تحریر:خالد مصطفیٰ (علیگ )
صحافت کی دنیا کا معتبر نام یوسف انصاری، اب سیاست کے میدان میں بھی نئی ذمہ داری کے ساتھ سرگرم 25 برس سے زائد کا شاندار صحافتی سفر، قومی سیاست پر گہری نظر اور محروم طبقات کی آواز بننے کا عزم، آزاد سماج پارٹی (کانشی رام) کے قومی ترجمان کی حیثیت سے نئی سیاسی پاری کا آغاز. ہندوستانی صحافت کے وسیع منظرنامے میں بعض نام ایسے ہوتے ہیں جو محض ایک صحافی کی حیثیت سے نہیں بلکہ اپنی طویل پیشہ ورانہ خدمات، بے باک رپورٹنگ، سیاسی بصیرت اور گہری تجزیاتی صلاحیت کے باعث اپنی ایک الگ شناخت قائم کرتے ہیں۔ یوسف انصاری بھی صحافت کی اسی معتبر صف میں شمار کیے جاتے ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی کے تین دہائیوں سے زائد عرصے کو صحافت، سیاسی رپورٹنگ، نیوز ایڈیٹنگ اور قومی مسائل کے تجزیے کے لیے وقف کیا ہے۔ اب وہ اپنی اسی وسیع صحافتی بصیرت اور تجربے کو سیاست کے میدان میں بروئے کار لاتے ہوئے آزاد سماج پارٹی (کانشی رام) کے قومی ترجمان کی حیثیت سے ایک نئی ذمہ داری سنبھال چکے ہیں۔
یوسف انصاری کو قومی سیاست، پارلیمانی امور اور سماجی و سیاسی مسائل کی گہری سمجھ رکھنے والے تجربہ کار صحافی اور سیاسی تجزیہ کار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ خصوصاً سماج کے محروم، پسماندہ اور کمزور طبقات سے متعلق مسائل پر ان کی نظر ہمیشہ گہری اور حساس رہی ہے۔ ہندوستانی ٹیلی ویژن اور پرنٹ میڈیا میں انہوں نے اپنی محنت، پیشہ ورانہ دیانت داری اور تحقیق پر مبنی صحافت کے ذریعے ایک مضبوط مقام بنایا۔
ان کا صحافتی سفر 1992 میں بجنور ٹائمز سے شروع ہوا، جہاں انہوں نے رپورٹر اور سب ایڈیٹر کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اس کے بعد روزنامہ نوجیوتی کے قومی بیورو، نئی دہلی سے وابستہ ہوئے اور پھر ہندوستان کے معروف نیوز چینل زی نیوز میں تقریباً ایک دہائی تک مختلف اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔ رپورٹر سے آغاز کرتے ہوئے وہ چیف رپورٹر، اسپیشل رپورٹر، سیاسی بیورو چیف اور بالآخر اسسٹنٹ ایڈیٹر کے عہدے تک پہنچے۔ بعد ازاں چینل ون میں مینیجنگ ایڈیٹر اور ایڈیٹر کی حیثیت سے بھی اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔
یوسف انصاری کے صحافتی کیریئر کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ انہوں نے صرف نیوز روم تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ ملک کے اہم ترین سیاسی، پارلیمانی اور قومی واقعات کی براہِ راست اور زمینی سطح پر رپورٹنگ کی۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی کی وسیع کوریج سے لے کر اترپردیش اور بہار کے اہم انتخابات، قومی سیاسی تحریکوں اور ملک کے بڑے سیاسی رہنماؤں کے انٹرویوز تک ان کا تجربہ غیر معمولی وسعت رکھتا ہے۔
24 ستمبر 2002 کو جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات کے دوران سکیورٹی فورسز کی انسداد دہشت گردی کارروائی کی براہ راست ٹیلی کاسٹ کوریج بھی ان کے صحافتی سفر کا ایک اہم باب رہی۔ اس کے علاوہ عراق پر امریکی حملے کے دوران ترکی-عراق سرحد سے رپورٹنگ، کشمیر کے زلزلے اور سونامی کے بعد امدادی کارروائیوں کی کوریج، امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے ہندوستانی دورے، ہندوستان-امریکہ جوہری معاہدے سے متعلق اہم پیش رفت اور متعدد قومی انتخابات کی رپورٹنگ نے ان کے صحافتی تجربے کو مزید وسیع کیا۔
انہوں نے ملک کے متعدد ممتاز سیاسی رہنماؤں کے انٹرویوز بھی کیے، جن میں سونیہ گاندھی، راہل گاندھی، ملائم سنگھ یادو، ممتا بنرجی، ارون جیٹلی، رام ولاس پاسوان، مفتی محمد سعید اور محبوبہ مفتی سمیت کئی اہم شخصیات شامل ہیں۔ نیوز اینکرنگ کے ساتھ ساتھ تحقیقاتی صحافت میں بھی ان کی نمایاں خدمات رہی ہیں۔
