قومی

Former PM HD Deve Gowda Column Praising PM Modi Historic Tenure: وزیر اعظم مودی کا دور جمہوری استحکام کی علامت، نہرو کابینہ میں سماجی تنوع محدود تھا: سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا

نئی دہلی: بھارت کے سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا نے وزیر اعظم نریندر مودی کے طویل ترین منتخب جمہوری دور اقتدار کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2,593 سیاسی جماعتوں، شدید انتخابی مسابقت اور سوشل میڈیا کے دور میں مسلسل کامیابی حاصل کرنا مودی کے غیر معمولی عزم، محنت اور عوامی اعتماد کا ثبوت ہے۔ انہوں نے ایک خصوصی مضمون میں نریندر مودی اور بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے ادوار کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ادوار کی سیاسی، سماجی اور جمہوری صورتحال میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اپنے مضمون میں دیوے گوڑا نے لکھا کہ نریندر مودی اب بھارت کی تاریخ کے سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے جمہوری طور پر منتخب وزیر اعظم بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ محض ایک شخصی ریکارڈ نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ بھارت کا جمہوری نظام وقت کے ساتھ مزید مضبوط اور مستحکم ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جواہر لال نہرو نے آزادی کے فوراً بعد غیر معمولی حالات میں ملک کی قیادت سنبھالی تھی اور انہیں مہاتما گاندھی کی اخلاقی حمایت اور تحریک آزادی کی مقبولیت کا فائدہ حاصل تھا۔

دیوے گوڑا کے مطابق 1952 کے پہلے عام انتخابات کے وقت سیاسی منظرنامہ آج کے مقابلے میں کہیں مختلف تھا۔ اگرچہ اس وقت 53 سیاسی جماعتیں میدان میں تھیں، لیکن کانگریس کا غلبہ اس قدر مضبوط تھا کہ اسے حقیقی سیاسی چیلنج کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ 2014 اور 2024 تک بھارت ایک بالکل مختلف ملک بن چکا ہے، جہاں آبادی، معیشت، سیاسی شعور اور سماجی تنوع میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ سابق وزیر اعظم نے واضح کیا کہ اگرچہ یہ کہنا آسان ہے کہ 1952 میں وزیر اعظم بننا نسبتاً آسان تھا، لیکن حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ ان کے مطابق وقت کے ساتھ انتخابی مقابلہ سخت تر، عوام زیادہ باخبر اور جمہوری عمل کہیں زیادہ وسیع ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہرو-گاندھی خاندان سے باہر آنے والے رہنماؤں کو وہ سیاسی اور سماجی مراعات حاصل نہیں تھیں جو بعض دیگر رہنماؤں کو میسر رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ وہ خود اور نہ ہی نریندر مودی ایسی خاندانی یا سماجی سرمایہ کاری کے حامل تھے جس کا فائدہ بعض دوسرے وزرائے اعظم کو حاصل ہوا۔

دیوے گوڑا نے وزیر اعظم مودی کی توانائی اور مستقل مزاجی کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے لکھا کہ ان کا اپنا دور اقتدار صرف گیارہ ماہ پر مشتمل تھا، لیکن وہ حیران ہیں کہ مودی مسلسل برسوں سے اقتدار کے اعلیٰ ترین منصب پر رہتے ہوئے بھی تھکاوٹ کا کوئی تاثر نہیں دیتے۔ ان کے مطابق نہ صرف مودی میں توانائی برقرار ہے بلکہ عوام کی جانب سے انہیں حاصل ہونے والی حمایت بھی کمزور نہیں ہوئی۔ انہوں نے انتخابی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1952 کے انتخابات میں صرف 53 جماعتیں شریک تھیں، جبکہ 2024 میں مودی کو 2,593 سیاسی جماعتوں کے ماحول میں سیاسی مقابلے کا سامنا تھا۔ اسی طرح 1952 میں ووٹروں کی تعداد تقریباً 17 کروڑ تھی جو بڑھ کر 83 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ ملک کی آبادی 34 کروڑ سے بڑھ کر 146 کروڑ سے زیادہ ہو گئی ہے۔

سابق وزیر اعظم نے کابینہ کی سماجی ساخت پر بھی تبصرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نہرو کی کابینہ میں بھارت کی سماجی، ثقافتی اور نسلی تنوع کی مکمل عکاسی نہیں ہوتی تھی اور ان کے آخری دور میں بھی کابینہ میں زیادہ تر اعلیٰ ذاتوں سے تعلق رکھنے والے مرد شامل تھے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ نہرو حکومت نے پسماندہ طبقات کے لیے سفارشات پیش کرنے والے کاکا کیلکر کمیشن کی رپورٹ کو قبول نہیں کیا تھا۔ اس کے برعکس دیوے گوڑا نے موجودہ مرکزی کابینہ کو زیادہ متنوع قرار دیا۔ ان کے مطابق موجودہ کابینہ میں او بی سی، درج فہرست ذاتوں (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کی نمایاں نمائندگی موجود ہے، جبکہ خواتین کی شمولیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے خواتین کے لیے سیاسی نمائندگی بڑھانے کی کوششوں کا بھی حوالہ دیا۔

سوشل میڈیا اور جدید جمہوری ماحول کا ذکر کرتے ہوئے دیوے گوڑا نے کہا کہ آج کا بھارت نہرو کے دور کے مقابلے میں کہیں زیادہ متحرک، باشعور اور تنقیدی مزاج رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہرو کو چند اخبارات کی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جبکہ مودی کو چوبیس گھنٹے سوشل میڈیا، ٹیلی ویژن، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور لاکھوں صارفین کی رائے کا سامنا رہتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ دور میں سیاسی قیادت کے لیے عوامی جانچ پڑتال پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہو چکی ہے۔ مضمون کے اختتام پر دیوے گوڑا نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں بھارت دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی معیشتوں میں شامل ہے۔ انہوں نے فلاحی منصوبوں، قومی سلامتی کے معاملات میں فیصلوں اور عوامی رابطے کے لیے ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کو مودی کی نمایاں کامیابیوں میں شمار کیا۔ ان کے بقول مودی کی کامیابی کا راز ان کا مسلسل خود احتسابی کا عمل، عوام سے رابطہ اور ملک کے لیے غیر مشروط وابستگی ہے، جس نے انہیں ایک طویل اور کامیاب سیاسی سفر طے کرنے میں مدد دی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

World Rhino Day 2026: ورلڈ رائنو ڈے پر پی ایم مودی کا بڑا اعلان، ’پروجیکٹ رائنو‘ شروع، آسام میں دنیا کے 80 فیصد گینڈے

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…

5 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز میں بھارت کا ڈنکا، خواتین ٹیم نے جیتا گولڈ میڈل، وزیر داخلہ امت شاہ نے دی مبارکباد

بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…

5 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: ’مکسڈ مارشل آرٹس میں بھارت کا تاریخی کمال…‘، وزیر اعظم نریندر مودی نے سچیکا تاریال کو دی مبارکباد

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…

6 hours ago