نئی دہلی :اڈانی فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر پریتی اڈانی نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کے لیے پائیدار ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک آدھی آبادی یعنی خواتین کو معاشی سرگرمیوں میں مکمل طور پر شامل نہ کیا جائے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ خواتین کو ترقی کے عمل سے الگ رکھ کر کوئی بھی قوم دیرپا اقتصادی کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔قومی دارالحکومت نئی دہلی میں اڈانی فاؤنڈیشن کے اشتراک سے منعقدہ ’’وکست ناری، وکست بھارت‘‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کے شاندار تاریخی تجربات سے سبق لیتے ہوئے خواتین کی اس پوشیدہ صلاحیت کو سامنے لانا ہوگا جو اب تک پوری طرح استعمال نہیں ہو سکی۔انہوں نے بتایا کہ دیہی علاقوں میں خواتین کو منظم کر کے ڈیری گروپس قائم کیے گئے ہیں، جن سے اس وقت 3,500 سے زائد خواتین وابستہ ہیں۔ یہ خواتین سالانہ تقریباً 75 لاکھ لیٹر دودھ جمع کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی آمدنی مستحکم ہوئی ہے، معاشی خودمختاری بڑھی ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ ان کا اعتماد مضبوط ہوا ہے۔
تعلیم، ہنر اور خود انحصاری خواتین ترقی کی بنیاد
ڈاکٹر پریتی اڈانی نے کہا کہ ملک کے دور دراز دیہی علاقوں میں آج بھی لڑکیوں کی تعلیم کا معیار انتہائی کم ہے۔ کئی خواتین ایسی ہیں جنہیں اسکول جانے کا موقع تک نہیں ملا، جبکہ اعلیٰ تعلیم ان کے لیے اب بھی ایک خواب ہے۔ ایسے حالات میں تعلیم اور ہنر مندی کی تربیت کو ترجیح دینا ناگزیر ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کا عمل صرف مالی امداد تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے ہمہ جہتی بنانا ہوگا۔ اس میں لڑکیوں کی تعلیم، نوجوان خواتین کی اسکل ٹریننگ، مالی معاونت، ڈیجیٹل خواندگی، صحت کی سہولیات، قیادت کی تربیت اور خواتین کے کاروبار کو منڈیوں سے جوڑنا شامل ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جو لڑکی تعلیم جاری رکھتی ہے اس کی کم عمری میں شادی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں اور وہ بہتر روزگار کے مواقع حاصل کر سکتی ہے۔ صحت، زراعت، ڈیجیٹل خدمات، قابل تجدید توانائی اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں تربیت یافتہ خواتین معاشی طور پر خود کفیل بن سکتی ہیں۔اپنے خطاب میں انہوں نے مرکزی حکومت کی مختلف اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پردھان منتری مدرا یوجنا کے ذریعے چھوٹے کاروباری افراد کو قرض کی سہولت ملی ہے، جبکہ ڈیجیٹل انڈیا مہم نے دور دراز علاقوں تک ڈیجیٹل سہولیات پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی طرح پردھان منتری اجولا یوجنا کے تحت صاف ایندھن کی فراہمی نے لاکھوں خواتین کی صحت اور معیار زندگی میں بہتری لائی ہے۔
ڈاکٹر پریتی اڈانی نے کہا کہ خواتین کی قیادت میں چلنے والے کاروباروں کے لیے صرف قرض کافی نہیں ہوتا بلکہ انہیں تربیت، ڈیجیٹل معلومات، بنیادی ڈھانچہ، رہنمائی اور سازگار ماحول کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ بھارت کی آئندہ ترقی کی داستان خوداعتماد خواتین لکھیں گی جو اسکولوں، تربیتی مراکز، دیہی صنعتوں اور ڈیجیٹل بازاروں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گی۔
بھارت ایکسپریس اردو
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…
جلیل اختر کو 19 جون کو پولیس نے حراست میں لیا تھا، عدالت نے سرکاری…
ٹرانسپورٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ قوانین پر عمل یقینی بنانا ضروری ہے، لیکن ضابطے…
مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو صحافت کی شاندار روایت، بدلتے دور میں اس کے…
13 ستمبر کو بھارت نے پہلا میچ 7 وکٹ سے جیتا، جب کہ دوسرے مقابلے…
’ماحولیات اور آب و ہوا کی حرکیات کا مستقبل‘ کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس،…