قومی

Jamia Millia Islamia Protest: دہلی پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کئی طلباء کو حراست میں لے لیا، ان مطالبات کو لے کر کر رہے تھے احتجاج

نئی دہلی: دہلی پولیس نے جمعرات کے روز جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کئی طلباء کو حراست میں لے لیا۔ یہ تمام افراد یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے پی ایچ ڈی طلباء کے خلاف کی گئی تادیبی کارروائی کے خلاف گزشتہ چار روز سے احتجاج کر رہے تھے۔

ان طلباء کے کچھ مطالبات بھی تھے۔ ان مطالبات میں بنیادی طور پر کامریڈ سورو کے خلاف ڈسپلنری کمیٹی کی میٹنگ کے فیصلے کو منسوخ کرنا، طلباء کی آواز اٹھانے پر مختلف طلباء کے خلاف جاری تمام شو کاز نوٹسز کو منسوخ کرنا، 29 اگست 2022 اور 29 نومبر 2024 کو دفتری میمورنڈم کی منسوخی شامل ہے۔

اس کے ساتھ ہی احتجاجی طلباء نے اس نوٹس کو بھی منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا جس میں جامعہ کی دیواروں پر پوسٹر لگانے اور گرافٹی بنانے پر جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔

احتجاج کرنے والے طلباء نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مستقبل میں یونیورسٹی کیمپس میں احتجاج کرنے والے کسی بھی طالب علم کو شوکاز نوٹس جاری نہ کیا جائے۔ ایسا کرنا ان کی آزادی اظہار پر حملہ ثابت ہو گا جسے کسی قیمت پر قبول نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ان تمام مطالبات کو لے کر یونیورسٹی کے طلباء احتجاج کر رہے تھے۔

وہیں، ان طلباء کو ایسے وقت میں حراست میں لیا گیا ہے جب یونیورسٹی کی ڈسپلنری کمیٹی دو پی ایچ ڈی طلباء کے احتجاجی پروگرام کا جائزہ لینے والی ہے۔ طلباء کا کہنا ہے کہ ڈسپلنری کمیٹی کی میٹنگ 25 فروری کو ہونا ہے۔ حالانکہ، ابھی تک یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ساتھ ہی یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ ان طلباء کو کیمپس سے نکال دیا گیا ہے۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر جامعہ یونیورسٹی نے پولیس سے امن و امان برقرار رکھنے کی درخواست کی ہے۔ جامعہ میں ہونے والے مظاہرے کو بائیں بازو سے وابستہ طلبہ تنظیموں کی حمایت حاصل تھی، جن میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن اور آل انڈیا ریوولیوشنری اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن شامل ہیں۔ یہ طلباء جامعہ کے دو پی ایچ ڈی طلباء کے خلاف کی گئی تادیبی کارروائی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان طلباء نے یونیورسٹی کے دیگر قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور ان کے پاس قابل اعتراض اور ممنوعہ اشیاء موجود پائی گئیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے یونیورسٹی املاک کو پہنچنے والے نقصان اور دیوار کی خرابی اور کلاسوں میں خلل ڈالنے پر سخت رویہ اپنایا ہے اور احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں۔ ایسا اس لیے کیا گیا ہے تاکہ یونیورسٹی میں کلاسز اور دیگر تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق چلائی جا سکیں۔

یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے کمیٹی میں طلباء کے مطالبات پر بات کرنے کی کھلی پیشکش کی تھی، اس کے باوجود ان احتجاجی طلباء نے سپروائزر، ڈیپارٹمنٹ ہیڈ اور ڈین سمیت انتظامیہ کی بات سننے اور بات کرنے سے انکار کر دیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح یونیورسٹی انتظامیہ اور پروکٹوریل ٹیم نے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے طلباء کو احتجاجی مقام سے ہٹا دیا۔ فی الحال انہیں کیمپس سے نکال دیا گیا ہے۔

بتا دیں کہ2024 میں، پی ایچ ڈی کے طلباء نے 2019 میں دہلی پولیس کے رویے کے خلاف احتجاج میں ’جامعہ مزاحمتی دن‘ منایا تھا، جس کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے ان طلباء کو وجہ بتاؤ نوٹس بھی جاری کیا تھا، لیکن ان طلباء نے نوٹس کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Sara Tendulkar: سارہ تندولکر کا دلکش انداز، بھابھی کے ساتھ دیے پوز، مداحوں کو گنیش چترتھی کی مبارکباد

سارہ تندولکر نے منگل کی صبح انسٹاگرام پر تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں۔ ان میں…

17 minutes ago

UPI Charge Rule: یو پی آئی کے نئے قواعد، کس سے، کب، کتنا اور کہاں وصول کیا جائے گا چارج؟

حکومت نے واضح کیا ہے کہ تاجر ایم ڈی آر فیس کا بوجھ صارفین پر…

1 hour ago