نئی دہلی: ملک کی ممتاز مرکزی جامعات جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کی تعلیمی پیش رفت، نمایاں کامیابیوں اور مستقبل کی حکمتِ عملی کا جائزہ لینے کے لیے مرکزی وزیرِتعلیم دھرمیندر پردھان کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں تعلیمی فضیلت، تحقیق، اختراع، ادارہ جاتی ترقی اور ’’وکست بھارت 2047‘‘ کے قومی وژن کے تناظر میں ان جامعات کے کردار پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں مرکزی جامعات کے ایڈیشنل سکریٹریز، تینوں یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، نیشنل کمیشن فار مائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز کے قائم مقام چیئرمین پروفیسر (ڈاکٹر) شاہد اختر اور وزارتِ تعلیم کے سینئر حکام شریک ہوئے۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اقلیتی تعلیمی ادارے نہ صرف اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ ملک کی ہمہ جہت ترقی اور سماجی ہم آہنگی کے قیام میں بھی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
تعلیمی فضیلت اور تحقیق کو نئی رفتار دینے پر زور
اجلاس کو انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے شرکاء نے اعلیٰ تعلیم کے معیار کو مزید بہتر بنانے، تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے، اختراعی منصوبوں کی حوصلہ افزائی اور ادارہ جاتی ترقی کے عمل کو تیز کرنے پر زور دیا۔ اس موقع پر قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) کے مطابق جامعات کو مزید مستحکم بنانے اور طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیم فراہم کرنے کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
پروفیسر شاہد اختر کا اہم کردار
اجلاس میں پروفیسر (ڈاکٹر) شاہد اختر نے اقلیتی تعلیمی اداروں کے استحکام، معیارِ تعلیم میں بہتری اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ سے متعلق اہم نکات پیش کیے۔ وہ اس وقت این سی ایم ای آئی کے قائم مقام چیئرمین ہونے کے ساتھ ساتھ اے ایم یو کی ایگزیکٹو کونسل میں صدرِ جمہوریہ کے نامزد رکن بھی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور ہم آہنگ معاشرے کی تشکیل کے لیے اقلیتی تعلیمی اداروں کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تینوں وائس چانسلرز نے ادارہ جاتی ترقی کا خاکہ پیش کیا
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف نے ہندوستانی زبانوں اور بھارتی علمی روایت کے فروغ کو وکست بھارت کے وژن کا اہم حصہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی علمی نظام کو مزید مضبوط بنا کر نوجوان نسل کو اپنی تہذیبی اور فکری بنیادوں سے جوڑا جا سکتا ہے۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے یونیورسٹی میں نئے تعلیمی پروگراموں، خواتین کی تعلیم کے فروغ، تحقیقی سرگرمیوں اور مختلف اداروں کے ساتھ اشتراک کے منصوبوں پر روشنی ڈالی۔
جبکہ اے ایم یو کی وائس چانسلر پروفیسر نائمہ خاتون نے یونیورسٹی میں جاری تعلیمی و انتظامی اصلاحات اور جامع ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں شرکاء کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اے ایم یو جدید تقاضوں کے مطابق تعلیمی ماحول کی تشکیل اور طلبہ کو بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔
وکست بھارت کے لیے جامع تعلیمی روڈ میپ
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اے ایم یو، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور مانو کو ملک کی جامع اور شمولیتی ترقی کے مضبوط ستونوں کے طور پر مزید مستحکم کیا جائے گا۔ شرکاء نے اتفاق کیا کہ تعلیمی فضیلت، تحقیق، اختراع اور سماجی ہم آہنگی کو مرکز میں رکھتے ہوئے ’’وکست بھارت 2047‘‘ کے وژن کو عملی شکل دینے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق یہ اجلاس نہ صرف اقلیتی تعلیمی اداروں کی ترقی کے لیے اہم ثابت ہوگا بلکہ ملک میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے بھی ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…
سورو داس نے کہا کہ اگر دہلی پولیس کے پاس ان کے، احتجاج یا سپریم…
پی این بی نے یوزر کو بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغام میں آنے والی ہڑتال کے…
وارانسی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس نوین اروڑہ نے بتایا کہ پولیس نے تقریباً…
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…