قومی

ED Vs West Bengal Govt in SC: آئی پیک ریڈ معاملے میں نیا موڑ: ای ڈی نے سپریم کورٹ میں سی بی آئی جانچ کا کیا مطالبہ، وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور افسران پر سنگین الزامات

کوئلہ بدعنوانی  اور آئی-پیک (I-PAC) فنڈنگ معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور مغربی بنگال حکومت کے درمیان ٹکراؤ اب سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔ ای ڈی نے سپریم کورٹ میں ایک نئی عرضی دائر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر نہایت سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ چھاپے کے دوران وزیر اعلیٰ خود موقع پر پہنچیں اور اہم دستاویزات و الیکٹرانک آلات اپنے ساتھ لے گئیں، جس سے جانچ کا عمل متاثر ہوا۔

وزیر اعلیٰ اور ڈی جی پی کے خلاف ایف آئی آر کی مانگ

ای ڈی نے آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت دائر اپنی عرضی میں مغربی بنگال حکومت، وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، ڈی جی پی راجیو کمار اور پولیس کمشنر منوج کمار کو فریق بنایا ہے۔ ایجنسی نے مطالبہ کیا ہے کہ جانچ میں رکاوٹ ڈالنے اور ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ کے الزامات کے تحت ان اعلیٰ افسران اور وزیر اعلیٰ کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ ای ڈی کے تین افسران نے یہ عرضی دائر کی ہے، جن کا الزام ہے کہ کولکاتا میں تلاشی مہم کے دوران انہیں یرغمال جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اور کام کرنے سے روکا گیا۔

سی بی آئی جانچ کی مانگ

عرضی میں ای ڈی نے الزام لگایا ہے کہ ریاست میں قانون و نظم و نسق کا غلط استعمال کیا گیا۔ ایجنسی کے مطابق، جب معاملہ کلکتہ ہائی کورٹ میں پیش ہونے والا تھا، اس سے پہلے ہی واٹس ایپ پیغامات کے ذریعے حامیوں کو عدالت کے احاطے میں جمع ہونے کی ہدایت دی گئی۔ اس دباؤ کے باعث ہائی کورٹ میں سماعت نہ ہو سکی اور معاملہ 14 جنوری تک ملتوی کر دیا گیا۔ انہی وجوہات کی بنیاد پر ای ڈی نے اب غیر جانبدار جانچ کے لیے معاملہ سی بی آئی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ممتا حکومت کا جوابی وار

دوسری جانب مغربی بنگال حکومت بھی قانونی لڑائی کے لیے تیار نظر آتی ہے۔ ممتا حکومت نے سپریم کورٹ میں ’کیویٹ‘ (Caveat) دائر کر کے اپیل کی ہے کہ ان کا مؤقف سنے بغیر عدالت کوئی یکطرفہ حکم جاری نہ کرے۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومت کی جانب سے ای ڈی کے خلاف دو ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی ہیں۔

پہلی ایف آئی آر: آئی-پیک چیف پراتیک جین کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ ای ڈی افسران چھاپے کی آڑ میں ذاتی دستاویزات اور ڈیٹا لے گئے۔

دوسری ایف آئی آر: ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی جانب سے درج کرائی گئی ہے، جس میں ای ڈی افسران پر لوگوں کو ہراساں کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

آئی-پیک اور کوئلہ گھوٹالے کا کیا ہے تعلق؟

ای ڈی کے مطابق یہ پورا معاملہ کروڑوں روپے کے کوئلہ چوری بدعنوانی سے متعلق ہے۔ الزام ہے کہ جرم سے حاصل شدہ تقریباً 10 کروڑ روپے حوالہ چینلز کے ذریعے سیاسی مشاورتی کمپنی آئی-پیک تک پہنچائے گئے۔ یہ رقم مبینہ طور پر ترنمول کانگریس کی جانب سے 2022 کے گوا اسمبلی انتخابات میں فراہم کی گئی خدمات کے عوض ادا کی گئی تھی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Mirabai Chanu Silver: اب28 سال کا انتظار ختم! میرابائی چانو نے ایشین گیمز میں جیتا تاریخی سلور

ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…

2 hours ago

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

3 hours ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

3 hours ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

4 hours ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

4 hours ago