ہندوستان کا یونائیٹڈ پیمنٹس انٹرفیس (UPI)، جو صرف نو سال قبل متعارف ہوا تھا، آج دنیا کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ریئل ٹائم ڈیجیٹل ادائیگی نظام بن چکا ہے۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی جون 2025 میں جاری کردہ رپورٹ “Growing Retail Digital Payments: The Value of Interoperability” کے مطابق یو پی آئی اس وقت ہندوستان کے 85 فیصد ڈیجیٹل ریٹیل ادائیگیوں کا ذریعہ ہے اور دنیا بھر کے تقریباً 60 فیصد ریئل ٹائم لین دین اسی نظام کے ذریعے ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یو پی آئی روزانہ 640 ملین سے زائد لین دین انجام دے رہا ہے، جو کہ عالمی ادائیگی کے ادارے Visa کے یومیہ 639 ملین لین دین سے بھی زیادہ ہے۔ صرف جون 2025 میں یو پی آئی کے ذریعے 18.39 ارب ٹرانزیکشنز کی گئیں جن کی مالیت 24 لاکھ کروڑ روپے رہی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 32 فیصد زیادہ ہے۔
یو پی آئی کیا ہے؟
یو پی آئی کو نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (NPCI) نے 2016 میں متعارف کرایا تھا۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو صارفین کو مختلف بینک اکاؤنٹس کو ایک ایپ کے ذریعے جوڑنے اور فوری 24×7 رقم منتقلی، خریداری، بل ادائیگی اور پیئر-ٹو-پیئر لین دین کی سہولت دیتا ہے۔ یو پی آئی کی سب سے بڑی کامیابی اس کی ’’انٹرآپریبلٹی‘‘ یعنی مختلف ایپس اور بینکوں کے درمیان باآسانی فنڈ منتقلی کی سہولت ہے۔ صارفین Google Pay، PhonePe، Paytm یا BHIM جیسے کسی بھی UPI-فعال ایپ سے آزادانہ طور پر ادائیگیاں کر سکتے ہیں۔
ترقی کے محرکات
UPI کی کامیابی کے پیچھے کئی عوامل ہیں۔ جیسے کہ:
صفر لاگت: یو پی آئی پر صارفین اور دکانداروں سے کوئی فیس نہیں لی جاتی۔
حکومتی پالیسیوں کی حمایت: پی ایم سواندھی اسکیم جیسے اقدامات نے چھوٹے کاروباریوں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کی طرف راغب کیا۔
کووِڈ-19 کا کردار: وبا کے دوران نقدی سے پرہیز نے یو پی آئی کو ایک لازمی ذریعہ بنا دیا۔
دیہی رسائی: آسان انٹرفیس، علاقائی زبانوں میں سپورٹ اور کم ڈیٹا کھپت نے اسے Tier-2/3 شہروں تک پہنچایا۔
عالمی توسیع
UPI اب سات ممالک—متحدہ عرب امارات، سنگاپور، بھوٹان، نیپال، سری لنکا، فرانس اور ماریشس میں فعال ہے۔ خاص طور پر فرانس میں یو پی آئی کی موجودگی نے اسے یورپ میں داخلہ دلایا، جہاں سیاح اور این آر آئیز بھارتی بینک اکاؤنٹس سے براہ راست ادائیگیاں کر سکتے ہیں۔
مستقبل کی راہیں
BRICS ممالک میں شمولیت: بھارت یو پی آئی کو BRICS کے معیاری نظام میں شامل کرنا چاہتا ہے تاکہ عالمی ادائیگیاں آسان ہوں۔
UPI 123Pay: بغیر اسمارٹ فون کے بھی UPI تک رسائی ممکن بنانے کے لیے نئی خدمات متعارف کرانا۔
بین الاقوامی ترسیلات میں کمی: عالمی سطح پر ادائیگی کی لاگت گھٹانے پر کام جاری ہے۔
نتیجہ
یو پی آئی نے صرف نو برسوں میں وہ حاصل کیا ہے جو کئی عالمی ادائیگی ادارے دہائیوں میں نہ کر سکے۔ کم لاگت، شفافیت، اور وسیع رسائی نے اسے نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے لیے بھی ایک ماڈل بنا دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
پونم نے جمعرات کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا، ’’کافی…
اتر پردیش اور بہار سمیت 17 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر…
دہلی پولیس کی ڈی سی پی پی آر او نیہا یادو نے بتایا کہ این…
موبائل پر کال آتے ہی دکھائی دے گا کال کرنے والے کا نام، نئے نظام…
547 مقدمات درج، 182 کروڑ روپے سے زائد کی منشیات ضبط ہوئی ہیں اور منشیات…
راہل گاندھی کی حامی نیہا بورا نے کہا کہ ’بنگلہ دیش نے ہمیں ایک راستہ…