قومی

Mumbai’s Garib Nagar Demolition: ممبئی کے غریب نگر میں انہدامی کارروائی، مزید گرفتاریاں، متاثرہ خاندانوں کا چھلکا درد، اب سب کچھ ختم ہو گیا ہے

نئی دہلی: باندرہ ایسٹ کے غریب نگر جھگّی بستی علاقے میں ویسٹرن ریلوے کی جانب سے سرکاری زمین کو غیر قانونی قبضے سے خالی کرانے کی مہم پوری شدت سے جاری ہے۔ ملبہ ہٹانے اور انہدامی کارروائی کے ساتھ ساتھ پولیس نے ان افراد کی گرفتاری کی کارروائی بھی تیز کر دی ہے جن پر مبینہ طور پر پتھراؤ اور تشدد میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ اب تک گرفتار افراد کی تعداد 19 تک پہنچ چکی ہے۔ریلوے حکام نے اپنے “ایکس” اکاؤنٹ پر بتایا کہ زمین سے ملبہ ہٹانے کا عمل جاری ہے اور ریلوے کی اہم زمین کو دوبارہ حاصل کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق یہ مہم مستقبل میں ریلوے کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے زمین کی واپسی کے مقصد سے چلائی جا رہی ہے۔ کارروائی کے دوران باندرہ اسٹیشن کے آس پاس کا علاقہ مسلسل کلیئر کیا جا رہا ہے۔

پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے مزید افراد کی شناخت کی جا رہی ہے اور آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔ گرفتار افراد میں ایک نابالغ بھی شامل ہے، جسے اصلاحی مرکز بھیج دیا گیا ہے، جبکہ کئی افراد کو عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل متعدد ملزمان کو 26 مئی تک پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا تھا۔

جھڑپیں، احتجاج اور کشیدگی

یہ کارروائی اس وقت پرتشدد شکل اختیار کر گئی جب مبینہ طور پر ایک مذہبی ڈھانچے کے انہدام پر مقامی افراد نے احتجاج کیا۔ پولیس کے مطابق بھیڑ نے پتھراؤ شروع کر دیا جس کے بعد صورتحال قابو سے باہر ہو گئی اور سکیورٹی فورسز کو ہلکی طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔حکام کے مطابق اس مہم کے دوران اب تک 5000 مربع میٹر سے زائد ریلوے زمین کو تجاوزات سے خالی کرایا جا چکا ہے اور کارروائی جاری ہے۔

ہم نے اپنی زندگی یہاںبنائی تھیں — متاثرہ خاندانوں کی روداد

اس کارروائی کے دوران صرف قانونی کارروائی ہی نہیں بلکہ انسانی المیہ بھی سامنے آیا ہے۔ کئی خاندانوں نے اپنی دہائیوں پر محیط زندگی کے اچانک ختم ہو جانے کا دکھ بیان کیا ہے۔45 سالہ آسیہ بانو، جو 1990 میں بنگلورو سے ممبئی آئی تھیں،انہوں  نے بتایا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ اسی بستی میں تقریباً 40 سال سے رہ رہی تھیں۔ انہدامی کارروائی میں ان کا تین منزلہ گھر بھی منہدم کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ “یہی میرا واحد گھر تھا، ہم نے سالوں میں اسے بنایا تھا، اب سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔”

35 سالہ نازنین انصاری، جو جسمانی طور پر معذور ہیں، انہوں نے  بتایا کہ ان کے خاندان کو نہ تو مناسب اطلاع دی گئی اور نہ ہی متبادل رہائش کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کی گئی۔ ان کے مطابق اب ان کے پاس رہنے کے لیے کوئی جگہ نہیں بچی۔

28 سالہ آفتاب رفیق شیخ، جو کورئیر ڈلیوری کا کام کرتے ہیں، انہو ں نے الزام لگایا کہ پولیس کارروائی کے دوران ان کی بہن زخمی ہو گئی۔  احتجاج کے دوران حالات بگڑنے کے بعد پولیس کارروائی میں ان کے خاندان کو بھی نقصان پہنچا۔انہوں نے کہا کہ وہ احتجاج میں شامل نہیں تھے ،لیکن پھر بھی ان کے اہل خانہ متاثر ہوئے، جس سے ان کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔

صورتحال بدستور کشیدہ

حکام کا کہنا ہے کہ مہم کا مقصد ریلوے زمین کو مکمل طور پر خالی کرانا ہے تاکہ مستقبل کے ترقیاتی منصوبے متاثر نہ ہوں، جبکہ متاثرہ خاندانوں کا مطالبہ ہے کہ انہیں مناسب بازآبادکاری اور متبادل رہائش فراہم کی جائے۔ صورتحال پر پولیس کی نظر مسلسل بنی ہوئی ہے اور کارروائی جاری رہنے کا امکان ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

CEC Gyanesh Kumar: گیانیش کمار کو جانا ہی ہوگا، کانگریس کا مطالبہ، کاکروچ جنتا پارٹی کا آج ختم ہو رہا ہےالٹی میٹم

کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…

2 hours ago

Major Plane Crash in Congo: کانگو میں بڑا طیارہ حادثہ، 2 فوجی افسران سمیت 14 افراد ہلاک

فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…

2 hours ago