انٹرٹینمنٹ

Actress Who Ruined Her Career:دو بلاک بسٹر فلموں سے شہرت حاصل کرنے والی گریسی سنگھ کا کیریئر ایک غلط فیصلے نے متاثر کر دیا

نئی دہلی : بالی ووڈ میں کئی ایسے اداکار اور اداکارائیں ہیں جنہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز ٹیلی ویژن سے کیا اور بعد میں فلمی دنیا میں کامیابی حاصل کی۔ شاہ رخ خان، سوشانت سنگھ راجپوت اور ودیا بالن ان نمایاں ناموں میں شامل ہیں۔ اسی فہرست میں اداکارہ گریسی سنگھ کا نام بھی آتا ہے، جنہوں نے ابتدا میں شاندار کامیابی حاصل کی، لیکن بعد میں چند غلط فیصلوں کے باعث ان کا فلمی کیریئر زوال کا شکار ہو گیا۔گریسی سنگھ نے صرف 17 برس کی عمر میں ٹی وی انڈسٹری میں قدم رکھا۔ متعدد ٹی وی شوز میں اپنی اداکاری کا لوہا منوانے کے بعد انہوں نے فلموں کا رخ کیا۔ ابتدائی دنوں میں وہ “ہو تو تو” اور “ہم آپ کے دل میں ہیں” جیسی فلموں میں نظر آئیں، لیکن انہیں اصل پہچان عامر خان کی فلم “لگان” سے ملی۔

2001 میں ریلیز ہونے والی “لگان” نہ صرف زبردست کامیاب ثابت ہوئی بلکہ اس سال کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں بھی شامل رہی۔ اس فلم نے گریسی سنگھ کو راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ اس کے بعد وہ سنجے دت کے ساتھ سپر ہٹ فلم “منا بھائی ایم بی بی ایس” میں نظر آئیں، جس نے بھی باکس آفس پر شاندار کامیابی حاصل کی۔ یوں گریسی سنگھ نے مسلسل دو بلاک بسٹر فلموں کے ذریعے خود کو بالی ووڈ کی نمایاں اداکاراؤں میں شامل کر لیا۔ ان کامیابیوں کے بعد ان کا فلمی سفر ڈھلوان پر آ گیا۔ “مسکان”، “شرط”، “وجہ” اور “یہی ہے زندگی” جیسی فلمیں باکس آفس پر ناکام ثابت ہوئیں۔ اس دوران انہوں نے ایک ایسا فیصلہ کیا جسے ان کے کیریئر کی سب سے بڑی غلطی سمجھا جاتا ہے۔

گریسی سنگھ نے کمال راشد خان (کے آر کے) کی فلم “دیش دروہی” میں کام کیا، جو ریلیز کے بعد بری طرح ناکام رہی۔ ناقدین نے فلم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کا منفی اثر گریسی سنگھ کے کیریئر پر بھی پڑا۔ اس کے بعد انہوں نے مزید چند فلموں میں اداکاری کی، لیکن کوئی بھی فلم کامیابی حاصل نہ کر سکی۔مسلسل فلمی ناکامیوں کے بعد گریسی سنگھ نے 2015 میں دوبارہ ٹیلی ویژن کا رخ کیا اور مذہبی ڈرامہ “سنتوشی ماتا” میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس کردار نے انہیں نئی شناخت دی اور ناظرین میں بے حد مقبول بنایا۔ آج بھی ان کے بہت سے مداح انہیں محبت سے “سنتوشی ماں” کے نام سے یاد کرتے ہیں، جبکہ وہ ٹی وی کی دنیا میں اپنی الگ پہچان برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Farewell to Dr. Shams Equbal from the staff of NCPUL: قومی اردو کونسل کے اسٹاف کی جانب سے ڈاکٹر شمس اقبال کو الوداعیہ

ڈاکٹر شمس اقبال نے کونسل کے تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ…

11 minutes ago

Explained: بھارت کے کن انتخابات میں آج بھی بیلٹ پیپر استعمال ہوتے ہیں اور کیوں؟

ای وی ایم کے ساتھ وی وی پی اے ٹی کی پرچیوں کا ملاپ، سیاسی…

1 hour ago