نوئیڈا کی ٹاٹا یوریکا پارک سوسائٹی میں پیش آنے والے دردناک حادثے نے سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس واقعے میں نوجوان یووراج مہتااپنی کار سمیت گڑھے میں جا گرا اور مدد کے لیے فون پر اپنے والد کو پکارتا رہا، مگر بروقت ریسکیو نہ ملنے کے باعث اس کی جان چلی گئی۔ اس حادثے کی آنکھوں دیکھی تفصیل فلپ کارٹ کے ڈیلیوری ایجنٹ مونندر نے بیان کی ہے، جس نے جان کی پروا نہ کرتے ہوئے پانی میں چھلانگ لگائی۔ یووراج مہتاکے والد، ریٹائرڈ راجکمار مہتا، کو رات کے وقت اپنے بیٹے کا گھبرایا ہوا فون آیا۔ یووراج بار بار کہہ رہا تھا کہ وہ ڈوب رہا ہے اور اس کی کار نالے میں گر گئی ہے۔ یہ سنتے ہی والد فوراً گھر سے نکلے اور تقریباً آدھے گھنٹے میں جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے دوبارہ فون کیا تو یووراج نے موبائل کی ٹارچ آن کی، جس کی روشنی میں وہ کار کے اوپر لیٹا ہوا دکھائی دیا تاکہ گاڑی کا توازن برقرار رہے۔
ڈیلیوری ایجنٹ مونندر کے مطابق، حادثہ رات تقریباً بارہ بجے پیش آیا تھا ،جب کہ وہ ایک بج کر پینتالیس منٹ کے قریب وہاں پہنچا۔ وہ ایک آرڈر ڈیلیور کرنے جا رہا تھا کہ راستے میں بھیڑ دیکھی۔ گھنے کہرے کی وجہ سے اسے فوراً اندازہ ہو گیا کہ کوئی بڑا حادثہ ہوا ہے۔ جب اس نے لوگوں سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ ایک نوجوان اپنی کار سمیت گڈھے میں گر گیا ہے۔ یہ سنتے ہی اسے پندرہ دن پہلے پیش آنے والا ایک ایسا ہی حادثہ یاد آ گیا، جس میں وہ بروقت پہنچ گیا تھا اور ایک ڈرائیور کی جان بچا لی تھی۔ مونندر نے بتایا کہ موقع پر موجود سرکاری اہلکار سخت گھبرائے ہوئے تھے۔ اس نے ان سے پانی میں اترنے کی اجازت مانگی تو وہ حیران رہ گئے اور پوچھا کہ کیا اسے تیرنا آتا ہے۔ ہاں سننے کے بعد اس نے فوراً کپڑے اتارے، کمر میں رسی باندھی اور تقریباً پچاس میٹر نیچے پانی میں چھلانگ لگا دی۔ اس نے تیس سے چالیس منٹ تک نوجوان کو تلاش کیا، مگر تب تک کافی دیر ہو چکی تھی۔
پولیس نے فوراً فائر بریگیڈ کو بلایا ،جو بیس منٹ میں پہنچ گئی، مگر مونندر کے مطابق اگر کوئی پہلے پانی میں اتر جاتا تو یووراج کی جان بچ سکتی تھی۔ فائر بریگیڈ کے اہلکاروں نے بتایا کہ یووراج نے تقریباً پانچ منٹ پہلے مدد کے لیے چیخنا بند کر دیا تھا، جس کے بعد اس کے بچنے کے امکانات نہایت کم ہو گئے تھے۔ بعد میں ایس ڈی آر ایف کو بلایا گیا جو علی الصبح کشتی کے ساتھ پہنچی، لیکن اس وقت تک نوجوان کو نہیں بچایا جا سکا۔مونندر نے کہا کہ جہاں یہ حادثہ ہوا وہ موڑ انتہائی خطرناک ہے۔ گھنے کہرے میں اگر کوئی انجان شخص وہاں سے گزرے تو اس کے نالے میں گرنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے، کیونکہ وہاں کوئی دیوار یا حفاظتی رکاوٹ موجود نہیں ہے۔ اس حادثے میں سب سے دردناک پہلو یہ رہا کہ پولیس، فائر بریگیڈ اور دیگر محکموں کے درجنوں اہلکار موقع پر موجود تھے، مگر وسائل کی کمی، خطرے کے خوف اور سست نظام کے باعث فوری کارروائی نہ ہو سکی۔ ایک بےبس باپ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بیٹے کو تڑپتا ہوا دیکھتا رہا اور آخرکار یووراج نے دم توڑ دیا۔ یہ واقعہ انتظامی تیاریوں اور ریسکیو نظام پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…