ان کی صحافتی خدمات کو مختلف مواقع پر اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ وہ لوک سبھا پریس ایڈوائزری کمیٹی کے رکن رہے۔ انہیں بہترین سیاسی رپورٹنگ اور ٹیلی ویژن صحافت کے لیے مختلف ایوارڈز اور اعزازات مل چکے ہیں۔ ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ پلیٹ فارم سمیت مختلف اداروں نے بھی انہیں اعزاز سے نوازا۔ جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات کی بہترین نیوز کوریج اور قومی یکجہتی کے لیے بھی انہیں اعزازات حاصل ہوئے۔
صحافت کے ساتھ ساتھ یوسف انصاری نے سماجی مسائل پر بھی مسلسل کام کیا۔ 2007 سے 2011 کے دوران انہوں نے پسماندہ فرنٹ کے ذریعے پسماندہ طبقات میں تعلیمی، سماجی اور سیاسی بیداری پیدا کرنے کی کوششوں میں فعال کردار ادا کیا۔ اس دوران وہ پسماندہ طبقات کے حقوق سے متعلق مختلف قومی سطح کی تحریکوں اور تنظیموں کے ساتھ بھی وابستہ رہے۔
ان کا سیاسی سفر بھی ان کی صحافتی زندگی کی طرح تجربات سے بھرپور رہا۔ 22 جولائی 2011 کو انہوں نے پیس پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری کے ساتھ ساتھ میڈیا، پبلسٹی، پلاننگ اور کوآرڈینیشن کی اہم ذمہ داریاں سنبھالیں۔ وہ پارٹی کے اہم قومی ترجمان بھی رہے اور پارلیمانی بورڈ و سیاسی امور کی کمیٹی سے بھی وابستہ رہے۔
اب 31 جولائی 2026 کو آزاد سماج پارٹی (کانشی رام) کے قومی صدر اور نگینہ کے رکن پارلیمنٹ چندرشیکھر آزاد نے یوسف انصاری کو پارٹی کا قومی ترجمان مقرر کیا ہے۔ یہ تقرری ان کے لیے ایک نئی سیاسی پاری کا آغاز ہے، جہاں ان کے کئی دہائیوں پر محیط صحافتی تجربے، سیاسی فہم اور قومی مسائل پر گہری نظر سے پارٹی کو فائدہ پہنچنے کی امید کی جا رہی ہے۔
یوسف انصاری کی نئی ذمہ داری اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ وہ صحافت کی دنیا سے سیاست کے میدان میں آنے والے ان تجربہ کار افراد میں شامل ہیں، جو ملک کی سیاست، پارلیمانی نظام اور سماجی مسائل کو قریب سے دیکھ اور سمجھ چکے ہیں۔ ان کی آواز میں صحافت کا تجربہ، تجزیے میں سیاسی بصیرت اور سماجی مسائل کے حوالے سے ایک واضح حساسیت نظر آتی ہے۔
آزاد سماج پارٹی (کانشی رام) کے قومی ترجمان کی حیثیت سے یوسف انصاری اب اپنی صحافتی زندگی کے وسیع تجربے کو ایک نئی سمت دینے جا رہے ہیں۔ سیاست کی یہ نئی راہ ان کے لیے یقیناً ایک نیا سفر ہے، لیکن ان کے تین دہائیوں سے زائد کے تجربے کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ صحافت کے بعد سیاست کے میدان میں بھی ان کی آواز قومی سطح پر اپنی ایک الگ شناخت بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
صحافت سے سیاست تک، یوسف انصاری کی نئی پاری
یوسف انصاری کی کہانی محض ایک صحافی کے سیاسی میدان میں قدم رکھنے کی کہانی نہیں، بلکہ یہ تین دہائیوں سے زیادہ پر محیط ایک ایسے شاندار سفر کی داستان ہے جس میں ایک نوجوان رپورٹر نے صحافت کی دنیا میں قدم رکھا، ملک کے سیاسی منظرنامے کو قریب سے دیکھا، قومی واقعات کی نبض کو محسوس کیا، پارلیمنٹ کی کارروائیوں کو کور کیا، ملک کے بڑے سیاسی رہنماؤں سے سوالات کیے، جنگ، دہشت گردی، انتخابات، قدرتی آفات اور قومی بحرانوں کی زمینی حقیقتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور پھر اسی وسیع تجربے کو اپنی تحریر، تجزیے اور سیاسی بصیرت کے ذریعے عوام تک پہنچایا۔
بجنور کے ایک صحافتی سفر سے شروع ہونے والی یہ داستان زی نیوز جیسے بڑے قومی میڈیا ادارے سے ہوتی ہوئی چینل ون کی ایڈیٹوریل قیادت تک پہنچی، جہاں انہوں نے صرف خبریں رپورٹ نہیں کیں بلکہ نیوز روم کی سمت متعین کرنے اور قومی مسائل کو عوام کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کرنے کی ذمہ داری بھی نبھائی۔ رپورٹر سے سیاسی بیورو چیف اور پھر ایڈیٹر تک کا سفر اس بات کا گواہ ہے کہ یوسف انصاری نے صحافت کو محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری کے طور پر اپنایا۔
ان کے صحافتی سفر میں کامیابیاں بھی آئیں، چیلنجز بھی آئے اور وقت کے ساتھ میڈیا کا پورا منظرنامہ بھی بدلتا رہا، لیکن یوسف انصاری نے بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ خود کو مسلسل آگے بڑھایا۔ پرنٹ میڈیا سے ٹیلی ویژن، نیوز رپورٹنگ سے سیاسی تجزیے اور روایتی صحافت سے ڈیجیٹل میڈیا تک ان کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ ایک تجربہ کار صحافی وقت کے بدلتے تقاضوں کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو کس طرح نئی سمت دے سکتا ہے۔
