قومی

First Time Income Tax Return Filling: پہلی بار ITR فائل کر رہے ہیں؟ ریٹرن جمع کرانے سے پہلے یہ ضروری باتیں جان لیں، ورنہ پیش آ سکتی ہے مشکل

اگر آپ اس سال پہلی بار انکم ٹیکس ریٹرن (ITR) جمع کرانے جا رہے ہیں تو جلد بازی سے پہلے چند اہم باتوں کو سمجھ لینا آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ درست معلومات کے ساتھ ریٹرن فائل کرنے سے نہ صرف غلطیوں سے بچا جا سکتا ہے بلکہ ٹیکس ریفنڈ حاصل کرنے میں بھی کسی قسم کی دشواری پیش نہیں آتی۔ انکم ٹیکس محکمہ نے مالی سال 2025-26 (اسیسمنٹ ایئر 2026-27) کے لیے ITR-1، ITR-2، ITR-3، ITR-4، ITR-5 اور ITR-7 کے آن لائن فارم اور ایکسل یوٹیلٹی جاری کر دی ہیں۔ صارفین چاہیں تو ایکسل یوٹیلٹی کے ذریعے آف لائن معلومات درج کر کے بعد میں ای-فائلنگ پورٹل پر اپ لوڈ کر سکتے ہیں یا براہِ راست آن لائن ریٹرن بھی جمع کرا سکتے ہیں۔

آخری تاریخ کا انتظار نہ کریں

اس سال بغیر لیٹ فیس کے ITR جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 اگست 2026 مقرر کی گئی ہے۔ ٹیکس ماہرین کے مطابق آخری دنوں میں پورٹل پر زیادہ ٹریفک، تکنیکی خرابیوں اور دستاویزات میں غلطیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، اس لیے بروقت ریٹرن فائل کرنا بہتر فیصلہ ہے۔

کن افراد کے لیے ITR جمع کرانا لازمی ہے؟

اگر آپ کی مجموعی آمدنی انکم ٹیکس محکمہ کی مقررہ حد سے زیادہ ہے تو ITR جمع کرانا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ اگر آپ کے پاس بھارت یا بیرونِ ملک جائیداد ہے، شیئر مارکیٹ یا ESOP میں سرمایہ کاری کی ہے، بینک کھاتوں میں مقررہ حد سے زیادہ رقم جمع ہے، سالانہ بجلی کا بل ایک لاکھ روپے سے زیادہ ہے، بیرونِ ملک سفر پر دو لاکھ روپے سے زیادہ خرچ کیا ہے یا آپ کے کاروبار کا سالانہ ٹرن اوور 60 لاکھ روپے سے زیادہ ہے، تو بھی ریٹرن فائل کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔

ٹیکس کے قابل آمدنی کیسے طے ہوتی ہے؟

ٹیکس کے قابل آمدنی صرف تنخواہ پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ اس میں بینک ایف ڈی کا سود، شیئرز سے حاصل ہونے والا منافع اور دیگر تمام ذرائع سے حاصل آمدنی بھی شامل کی جاتی ہے۔ اس کے بعد پی پی ایف، این پی ایس، لائف انشورنس، ہوم لون اور دیگر ٹیکس بچت اسکیموں کے تحت دستیاب چھوٹ منہا کی جاتی ہے، جس کے بعد باقی رقم پر ٹیکس کا حساب لگایا جاتا ہے۔

پرانا یا نیا ٹیکس نظام، کون سا بہتر؟

ریٹرن فائل کرنے سے پہلے یہ فیصلہ کرنا ضروری ہے کہ آپ کے لیے پرانا ٹیکس نظام بہتر ہے یا نیا۔ اگر آپ نے پی پی ایف، این پی ایس، انشورنس، ہوم لون یا دیگر ٹیکس سیونگ اسکیموں میں سرمایہ کاری کی ہے تو پرانا نظام زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ہے، جبکہ کم سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے نیا ٹیکس نظام بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر فیصلہ کرنے میں دشواری ہو تو آن لائن ٹیکس کیلکولیٹر یا کسی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سے مشورہ لینا مناسب رہے گا۔

