کئی نسلوں سے وقف سماجی اور معاشی امداد، تعلیم، حفظانِ صحت اور ذریعۂ معاش کی مالی اعانت کا ایک ستون رہا ہے۔ اس کے باوجود، اس کے فوائد اکثر خواتین تک نہیں پہنچے ہیں، جس کے سبب انہیں وسائل اور فیصلہ سازی تک محدود رسائی حاصل ہے۔ وقف (ترمیمی) بل 2025، کا مقصد اس کو تبدیل کرنا ہے۔ انصاف پسندی اور شمولیت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، اس بل میں اس کو یقینی بنانے کے لیے اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں کہ مسلم خواتین کو وراثت میں جائز حصہ ملے، انہیں مالی مدد فراہم کی جائے اور حکمرانی میں ان کے کردار کو بڑھایا جائے۔
وقف (ترمیمی) بل 2025 میں سب سے اہم تبدیلیوں میں سے ایک، خاندانی وقف (وقف علی الاولاد) میں خواتین کے وراثت کے حقوق کا تحفظ ہے۔ بل میں کہا گیا ہے کہ کوئی جائیداداس بات کو یقینی بنانے کے بعد ہی وقف کی جاسکتی ہے کہ پہلے وارث خواتین کو ان کا جائز حصہ مل چکا ہو۔ یہ شق میراث کے ان قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق دیرینہ خدشات کو براہ راست حل کرتی ہے جن سے پسماندہ خواتین کو فوائد سے محروم رکھا گیا۔ دفعہ 3 اے (2) کو نافذ کرکے یہ بل اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جائیداد وقف کرنے سے پہلے خواتین کو ان کے جائز حق سے محروم نہ کیا جائے۔
اس بل میں بیواؤں، طلاق شدہ خواتین اور یتیموں کے لیے مالی امداد شامل کرنے کے لیے وقف علی الاولاد کے دائرہ کار کو وسعت دی گئی ہے۔ دفعہ 3 (آر) (iv) میں کہا گیا ہے کہ وقف کی آمدنی کو اب ان کمزور گروہوں کی دیکھ بھال اور فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے ضرورت مندوں کے لیے معاشی تحفظ اور سماجی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ شق صنفی انصاف کے لیے حکومت کے عزم کو تقویت دیتے ہوئے اسلامی فلاح و بہبود کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے۔
اس بل میں ایک اور قابل ذکر اصلاح وقف نظم و نسق میں خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی ہے۔ اس ترمیم میں ریاستی وقف بورڈز (دفعہ 14) اور مرکزی وقف کونسل (دفعہ 9) میں دو مسلم خاتون ارکان کی شمولیت کو برقرار رکھا گیا ہے۔ اس اقدم کو وقف ذرائع کی فراہمی اور رکھ رکھاؤ پر اثر انداز ہونے والے فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرکے خواتین کو بااختیار بنانے کے مقصد سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
حکمرانی میں خواتین کی شرکت سے توقع کی جاتی ہے کہ پالیسی کے نفاذ میں بنیادی تبدیلیاں آئیں گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ فنڈز کو کلیدی شعبوں کے لیے مختص کیا جائے جیسے:
بل میں متعارف کرائی گئی اصلاحات کا مقصد وقف نظام میں تاریخی عدم مساوات کو دور کرکے صنفی انصاف کو فروغ دینا ہے۔ فیصلہ سازی کے کرداروں میں خواتین کی شمولیت کو لازمی قرار دے کر اور کمزور گروہوں کے لیے مالی تحفظ کو یقینی بنا کر، یہ بل وقف گورننس کے لیے زیادہ جامع اور مساوی نقطہ نظر کو فروغ دیتا ہے۔
مزید برآں، یہ بل مسلم خواتین میں اقتصادی آزادی کی حوصلہ افزائی کے لیے پیشہ ورانہ تربیتی مراکز اور خود امدادی گروپس (ایس ایچ جی) کے قیام کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ ان اقدامات سے خواتین کو صحت کی دیکھ بھال، صنعت کاری اور فیشن ڈیزائن سمیت مختلف شعبوں میں مہارت حاصل کرنے میں مدد ملے گی، جس سے ان کی ملازمت کی اہلیت اورخود کفالت میں اضافہ ہوگا۔
نئے بل میں وقف انتظامیہ میں ڈیجیٹل کاری متعارف کرائی گئی ہے، جو بدعنوانی اور بدانتظامی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرے گی۔ وقف ریکارڈ کی ڈیجیٹل کاری بہتر نگرانی کو یقینی بناتی ہے، جس سے فنڈز کا غلط استعمال یا ان کے مطلوبہ مستفیدین کے بجائے کہیں اور منتقل کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ بڑھتی ہوئی شفافیت خواتین کے لیے خاص طور پراہم ہے، کیونکہ یہ اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ ان کی ترقی کے لیے مالی وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا جائے۔
وقف (ترمیمی) بل 2025، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم کی نمائندگی کرتا ہے کہ وقف اپنے حقیقی مقصد -سماجی بہبود اور انصاف کے آلے کے طور پر کام کرنا- کو پورا کرے۔ وراثت کے حقوق حاصل کرنے، بیواؤں اور طلاق شدہ خواتین کو مالی مدد فراہم کرنے، حکمرانی میں نمائندگی بڑھانے اور اقتصادی طور پر بااختیار بناکر یہ بل وقف انتظامیہ میں طویل مدتی صنفی مساوات کی بنیاد رکھتا ہے۔
جیسا کہ یہ اصلاحات ترتیب پا رہی ہیں،ان اصلاحات سے مسلم خواتین کے لیے نئے مواقع کو بروئے کار لائے جانے کی امید ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ وقف آنے والے سالوں میں ان کی ترقی اور انہیں بااختیار بنانے کا ایک ذریعہ رہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
اسمت مچھار کی بہادری کے اعتراف میں گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے اعلان…
نودیپ سنگھ نے اپنے ہاسپیٹیلٹی کیریئر کا آغاز ہندوستان سے کیا۔ امرتسر سے لندن تک…
کاک پٹ میں پیش آنے والی جھڑپ کے دوران شریک پائلٹ نے پائلٹ پر چاقو…
پروفیسر سلیم انجینئر نے مزید کہا کہ آئین ہند کا آرٹیکل 21 زندگی اور شخصی…
چھتیس گڑھ اور مہاراشٹر میں ہتھیار چھوڑ کر مرکزی دھارے میں واپس آنے والے 210…
سپریم کورٹ نے 2008 کے احمد آباد سلسلہ وار بم دھماکوں کے معاملے میں سزائے…