اتر پردیش کے پریاگ راج مہا کمبھ میں آج ایک دھرم سنسد کا انعقاد کیا جانا ہے۔ جس کا بنیادی مقصد سناتن بورڈ کی تشکیل کا مطالبہ کرنا ہے۔ اس دھرم سنسد میں کثیر تعداد میں سادھو سنتوں کی شرکت متوقع ہے۔ تاہم، اکھاڑہ پریشد نے اس سے خود کو الگ کر لیا ہے۔یعنی سناتن بورڈ کے مطالبے پر ہی سادھو سنت دو حصوں میں منقسم ہوچکے ہیں ۔ حالانکہ بڑی تعداد میں سنتوں اور باباؤں کا مطالبہ ہے کہ انہیں مندر کے انتظام پر حق ملنا چاہئے اور اس کیلئے سناتن بورڈ تشکیل دیا جانا چاہئے۔
سنتوں کے مطالبے کے مطابق اس بورڈ میں 13 اکھاڑوں کو اہم ذمہ داریاں دی جائے۔ اس میں 200 بڑے مندر شامل ہوں گے۔ دھرم سنسد کے بعد یہ تجویز مرکز کو بھیجی جائے گی۔ جس میں مطالبہ ہے کہ مندروں کو حکومت کے کنٹرول سے باہر کیا جانا چاہیے۔حالانکہ دھرم سنسد کے انعقاد اور تجویز یا قرارداد کو منظور کرکے مرکز کے پاس بھیجنے سے پہلے ہی اکھاڑا پریشد نے خود کو الگ کرلیا ہےاور اس پروگرام میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اکھڑا پریشد کے صدر مہنت رویندر پوری نے کہا کہ بھیڑ کی وجہ سے اکھاڑا پریشد نے خود کو دھرم سنسد سے دور کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، کتھا واچک دیوکنندن ٹھاکر کے دھرم سنسد کو بلانے پر سنتوں میں پہلے سے ہی اختلاف تھا۔ اب اکھاڑا پریشد نے خود کو دھرم سنسد سے براہ راست دور کر لیا ہے۔ دیوکی نندن ٹھاکر نے سناتن بورڈ کے معاملے پر دھرم سنسد بلائی ہے۔
اس سے پہلے، دیوکی نندن ٹھاکر نے کہا تھا کہ سناتنی جاگ رہے ہیں اور وہ ایک چیز چاہتے ہیں کہ کوئی بھی ان کے عقیدے سے چھیڑ چھاڑ نہ کرے۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اپنی پوجا ،ثقافت کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے، انھوں نے اس دھرم سنسد کے حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھاکہ میں اپنے حقوق، اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی حفاظت اور سناتن کے تحفظ کے لیے اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہوں۔
بھارت ایکسپریس۔
کانگریس لیڈر ادت راج نے سماج میں بڑھتی نفرت اور تلخی پر تشویش ظاہر کرتے…
ہندوستان کی خوردہ مہنگائی کی شرح ستمبر کے 5.54 فیصد سے بڑھ کر 5.93 فیصد…
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین نے وزیر اعظم نریندر…
بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے عمران…
بہار میں این ڈی اے حکومت کے ایک سال مکمل ہونے اور وزیر اعظم نریندر…
کانگریس رکن پارلیمنٹ سکھدیو بھگت نے کہا کہ گزشتہ بار بھی دہلی میں اسی طرح…