اب سیاست کی “پھسلن بھری راہوں” پر ان کے نئے سفر کا آغاز ہو چکا ہے۔ آزاد سماج پارٹی (کانشی رام) کے قومی ترجمان کی حیثیت سے ان کے سامنے ایک نئی ذمہ داری، نیا میدان اور نئے چیلنجز ہیں۔ لیکن اس مرتبہ ان کے پاس صرف سیاسی تجربہ ہی نہیں بلکہ صحافت کی وہ طویل تربیت بھی ہے جس نے انہیں سوال پوچھنا، مسائل کی تہہ تک پہنچنا، مختلف زاویوں سے کسی معاملے کو دیکھنا اور اپنی بات کو مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانا سکھایا ہے۔
آج یوسف انصاری ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں ان کی تین دہائیوں کی صحافت، سیاسی بصیرت، سماجی شعور اور قومی مسائل کا تجربہ ایک نئے کردار میں یکجا ہو رہا ہے۔ ان کی نئی سیاسی ذمہ داری اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وہ میڈیا اور سیاست دونوں میدانوں کی باریکیوں سے واقف ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ عوام تک کسی سیاسی پیغام کو پہنچانا صرف بیان جاری کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس کے پیچھے مسائل کی سمجھ، زمینی حقائق کا ادراک اور عوامی جذبات سے جڑنے کی صلاحیت بھی ضروری ہوتی ہے۔
یوسف انصاری کا یہ نیا سفر یقیناً ان کی زندگی کی ایک نئی کتاب کا آغاز ہے۔ صحافت کے میدان میں ایک طویل اور بھرپور باب لکھنے کے بعد اب وہ سیاست کے میدان میں اپنی نئی داستان رقم کرنے جا رہے ہیں۔ ایک طرف ان کے پاس صحافت کا وسیع تجربہ ہے، دوسری طرف سماجی مسائل اور محروم طبقات کے لیے کام کرنے کا پس منظر، اور تیسری طرف قومی سیاست کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کی طویل بصیرت۔ یہی امتزاج ان کی نئی ذمہ داری کو مزید اہم بناتا ہے۔
وقت بتائے گا کہ سیاست کے اس نئے سفر میں یوسف انصاری کس حد تک اپنی صحافتی بصیرت اور تجربے کو سیاسی جدوجہد میں تبدیل کر پاتے ہیں، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ایک طویل صحافتی سفر کے بعد ان کی سیاسی پاری ایک ایسے مرحلے پر شروع ہوئی ہے جہاں ان کے تجربے کی قدر و قیمت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ صحافت نے انہیں ملک اور معاشرے کو قریب سے دیکھنے کا موقع دیا، سیاست اب انہیں اسی مشاہدے اور تجربے کو عملی میدان میں استعمال کرنے کا موقع فراہم کر رہی ہے۔
اختتامی تجزیہ
ایک رپورٹر سے قومی ترجمان تک، ایک نیوز روم کے رکن سے ایڈیٹوریل قیادت تک، ایک سیاسی مبصر سے فعال سیاسی کردار تک، یوسف انصاری کا یہ سفر محنت، تجربے، مشاہدے اور مسلسل جدوجہد کی ایک ایسی داستان ہے جو ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی نئی سیاسی ذمہ داری کو ان کے سفر کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئے باب کا آغاز کہا جا رہا ہے۔ صحافت کے میدان میں برسوں تک عوامی مسائل اور قومی سیاست کی آواز بننے والے یوسف انصاری اب آزاد سماج
پارٹی (کانشی رام) کے قومی ترجمان کے طور پر اپنی آواز کو ایک نئی سمت دینے جا رہے ہیں۔ آنے والے وقت میں ان کی یہ نئی پاری کس قدر مؤثر ثابت ہوتی ہے، اس پر سیاسی اور صحافتی حلقوں کی نظریں یقیناً مرکوز رہیں گی۔
بھارت ایکسپریس اردو
راجدھانی دہلی میں مہاکوی گوپال داس نیرج کی یاد میں ’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام…
دہلی کے ماولنکر ہال میں منعقد پینٹنگ نمائش ’ڈسکور دی پاور آف ایکسپریشن‘ میں بھارت…
بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک، مہاکوی گوپال داس نیرج فاؤنڈیشن ٹرسٹ اور سونوی ایونٹس ممبئی…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے 2029 کے آخر تک پورے بھارت کو…
اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…
پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…