قومی

Milind Deora hits out at Congress: میں نے کانگریس نہیں چھوڑا، کانگریس نے مجھے چھوڑ دیا، سابق مرکزی وزیر ملند دیوڑا کا چھلکا درد، کہا-پارٹی کا ہیومن ریسورس مینجمنٹ مکمل طور پر ہوچکا ہے ناکام

شیوسینا کے راجیہ سبھا رکن اور یو پی اے II میں مرکزی وزیر رہ چکے ملند دیوڑا نے کہا ہے کہ ان کا ماننا ہے کہ انہوں نے کانگریس پارٹی نہیں چھوڑی بلکہ کانگریس نے انہیں چھوڑ دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پارٹی کا ہیومن ریسورس مینجمنٹ جو کبھی اس کی سب سے بڑی طاقت تھا، اب مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ اے این آئی کو دیے گئے انٹرویو میں دیوڑا نے کہا کہ کانگریس نے ایسے وفادار اراکین سے خود کو دور کر لیا ہے جنہوں نے پارٹی کے لیے بے لوث خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا: ’’میں ایمانداری سے کہوں گا… میرا نہیں ماننا کہ میں نے کانگریس چھوڑی، بلکہ کانگریس نے مجھے چھوڑ دیا۔ اس میں بڑا فرق ہے۔‘‘

خاندانی وابستگی اور خدمات

ملند دیوڑا نے جنوری 2024 میں کانگریس سے استعفیٰ دیا، جس کے ساتھ ہی ان کے خاندان کے 55 سالہ تعلق کا اختتام ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان نے ہمیشہ پارٹی کی عزت بڑھائی، کبھی بدنامی کا باعث نہیں بنے، اور قومی، بین الاقوامی اور مقامی سطح پر پارٹی کی مدد کی۔

پارٹی میں ٹیلنٹ منیجمنٹ کی کمی

دیوڑا نے کہا کہ سیاست میں سب سے اہم چیز انسانی وسائل کا بہتر انتظام ہے، لیکن کانگریس اس میں ناکام ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق: ’’ایک وقت میں کانگریس کا ہیومن ریسورس مینجمنٹ عالمی معیار کا تھا، وہ ٹیلنٹ کو سنبھالنا، روکنا اور اپنی طرف متوجہ کرنا جانتی تھی۔ مگر اب یہ نظام بالکل ٹوٹ چکا ہے۔‘‘

’’منموہن اکنامکس‘‘ سے انحراف

ملند دیوڑا نے دعویٰ کیا کہ اقتصادی اور سیاسی میدان میں کانگریس نے اس راستے سے ہٹ کر چلنا شروع کر دیا ہے جو یو پی اے دور میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں اختیار کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا: ’’منموہن اکنامکس سے بھی اور پرانی کانگریس سے بھی نمایاں انحراف ہوا ہے۔‘‘

راہل اور پرینکا سے ملاقات کے سوال پر جواب

پارلیمنٹ میں راہل گاندھی یا پرینکا گاندھی واڈرا سے ملاقات کے سوال پر دیوڑا نے کہا: ’’میں نے انہیں دیکھا ہے، مگر پارلیمنٹ میں ملاقات نہیں ہوئی۔‘‘

سیاسی پس منظر

ملند دیوڑا کے والد مرلی دیوڑا، کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر رہ چکے ہیں اور راجیو گاندھی کے قریبی ساتھی تھے۔ ملند دیوڑا 2004 میں 27 سال کی عمر میں لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے اور یو پی اے II میں وزیرمملکت برائے مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بعد میں وزیرمملکت برائے جہاز رانی بھی رہے۔ وہ ممبئی کانگریس کمیٹی کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ پچھلے سال مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں وہ شیو سینا (یو بی ٹی) کے آدتیہ ٹھاکرے سے 8,000 سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے ہار گئے تھے۔ دیوڑا ان نمایاں نوجوان چہروں میں شامل ہیں جنہوں نے کانگریس سے خود کو الگ کرلیا۔ انہیں میں سے جیوترآدتیہ سندھیا، جتن پرساد اور آر پی این سنگھ بھی شامل ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Ishaan Anand New Coordinator of BSP: آکاش آنند کے بعد اب کون؟ مایاوتی نے 27 سالہ ’نئے چہرے‘ ایشان آنند کو سونپی بسپا کی اہم ذمہ داری

اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے بہوجن سماج پارٹی میں بڑا تنظیمی ردوبدل، مایاوتی نے…

9 minutes ago

National Ayurveda Day 2026: ’دنیا کے لیے پائیدار صحت کا ماڈل ہے بھارت کا آیوروید‘، قومی آیوروید دن پر امت شاہ نے کیا کہا؟

قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…

2 hours ago

Ayushman Bharat 8 Years: ’دنیا کی سب سے بڑی ہیلتھ اسکیم‘، آیوشمان بھارت کے 8 سال مکمل ہونے پر پی ایم مودی نے کیا کہا؟

مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…

2 hours ago