ANM ورکرز کی مدد سے دروازے تک آگاہی مہمات چلائی جا رہی ہیں۔ ویلیج ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن ڈیز (VHNDs) جیسے اقدامات نے دور دراز علاقوں میں بھی صحت کی خدمات پہنچائی ہیں۔

عالمی معیار سے بھی بہتر

ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی بیشتر ویکسینز کی کوریج عالمی اوسط سے بہتر ہے۔ بھارت میں DTP-1 ویکسین کی کوریج 93 فیصد ہے، جو جرمنی اور فن لینڈ سے بھی زیادہ ہے۔ خسرہ ویکسین کی کوریج گزشتہ 10 سال میں 83 سے بڑھ کر 93 فیصد ہو گئی ہے۔

روشن ہے مستقبل، لیکن چند مسائل کا بھی ہے سامنا

اگرچہ بھارت کی کامیابیاں شاندار ہیں، مگر اب بھی کچھ علاقوں میں لوگوں کے اندر ویکسین سے جھجک، ہجرت کرنے والے خاندان اور دور دراز علاقوں تک رسائی چیلنجز بنے ہوئے ہیں۔ حکومت کی متعدد سطحوں پر مہمات، ٹیکنالوجی کا استعمال اور کمیونٹی شراکت داری ان مسائل سے نمٹنے میں مدد کر رہی ہیں۔

ایک عالمی ماڈل

بھارت کا حفاظتی ٹیکہ کاری کا ماڈل نہ صرف اپنے ملک کے بچوں کو بیماریوں سے بچا رہا ہے بلکہ دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی مشعلِ راہ بن چکا ہے۔ حکومتِ ہند نے اعادہ کیا ہے کہ وہ بچوں کی صحت کو اولین ترجیح بنائے رکھے گی، تاکہ ایک صحت مند اور مضبوط بھارت پروان چڑھ سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

Akhilesh Yadav PDA Rath Yatra: رائے بریلی سے اکھلیش نے نکالی پی ڈی اے رتھ یاترا، سماج وادی پارٹی-کانگریس اتحاد کی تازہ صورتحال

2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے اکھلیش یادو نے کانگریس کے مضبوط علاقے…

55 minutes ago

Guru Tegh Bahadur: دہلی میں امر بلیدان، موسیقی اور تھیٹر کے ذریعے گرو تیغ بہادر جی کی عظیم قربانی کو کیا گیا پیش

تقریباً 40 فنکاروں کی ٹیم نے اپنی پرفارمنس اور مکالموں کے ذریعے مغلیہ دور کے…

2 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: وزیر اعظم مودی نے سیوا یاترا میں شامل نوجوانوں سے کی بات چیت ، کہا- یہ تجربات انمول ہیں

پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…

3 hours ago

Utter Pradesh International Trade Showگریٹر نوئیڈا میں میگا ٹریڈ شو، دنیا بھر کے تاجروں کا اجتماع، امت شاہ آج کریں گے شاندار افتتاح

گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…

4 hours ago