قومی

Fact check, biryani drain water viral video: کیا واقعی نالے کے پانی سے بنائی جا رہی ہے بریانی؟ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کی خوفناک حقیقت  آئی سامنے

سوشل میڈیا کے اس دور میں ہم جو کچھ دیکھتے ہیں، اس پر آنکھ بند کر کے یقین کرنا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے، اس کی ایک تازہ مثال حال ہی میں سامنے آئی ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہی ہے، جسے دیکھ کر کسی کا بھی دل متلا سکتا ہے۔ ویڈیو میں ایک شخص گندے نالے سے پانی نکال کر بریانی کے ایک بڑے برتن میں ڈالتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ جیسے ہی یہ ویڈیو منظرِ عام پر آئی، لوگوں نے اسے فرقہ وارانہ رنگ دینا شروع کر دیا اور ایک خاص برادری کو نشانہ بناتے ہوئے نازیبا تبصروں کی بھرمار ہو گئی۔ لیکن کیا واقعی کوئی انسان سرِعام اتنی گھناؤنی حرکت کر سکتا ہے؟ جب اس ویڈیو کی گہرائی سے جانچ کی گئی تو جو حقیقت سامنے آئی، وہ چونکا دینے والی ہے۔

فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کی سازش

19 دسمبر 2025 کو ایک صارف نے ایکس (ٹوئٹر) پر یہ ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ’’بریانی کھانے والوں کے لیے یہ ایک اچھا ویڈیو ہے، یہ قوم کبھی نہیں سدھرے گی۔‘‘اسی طرح کے اشتعال انگیز کیپشن کے ساتھ ویڈیو کو بار بار شیئر کیا گیا، تاکہ سماج میں نفرت اور خوف کا ماحول پیدا کیا جا سکے۔ لوگ حقیقت جانے بغیر غصے کا اظہار کرنے لگے اور اسے ’خوراک کی پاکیزگی‘ کے مسئلے سے جوڑ کر پیش کیا جانے لگا۔

فیکٹ چیک میں جھوٹ کا پول کھل گیا

جب پی ٹی آئی کی فیکٹ چیک ٹیم نے اس ویڈیو کی جانچ شروع کی تو سب سے پہلے چند بنیادی سوالات سامنے آئے۔ ویڈیو کو غور سے دیکھنے پر کچھ عجیب باتیں نظر آئیں، جیسے پانی کے بہاؤ کی غیر فطری شکل اور شخص کے ہاتھوں کی حرکات کا مصنوعی لگنا۔ مزید تحقیق کے لیے گوگل پر متعلقہ کی ورڈز کے ذریعے ایسی کسی حقیقی واردات کی تلاش کی گئی، لیکن پورے ملک میں کہیں بھی اس طرح کے واقعے کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے ویڈیو کو Hive Moderation جیسے جدید AI ڈیٹیکشن ٹولز پر اسکین کیا گیا۔ نتائج چونکا دینے والے تھے—یہ ویڈیو 99 فیصد AI سے تیار کردہ پایا گیا۔ یعنی حقیقت میں ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا؛ اس ویڈیو کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے محض گمراہ کن پروپیگنڈا اور نفرت پھیلانے کے لیے بنایا گیا ہے۔

ہوشیار رہیں! آپ بھی نشانہ بن سکتے ہیں

آج کے دور میں AI اس قدر جدید ہو چکا ہے کہ اصلی اور نقلی میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ڈیپ فیک اور AI ویڈیوز کا استعمال اب صرف تفریح تک محدود نہیں رہا بلکہ فرقہ وارانہ کشیدگی اور سماجی عدم استحکام کو ہوا دینے کے لیے بھی کیا جا رہا ہے۔ ہم آپ سے اپیل کرتے ہیں کہ جب بھی ایسا کوئی مشکوک ویڈیو سامنے آئے تو اسے شیئر کرنے سے پہلے ایک لمحہ رکیں اور سوچیں: کیا یہ واقعی سچ ہو سکتا ہے؟ کسی بھی خبر کو وائرل کرنے سے پہلے معتبر نیوز ویب سائٹس پر اس کی تصدیق ضرور کریں۔ آپ کی ذرا سی احتیاط معاشرے کو نفرت کی آگ میں جھلسنے سے بچا سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Diwali Celebrations in the US and Canada: امریکہ اور کینیڈا میں دیوالی کی دھوم، نیویارک سے ٹورنٹو تک ، رام لیلا اور آتش بازی سے جگمگائے شہر

کینیڈا کے ٹورنٹو میں جیرارڈ انڈیا بازار کے جیرارڈ اسٹریٹ علاقے میں ہفتے کی شام…

39 minutes ago

PM Modi’s Diwali Message: دیوالی پر وزیر اعظم مودی کا پیغام، بولے- یہ مایوسی پر امید کی ابدی جیت کی علامت ہے

وزیر اعظم مودی نے حکومت ہند کے ’جن سمپرک پورٹل‘ پر جاری اپنے پیغام میں…

2 hours ago

Bank Holiday: آج ہفتہ کو بینک کھلے ہیں یا بند؟ دیوالی سمیت آنے والے دنوں میں بینکوں کی چھٹیوں کی فہرست

 آج بینکنگ کا کام معمول کے مطابق جاری رہے گا۔ ایسے میں عام طور پر…

3 hours ago

Rupee jumps 56 paise to 93.91: ڈالر کے مقابلے روپے میں زبردست تیزی، 56 پیسے مضبوط ہوکر 93.91 پر بند

ڈیلروں کا کہنا تھا کہ غیر ملکی بینک غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کی…

4 hours ago