نئی دہلی : امریکہ کی 25 ریاستوں پر مشتمل ایک اتحاد نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے خلاف سیکشن 301 کے تحت عائد کیے گئے نئے درآمدی ٹیرف کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ امریکی عدالت میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرمپ نے تقریباً 60 تجارتی شراکت دار ممالک کی مصنوعات پر بھاری درآمدی محصولات عائد کرکے اپنے قانونی اختیارات کا غلط استعمال کیا، جس کے نتیجے میں امریکی صارفین، کاروبار اور معیشت پر اضافی مالی بوجھ پڑا۔یہ شکایت یو ایس کورٹ آف انٹرنیشنل ٹریڈ میں دائر کی گئی ہے، جس میں حالیہ ٹیرف کو غیر قانونی قرار دینے، ان پر فوری روک لگانے اور پہلے ہی وصول کی گئی اضافی ڈیوٹی واپس کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست گزار ریاستوں کا کہنا ہے کہ متاثرہ ممالک سے درآمد ہونے والی بیشتر اشیا پر 10 فیصد یا 12.5 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کی گئی، جبکہ یہ ممالک مجموعی امریکی درآمدات کا تقریباً 99.4 فیصد حصہ فراہم کرتے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق، مقدمے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت ٹرمپ دور کی وسیع ٹیرف پالیسی کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، حالانکہ اس سے قبل وفاقی عدالتیں مختلف قانونی بنیادوں پر اس پالیسی کے دو سابقہ ورژن مسترد کر چکی ہیں۔ ریاستوں کا الزام ہے کہ وفاقی حکام نے 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 اور جبری مشقت سے متعلق خدشات کو محض جواز بنا کر تقریباً وہی عالمی ٹیرف دوبارہ نافذ کیے، جنہیں سپریم کورٹ پہلے ہی غیر مؤثر قرار دے چکی تھی۔نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ کے غیر قانونی ٹیرف دراصل محنت کش امریکی خاندانوں پر اضافی ٹیکس کے مترادف ہیں۔ ان کے مطابق ان محصولات کے باعث روزمرہ استعمال کی اشیا، گھریلو سامان، تعمیراتی مواد اور دیگر ضروری مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کا براہ راست اثر عام شہریوں پر پڑ رہا ہے۔
اوریگن کے اٹارنی جنرل ڈین ریفیلڈ نے بھی ٹرمپ انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی جانب سے دائر کیا جانے والا تیسرا مقدمہ ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یہ ٹیرف اوریگن کے خاندانوں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے اشیائے ضروریہ مزید مہنگی کر رہے ہیں، اس لیے مختلف ریاستیں مل کر اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کر رہی ہیں۔نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے کہا کہ سپریم کورٹ میں شکست کے بعد حکومت نئے قانونی راستے اختیار کرکے ایک بار پھر خاندانوں اور کاروباری اداروں پر غیر قانونی انداز میں اضافی ٹیکس مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ریاستوں کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکشن 301 کے تحت عائد کیے گئے ٹیرف ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت سے ہی قانونی طور پر مضبوط اور مؤثر تجارتی ہتھیار ثابت ہوئے ہیں اور موجودہ انتظامیہ بھی انہیں قانونی دائرے میں سمجھتی ہے۔ مقدمے میں نیویارک سمیت ایریزونا، کیلیفورنیا، کولوراڈو، کنیکٹیکٹ، ڈیلاویئر، ہوائی، الینوائے، کینٹکی، میساچوسٹس، میری لینڈ، مین، مشی گن، مینیسوٹا، نیواڈا، نیو جرسی، نیو میکسیکو، نارتھ کیرولائنا، اوریگن، پنسلوانیا، رہوڈ آئی لینڈ، ورجینیا، ورمونٹ، واشنگٹن اور وسکونسن شامل ہیں۔ یہ مقدمہ نئے ٹیرف کے خلاف دائر کی جانے والی کم از کم دوسری بڑی قانونی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
راجدھانی دہلی میں مہاکوی گوپال داس نیرج کی یاد میں ’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام…
دہلی کے ماولنکر ہال میں منعقد پینٹنگ نمائش ’ڈسکور دی پاور آف ایکسپریشن‘ میں بھارت…
بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک، مہاکوی گوپال داس نیرج فاؤنڈیشن ٹرسٹ اور سونوی ایونٹس ممبئی…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے 2029 کے آخر تک پورے بھارت کو…
اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…
پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…