نئی دہلی: اردواکادمی دہلی کا نمایاں سالانہ پروگرام ’’جشنِ اردو‘‘ اس سال بھی بڑی کامیابی کے ساتھ اختتام پذیرہوا۔ سندرنرسری، جوہمایوں کے مقبرے کے قریب دہلی کے اہم تفریحی مقامات میں سے ایک ہے، کے سرسبزوشاداب ماحول میں، مصنوعی نہروں، انواع واقسام کے پھولوں، پیڑ پودوں اوردلکش سبزہ زاروں کے درمیان، اکادمی نے زبان وادب، تہذیب وثقافت اورسوزوسازکا ایک خوبصورت گلستاں سجا دیا۔چارروز تک جاری اس جشن میں روزانہ ہزاروں شائقین نے شرکت کی اوراردوزبان، فنونِ لطیفہ اورموسیقی سے بھرپورلطف اٹھایا۔ جشن کے دوران دوپہر12 بجے سے رات 10 بجے تک مختلف نوعیت کے 7-7 پروگرام پیش کیے گئے۔
15 برسوں سے کامیابی کے ساتھ منعقد ہو رہا ہے جشن اردو
اردواکادمی دہلی کا یہ جشن گزشتہ 15 برسوں سے مسلسل کامیابی کے ساتھ منعقد ہورہا ہے اوراپنی نوعیت میں بے مثال ہے۔ اس میں اسکولی بچوں، کالج کے طلبہ، یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالروں کے ساتھ ساتھ اردو زبان وادب سے وابستہ فنکاراورملک کے معروف گلوکاربھی شریک ہوتے ہیں۔ چوتھے دن کے پہلے پروگرام کا آغازقصہ گوئی سے ہوا، جسے دہلی کے’’ٹیلنٹ گروپ‘‘ نے پیش کیا۔ مرکزی کردارارشاد احمد خوبی نے ادا کیا جبکہ ان کے ساتھ 15 بچوں کا ایک گروپ شریک تھا۔ انھوں نے دہلی کی زبان، گلیوں اوریادوں کوزندہ کرتے ہوئے بچوں کے ذریعے زبان سکھانے والے روایتی کھیلوں کودلچسپ اندازمیں پیش کیا۔ سامعین کی شمولیت نے محفل کومزید پُرلطف بنا دیا۔ بعد ازاں محفلِ ترنگ کے عنوان سے دہلی گھرانے کے معروف موسیقارعمران خان و ہمنوا نے اپنی موسیقی کی حلاوت سے ماحول کو سرشار کردیا۔ اردووراثت کا ایک نادرفن ’’چاربیت‘‘ اب صرف چند شہروں تک محدود رہ گیا ہے، مگراردواکادمی دہلی اس کے فروغ کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’جشنِ اردو‘‘ میں اسے ہمیشہ نمایاں مقام دیا جاتا ہے۔ اس سال ٹونک (راجستھان) سے ’’شانِ ہند‘‘ اور’’ستارۂ ہند‘‘ اکھاڑوں نے شرکت کر کے شاندارمظاہرہ پیش کیا۔
کلاسیکی غزل اورمعروف صوفی کلام سے محظوظ ہوئے سامعین
دوپہرڈھلنے کے ساتھ موسم خوشگوارہوا توبزمِ غزل کے تحت میگھنا متل نے اپنی مخملی آوازمیں کلاسیکی غزلیں اورمعروف صوفی کلام پیش کرکے سامعین کے دل موہ لیے۔ ان کے بعد محفلِ سرورمیں سبحان نیازی (رامپور) اپنے ہمنواؤں کے ساتھ جلوہ گرہوئے اوراپنی کھنک دارآوازسے محفل کو وجد میں ڈال دیا۔ پروگرام کے دوران سامعین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ اردواکادمی کے بہترین انتظام کے باعث تمام پروگرام بروقت اورخوش اسلوبی سے مکمل ہوئے۔ چارروزہ تقریب کے ناظمین ریشماں فاروقی، اطہرسعید اورسلمان سعید نے حاضرین کی دل جوئی اورنظم وضبط برقراررکھنے میں اہم کردارادا کیا۔ جبکہ حفاظتی عملے نے بھی اپنی ذمہ داریاں بخوبی انجام دیں۔
شائقین کے جوش وخروش کا یہ عالم تھا کہ کوئی اپنی نشست چھوڑنے کوتیارنہ تھا۔ ایسے میں سازِدل کے عنوان سے ممتا جوشی نے اپنی جاذبِ دل گائیکی سے محفل کو وجد میں ڈال دیا۔
خوبصورت کتابی وثقافتی بازار کا منظر
اختتامی پروگرام ’’سُروں کے رنگ‘‘ کے تحت ممبئی سے آئے شتج تارے نے اپنی دل کش آوازاورسُروں کے جادوسے محفل کونقطۂ عروج پر پہنچا دیا۔ یوں اردواکادمی دہلی کا یہ چارروزہ ’’جشنِ اردو‘‘ نہایت کامیابی کے ساتھ اپنے اختتام کوپہنچا۔ اس موقع پرایک خوبصورت کتابی و ثقافتی بازاربھی سجایا گیا تھا، جس میں کتابوں کی دکانیں، خطاطی کے اسٹالز، ہینڈی کرافٹ اوردیگر فنون کے نمونے فروخت کے لیے رکھے گئے تھے۔ دہلی کے معروف ذائقوں کے اسٹالزنے بھی عوام کواپنی جانب متوجہ کیا اورشائقین نے خریداری کے ساتھ مختلف ذائقوں سے بھی بھرپورلطف اٹھایا۔
دہلی حکومت نے دی اہم توجہ
یہ شاندارجشن دہلی سرکارکی فن وثقافت کے فروغ کے لیے جاری مسلسل کوششوں کا ثمرہ ہے۔ بالخصوص وزیرِفن وثقافت والسنہ کپل مشرا کی رہنمائی، وزیرِاعلیٰ ریکھا گپتا کی سرپرستی اورسکریٹری محکمۂ فن، ثقافت و السنہ ڈاکٹر رشمی سنگھ (آئی اے ایس) کے فعال تعاون سے یہ پروگرام کامیابی کی نئی بلندیوں تک پہنچا۔ اختتامی دن حکومتِ دہلی کے چیف سکریٹری راجیو ورما بھی موجود رہے اورانھوں نے فنکاروں کا پرتپاک استقبال کیا۔ اردو اکادمی دہلی کا ’’جشنِ اردو‘‘ نہ صرف اردو زبان وادب کی ترویج وترقی کی علامت ہے بلکہ دہلی حکومت کے اُس وژن کی عملی تعبیر بھی ہے، جوفن، ثقافت اورزبانوں کے فروغ کے ذریعہ معاشرتی ہم آہنگی کومضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کو سالگرہ کی مبارکباد دیتے…
مرکزی وزیرامت شاہ کی جانب سے وزیر اعلیٰ دھامی کو سالگرہ کی مبارکباد سوشل میڈیا…
زیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری اطلاع کے مطابق 17 سے 19 ستمبر…
جے پی انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، نوئیڈا میں 28 سے 30 جنوری 2027 تک…
15 ستمبر کی شام شمالی بحیرہ عرب میں بھارتی بحریہ کے ایک فرنٹ لائن جنگی…
اپنے صدارتی خطاب میں جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر پروفیسر (ڈاکٹر) ایم زیڈ عابدین نے…