یہ دستاویزات پہلے سے تیار رکھیں

پہلی بار ITR فائل کرنے والوں کو پین کارڈ، آدھار کارڈ (دونوں کا آپس میں لنک ہونا ضروری ہے)، فارم 16، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات، سرمایہ کاری سے متعلق دستاویزات، پی پی ایف اور این پی ایس کی معلومات، ہوم لون کا انٹرسٹ سرٹیفکیٹ اور انشورنس پریمیم کی رسیدیں اپنے پاس رکھنی چاہئیں۔ اگر مالی سال کے دوران ملازمت تبدیل کی ہو تو پرانے اور نئے دونوں آجر سے حاصل شدہ فارم 16 بھی ساتھ رکھیں۔

فارم 16، فارم 26AS اور AIS کا موازنہ ضرور کریں

فارم 16 میں آپ کی تنخواہ، ٹی ڈی ایس اور ٹیکس کٹوتی کی مکمل تفصیلات ہوتی ہیں، جبکہ فارم 26AS اور اینول انفارمیشن اسٹیٹمنٹ (AIS) میں بینک سود، ڈیویڈنڈ، شیئر لین دین اور دیگر مالی سرگرمیوں کا ریکارڈ درج ہوتا ہے۔ ریٹرن جمع کرانے سے پہلے ان تینوں دستاویزات کا موازنہ کرنا ضروری ہے تاکہ کوئی معلومات رہ نہ جائے۔

درست ITR فارم کا انتخاب کریں

عام تنخواہ دار افراد، جن کی آمدنی صرف تنخواہ، ایک رہائشی مکان اور دیگر عام ذرائع تک محدود ہو، وہ ITR-1 استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر آمدنی میں کیپیٹل گین یا ایک سے زیادہ مکانات شامل ہوں تو ITR-2 مناسب ہے۔ کاروبار یا پیشے سے آمدنی ہونے پر ITR-3 اور تخمینی آمدنی والے کاروباری افراد یا پیشہ ور افراد کے لیے ITR-4 استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر فارم کے انتخاب میں الجھن ہو تو انکم ٹیکس پورٹل پر موجود “Help Me Decide” فیچر سے مدد لی جا سکتی ہے۔

صرف ریٹرن جمع کرانا کافی نہیں

بہت سے لوگ ریٹرن جمع کرانے کے بعد سمجھتے ہیں کہ عمل مکمل ہو گیا، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ ITR فائل کرنے کے بعد 30 دن کے اندر اس کی ای-ویریفکیشن کرنا لازمی ہے، ورنہ ریٹرن نامکمل تصور ہوگا اور ریفنڈ میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ ای-ویریفکیشن آدھار او ٹی پی، نیٹ بینکنگ یا الیکٹرانک ویریفکیشن کوڈ (EVC) کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ جو لوگ آن لائن تصدیق نہیں کرنا چاہتے، وہ دستخط شدہ ITR-V ڈاک کے ذریعے انکم ٹیکس محکمہ کے سینٹرلائزڈ پروسیسنگ سینٹر (CPC)، بنگلورو بھیج کر بھی یہ عمل مکمل کر سکتے ہیں، لیکن یہ بھی ریٹرن جمع کرانے کے 30 دن کے اندر کرنا ضروری ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Adani Ahmedabad Marathon: اڈانی احمد آباد میراتھن کے 10ویں ایڈیشن کی آفیشل جرسی جاری

اڈانی احمد آباد مریاتھن کے 10ویں ایڈیشن کی آفشل جرسی جاری کر دی گئی۔ احمد…

50 minutes ago

Saint Trilochan Darshan Das: روحانیت اور یوگا کا تاریخی سنگم، ہریدوار میں سنت تریلوچن درشن داس اور سوامی رام دیو کی جذباتی ملاقات

پتنجلی یوگ پیٹھ پہنچنے پر سوامی رام دیو جی نے انتہائی احترام اور سادگی کے…

1 hour ago

SP Workers Protest in Delhi: اعظم خان کی حمایت میں دہلی میں ایس پی کارکنوں کا احتجاج، کہا- ’سازش کے تحت درج ہوئے 350 مقدمات

احتجاج کے دوران سماج وادی پارٹی کے لیڈران پی ایم کے نام ایک میمورنڈم بھی…

2 hours ago

Congress leader Rahul Gandhi: دیا جلانے کے لیے پیسے ہیں، ہاسٹل کے لیے کیوں نہیں؟ طلبہ کے بغیر ملک مضبوط نہیں ہو سکتا- راہل گاندھی

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی بات رکھتے ہوئے کہا، ’’حکومت…

2 hours ago