ملک کی راجدھانی دہلی میں نقلی ادویات کے ایک بڑے اور خطرناک ریکٹ کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد صحت کے شعبے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے ایک منظم کارروائی کرتے ہوئے چار ملزمان کو گرفتار کیا ہے اور ان کے قبضے سے تقریباً 90 ہزار جعلی ادویات برآمد کی ہیں، جن کی مالیت پانچ کروڑ روپے سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق یہ نقلی دوائیں کینسر، دمہ، ریبیز، انسولین، ہیپاٹائٹس، وٹامن ڈی اور دیگر سنگین بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی اصل ادویات کی نقل تھیں، جنہیں نہایت پیشہ ورانہ انداز میں تیار کر کے مختلف ریاستوں اور بیرون ملک تک سپلائی کیا جا رہا تھا۔ کرائم برانچ کے مطابق اس پورے نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ منوج جین نامی شخص تھا، جو یہ طے کرتا تھا کہ جعلی دوائیں کہاں تیار ہوں گی اور کن علاقوں میں بھیجی جائیں گی۔ گرفتار دیگر ملزمان میں راجو، وکرم سنگھ اور وطن شامل ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ خفیہ اطلاع موصول ہونے کے بعد 23 اپریل کو مکھرجی نگر کے اندرا وکاس علاقے میں ایک پلاٹ پر چھاپہ مارا گیا، جہاں خفیہ طور پر جعلی ادویات تیار کی جا رہی تھیں۔
چھاپے کے دوران پولیس کو بھاری مقدار میں جعلی ادویات، پیکنگ مشینیں، جعلی لیبل، ریپر، کیمیکل اور دیگر سامان ملا۔ موقع سے منوج جین کو گرفتار کر لیا گیا، جس نے پوچھ گچھ کے دوران کئی اہم انکشافات کیے۔ اس کی نشاندہی پر پولیس نے دیگر مقامات پر کارروائی کرتے ہوئے باقی ملزمان کو بھی حراست میں لے لیا۔ حکام کے مطابق اس گینگ نے دواؤں کی پیکنگ اس قدر مہارت سے کی تھی کہ عام لوگ ہی نہیں بلکہ کئی میڈیکل اسٹور مالکان بھی اصلی اور نقلی دوا میں فرق نہیں کر پاتے تھے۔ برآمد شدہ ادویات میں کینسر تھراپی کے لیے استعمال ہونے والے کیپسول، ریبیز ویکسین، انسولین، وٹامن ڈی انجیکشن، جگر اور پتھری کے علاج کی دوائیں، اینٹی بایوٹک اور دمہ کی ادویات شامل ہیں۔ پولیس حکام نے خبردار کیا کہ اگر یہ جعلی دوائیں مریضوں تک پہنچ جاتیں تو کئی افراد کی جان خطرے میں پڑ سکتی تھی، کیونکہ ان میں استعمال ہونے والے کیمیکل انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتے تھے۔
تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہ نیٹ ورک صرف دہلی تک محدود نہیں تھا بلکہ کولکاتا، گوہاٹی، امپھال اور شمال مشرقی ریاستوں تک اس کا دائرہ پھیلا ہوا تھا۔ پولیس کو ایسے شواہد بھی ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ بین الاقوامی سرحد کے ذریعے جعلی ادویات میانمار تک بھی پہنچائی جا رہی تھیں۔ اس انکشاف کے بعد معاملہ مزید سنگین ہو گیا ہے اور مرکزی ایجنسیاں بھی حرکت میں آ گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق ابتدائی جانچ میں حوالہ کے ذریعے رقم کی لین دین کے آثار بھی ملے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مالی جرائم سے متعلق ایجنسیاں بھی اس معاملے کی تفتیش میں شامل ہو سکتی ہیں۔ کرائم برانچ اب اس پورے سپلائی نیٹ ورک کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس دھندے میں اور کون کون لوگ شامل تھے اور جعلی دوائیں کن اسپتالوں، میڈیکل اسٹورز اور سپلائی چینلز کے ذریعے مریضوں تک پہنچ رہی تھیں۔
تفتیش میں منوج جین نے انکشاف کیا کہ کورونا وبا کے دوران وہ منی پور میں ماسک اور ہینڈ گلوز سپلائی کرنے کا کام کرتا تھا، لیکن کاروبار میں نقصان کے بعد دہلی آ گیا۔ یہاں اس کی ملاقات راجو سے ہوئی اور دونوں نے مل کر نقلی ادویات کا کاروبار شروع کیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان اصلی ادویات کی نقل تیار کر کے انہیں دوبارہ پیک کرتے اور مختلف ریاستوں میں بھیج دیتے تھے۔ تحقیقات کے دوران اتر پردیش اور پریاگ راج سے تعلق رکھنے والے کچھ دیگر افراد کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ہی مزید گرفتاریاں ہو سکتی ہیں۔ طبی ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ادویات خریدتے وقت احتیاط برتیں، بل ضرور لیں اور صرف معتبر میڈیکل اسٹورز سے ہی دوائیں خریدیں تاکہ کسی بھی خطرناک صورتحال سے بچا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…