قومی

PM Narendra Modi: وزیر اعظم مودی نے 236 کروڑ کے میگا مشن کا کیا آغاز، کسانوں کی بدلے گی قسمت، جانئے کیسے ہوگا فائدہ

نئی دہلی :بھارت کا شمال مشرقی علاقہ اپنی قدرتی خوبصورتی اور قدرتی وسائل کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، لیکن اب یہ خطہ اپنی منفرد زرعی پیداوار کی وجہ سے عالمی سطح پر نئی شناخت بنانے جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کا فوکس اب شمال مشرقی ریاستوں کو مہنگی زرعی اور باغبانی مصنوعات کا عالمی مرکز بنانے پر ہے۔ اسی وژن کے تحت مرکزی وزیر برائے ترقی شمال مشرقی خطہ جیوتیرادتیہ سندھیا نے تریپورہ کے وزیر اعلیٰ مانک ساہا کی موجودگی میں ایک بڑے اور اہم منصوبے ’مشن کوئین پائن ایپل، تریپورہ‘ کا آغاز کیا ہے۔ اس پروجیکٹ کے لیے حکومت نے 236 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا ہے۔

جی آئی ٹیگ والی کوئین پائن ایپل کو عالمی برانڈ بنانے کی تیاری

مرکزی وزیر جیوتیرادتیہ سندھیا نے مشن کے آغاز کے موقع پر کہا کہ وزیر اعظم مودی کا وژن ہے کہ تریپورہ اور پورے شمال مشرق کی زرعی صلاحیت کو عالمی برانڈ میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشن کا مقصد صرف کسانوں سے اناناس کی کھیتی کر مقامی بازار میں فروخت کروانا نہیں ہے، بلکہ کسانوں کو پیداوار سے لے کر پروسیسنگ، جدید پیکیجنگ، برانڈنگ اور براہِ راست بیرونِ ملک برآمدات تک پوری ویلیو چین کا حصہ بنانا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ جب کسان اس مکمل عمل میں شریک ہوگا تو درمیان کے دلال ختم ہوں گے اور منافع سیدھا کسانوں تک پہنچے گا۔

تین سالہ ماسٹر پلان تیار

تریپورہ کی ’کوئین پائن ایپل‘ اپنی خوشبو، کم ریشے دار ساخت اور شاندار ذائقے کے لیے پوری دنیا میں منفرد مانی جاتی ہے۔ اسے حکومت ہند کی جانب سے جی آئی ٹیگ بھی دیا جا چکا ہے، لیکن مناسب مارکیٹ لنک نہ ہونے کے باعث کسانوں کو اب تک اس کی مناسب قیمت نہیں مل پاتی تھی۔ اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے یہ نیا مشن شروع کیا گیا ہے۔یہ منصوبہ تین سالہ ٹائم لائن کے تحت نافذ ہوگا، جو مالی سال 2026 کی دوسری سہ ماہی سے شروع ہو کر مالی سال 2028 کی چوتھی سہ ماہی تک جاری رہے گا۔ اس مشن کی نگرانی وزارت ترقیِ شمال مشرقی خطہ کرے گی، جبکہ زراعت، فوڈ پروسیسنگ، تجارت، MSME اور TRIFED سمیت کئی مرکزی وزارتیں اور ایجنسیاں اس میں مل کر کام کریں گی۔

کھیت سے ایئرپورٹ تک ہائی ٹیک انفراسٹرکچر

پائن ایپل کو خراب ہونے سے بچانے اور تازہ حالت میں بیرونِ ملک بھیجنے کے لیے جدید انفراسٹرکچر تیار کیا جا رہا ہے۔اگرتلہ ایئرپورٹ کے قریب ایک بڑا سینٹرل ہب قائم کیا جائے گا، جبکہ مغربی تریپورہ، کھوائی اور سپاہیجلا اضلاع میں آٹھ بڑے کلیکشن سینٹر بھی بنائے جائیں گے۔ان مراکز پر فصل کی گریڈنگ ہوگی اور سولر کولڈ اسٹوریج، ریفر لاجسٹکس اور انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) پر مبنی جدید فارم مانیٹرنگ سسٹم نصب کیے جائیں گے، تاکہ پائن ایپل کے معیار پر ہر وقت نظر رکھی جا سکے۔اس کے علاوہ برسوں سے بند پڑی نلکاٹا پائن ایپل پروسیسنگ یونٹ کو پرائیویٹ شراکت داری کے ذریعے دوبارہ فعال بنایا جائے گا، جہاں اناناس سے متعلق مختلف مصنوعات تیار کی جائیں گی۔

کچرے سے بھی ہوگی بڑی کمائی

اس مشن کی سب سے خاص بات ’ویسٹ ٹو ویلتھ‘ یعنی کچرے سے دولت بنانے کا تصور ہے۔ عام طور پر پائن ایپل کے پودے کا تقریباً 60 فیصد حصہ پھل توڑنے کے بعد ضائع کر دیا جاتا ہے، لیکن اب اس باقی ماندہ حصے کو بھی استعمال کیا جائے گا۔حکومت اس فضلے سے ’برومیلین‘ نامی خاص اینزائم نکالے گی اور پائن ایپل لیف فائبر تیار کرے گی۔ اس فائبر سے کپڑے اور جی آئی برانڈڈ ہینڈی کرافٹ مصنوعات بنائی جائیں گی۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

JAISHANKAR SLAMS PAKISTAN AT UN: ’ایک دہشت گرد ملک مجھ سے یہ سوال پوچھ رہا ہے…‘ UNGA میں ایس جے شنکر کا پاکستان پر دوٹوک جواب، ویڈیو وائرل

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 81 ویں اجلاس کے دوران، وزیر…

15 minutes ago

Sikkim Rimbi Landslide: سکّم میں بارش کا قہر، ملبے کی زد میں گھر اور سڑکیں، 32 مکانات اب بھی خطرے میں

گلیشنگ ضلع کے رمبی گاؤں میں دیر رات بڑا لینڈ سلائیڈ، 2 مکانات مکمل طور…

17 minutes ago

CEC Gyanesh Kumar Dispute: انتخابی کمیشن کے وہ 2 افسر جنہوں نے فیصلوں پر اٹھائے سوال، جانیے سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کی پوری پروفائل

انتخابی کمیشن کے اندر فیصلوں سے متعلق اختلافات کی رپورٹ کے بعد دونوں الیکشن کمشنر…

1 hour ago