قومی

DGCA issues show-cause notice: ڈی جی سی اے کا ایئر انڈیا کے پائلٹ کو شوکاز نوٹس، خرابیوں کے باوجود طیارہ قبول کرنے کا الزام

نئی دہلی: ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) نے ایئر انڈیا کی پروازوں AI-358 اور AI-357 سے متعلق حفاظتی خدشات کے پیش نظر ایک ایئر انڈیا پائلٹ کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔ نوٹس میں طیارے کی روانگی (ڈسپیچ)، منیمم ایکوپمنٹ لسٹ (MEL) کی تعمیل اور فلائٹ کریو کے فیصلوں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ڈی جی سی اے کے مطابق، پائلٹ نے بار بار سامنے آنے والی خرابیوں اور سسٹم کی کارکردگی میں کمی کے باوجود طیارہ قبول کیا۔ اتھارٹی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پرواز AI-358 کے دوران ایک دروازے کے قریب دھوئیں جیسی بو کی اطلاع ملی تھی۔

نوٹس کی تفصیلات

ڈی جی سی اے کے شوکاز نوٹس میں کہا گیا: ’’یہ مشاہدے میں آیا ہے کہ میسرز ایئر انڈیا لمیٹڈ نے پرواز AI-358 (اور اس سے متعلق AI-357 کی کارروائیوں) کے دوران طیارے کی روانگی، MEL کی تعمیل اور فلائٹ کریو کے فیصلوں سے متعلق سنگین حفاظتی خدشات کو جنم دیا۔‘‘ نوٹس میں مزید کہا گیا کہ پرواز AI-358 کے دوران آپریٹنگ کریو کو PACK ACM L اور Pack Mode سے متعلق وارننگز موصول ہوئیں، جبکہ R2 دروازے کے قریب دھوئیں جیسی بو کی بھی اطلاع دی گئی۔ اس کے علاوہ انہی سسٹمز سے متعلق بار بار خرابیوں کا ریکارڈ گزشتہ پانچ سیکٹرز میں درج تھا، جو سسٹم کی پہلے سے موجود خرابی کی نشاندہی کرتا ہے۔

MEL کی خلاف ورزی کا الزام

ڈی جی سی اے کے مطابق، آپریٹنگ کریو نے MEL کی حدود کو مناسب طور پر سمجھے بغیر طیارہ قبول کیا۔ 28 دسمبر کو لوئر رائٹ ری سرکولیشن فین کی حالت MEL کی ’او‘ (O) شرائط کے مطابق نہیں تھی۔ نوٹس میں کہا گیا: ’’طیارہ VT-ANI غیر مطابقت رکھنے والی MEL آئٹمز کے ساتھ روانہ کیا گیا، جو CAR سیکشن 2، سیریز B، پارٹ 1، پیرا 2.2 اور 2.3 کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے باوجود، پروازوں AI-358 اور AI-357 کے پائلٹس، بشمول آپ، نے بار بار خرابیوں اور سسٹم میں موجود کمیوں کے علم کے باوجود طیارہ آپریشن کے لیے قبول کیا۔‘‘ اتھارٹی کے مطابق 28 جون 2025 کو بھی لوئر رائٹ ری سرکولیشن فین سے متعلق MEL ’او‘ شرائط کی عدم تعمیل کی گئی، جو CAR سیکشن 2، سیریز B، پارٹ 1، پیرا 5.3 کی خلاف ورزی ہے۔ مزید یہ کہ کریو MEL کی حدود اور سسٹمز کے باہمی انحصار کو سمجھنے میں ناکام رہا، جو CAR سیکشن 8، سیریز O، پارٹ II، پیرا 3.1.2 کے منافی ہے۔ ساتھ ہی متعدد ناکارہ سسٹمز کے مشترکہ آپریشنل اور حفاظتی اثرات کا مناسب جائزہ بھی نہیں لیا گیا، جیسا کہ پیرا 4.5.1 میں مطلوب ہے۔

14 دن میں جواب طلب

نوٹس میں ہدایت دی گئی ہے کہ پائلٹ اس نوٹس کی وصولی کے 14 دن کے اندر وضاحت پیش کرے کہ مذکورہ خلاف ورزیوں پر ایئرکرافٹ رولز اور سول ایوی ایشن کی ضروریات کے تحت کارروائی کیوں نہ کی جائے۔ مقررہ مدت میں جواب نہ دینے کی صورت میں دستیاب شواہد کی بنیاد پر یکطرفہ فیصلہ کیا جائے گا۔

اس سے قبل 22 دسمبر کو ایئر انڈیا کی ممبئی جانے والی پرواز AI-887 کو تکنیکی خرابی کے باعث اڑان بھرنے کے فوراً بعد احتیاطاً دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے واپس لانا پڑا تھا۔ یہ اقدام معیاری آپریٹنگ طریقۂ کار کے مطابق کیا گیا تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Global Protests: دنیا بھر میں کیوں بھڑک رہا ہے عوامی غصہ؟ فرانس سے امریکہ تک سڑکوں پر اترے لوگ

عالمی سطح پر مہنگائی، بے روزگاری، رہائش کے بحران اور تعلیم سے متعلق مسائل کے…

16 minutes ago

Amit Shah Punjab Visit: منشیات کے بحران اور انتخابی تیاریوں کے درمیان امت شاہ 20 اکتوبر کو پنجاب کا کریں گے دورہ

منشیات کی اسمگلنگ، منظم جرائم اور آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے درمیان مرکزی وزیر…

1 hour ago

Gwalior Tragedy: گوالیار حادثہ: شیٹلا ماتا مندر کے قریب ٹرک کی زد میں آکر 14 افراد ہلاک، امت شاہ نے تعزیت کا کیا اظہار

مدھیہ پردیش کے گوالیار میں شیٹلا ماتا مندر کے قریب ٹرک کی زد میں آکر…

2 hours ago