ڈاکٹر انگمو نے 2017 میں ایس این ایم اسپتال، لیہ سے وابستہ ہوئیں اور تب سے وہ لداخ کی صحت خدمات کا قیمتی اثاثہ رہی ہیں۔ 2018 سے انہوں نے آنکھوں کے شعبے کی مکمل ذمہ داری خود سنبھالی ہے، جس میں بیرونی اور اندرونی مریضوں کے علاج، متعدد قسم کی ایکسٹرا اور انٹرا آکیولر سرجریز (جن میں ہنگامی آپریشن بھی شامل ہیں) کے ساتھ ریٹینا کے امراض کے لیے انٹراویٹریئل انجیکشن دینا شامل ہے۔ وہ گزشتہ چھ برسوں سے دن رات ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہتی ہیں اور سال میں صرف دو مرتبہ اپنے آبائی علاقے نوبرا ویلی جا پاتی ہیں۔
پسماندہ طبقوں تک رسائی
ڈاکٹر انگمو نے اپنی کلینیکل خدمات سے بڑھ کر لداخ کے دور دراز علاقوں میں معیاری آئی کیئر پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے چانگتھنگ، نوبرا، شام اور کرگل کے علاقوں میں متعدد آؤٹ ریچ اور اسکول اسکریننگ کیمپ منعقد کیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اے ایم ٹی طلبہ کی تعلیم اور نرسنگ اسٹاف و اوپتھلمک اسسٹنٹس کی تربیت کے ذریعے مقامی سطح پر نئی مہارت یافتہ طبی افرادی قوت تیار کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ یہاں تک کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر منتخب ہونے کے باوجود، ڈاکٹر انگمو نے لداخ میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا تاکہ اپنی برادری کی خدمت جاری رکھ سکیں، کیونکہ وہ اس پورے خطے کی واحد آئی اسپیشلسٹ ہیں۔ انہوں نے اب تک تین ہزار سے زیادہ آئی سرجریز انجام دی ہیں، جن سے لداخ میں قابلِ تدارک نابینائی میں نمایاں کمی آئی ہے۔
لداخ کے لیے فخر کا باعث
محکمہ صحت خدمات لداخ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر تاشی تھنلس نے ڈاکٹر موٹوپ انگمو کو اس قومی اعزاز پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ ان کی انتھک خدمت، پیشہ ورانہ مہارت اور کمیونٹی آئی ہیلتھ کے تئیں عزم لداخ سمیت پورے ملک کے صحت کے پیشہ وروں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ شری کلکی دھام کی تعمیر کے لیے انہوں نے…
یوزڑ کو ہونے والی پریشانی کم کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے سرکاری شعبے کے…
اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے صرف 5 ماہ میں پیدا ہونے والا کچرا…
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…