قومی

Delhi to ban entry of Non-BS-6 vehicles: دہلی میں آلودگی پر قابو پانے کے لیے بڑا فیصلہ، یکم نومبر سے نان-بی ایس-6 مال بردار گاڑیوں پر پابندی

نئی دہلی: دہلی اور این سی آر میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے حکومت نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ یکم نومبر سے قومی دارالحکومت دہلی میں غیر-بی ایس-6 تجارتی مال بردار گاڑیوں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔ یہ حکم فضائی معیار کے انتظامی کمیشن (CAQM) کی ہدایت کے تحت جاری کیا گیا ہے اور دہلی ٹرانسپورٹ محکمے نے اسے نوٹیفائی کیا ہے۔

اس فیصلے کے مطابق اب صرف بی ایس-6، سی این جی، ایل این جی اور الیکٹرک گاڑیوں کو ہی دہلی میں داخلے کی اجازت ہوگی۔ وہیں، بی ایس-4 گاڑیوں کو محدود مدت کے لیے 31 اکتوبر 2026 تک دہلی آنے کی چھوٹ دی گئی ہے۔

سپریم کورٹ کے حکم بعد لیا فیصلہ

یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے حالیہ حکم (26 ستمبر 2025) کے بعد آیا ہے، جس میں عدالت نے دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کی اس درخواست کو منظور کیا تھا جس میں پرانے احکامات کے تحت ضروری اشیاء (جیسے سبزی، دودھ، اناج، انڈے، برف، نمک وغیرہ) لے جانے والی پرانی گاڑیوں کو دی گئی رعایت ختم کرنے کی مانگ کی گئی تھی۔

ایم سی ڈی نے عدالت کو کیا بتیا؟

ایم سی ڈی نے عدالت میں بتایا تھا کہ ان چھوٹوں کی وجہ سے چیک پوسٹوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں، کیونکہ پولیس کو ہر گاڑی کی جسمانی جانچ کرنی پڑتی ہے کہ وہ واقعی ضروری سامان لے جا رہی ہے یا نہیں۔ اس دوران گاڑیوں کے انجن مسلسل چلتے رہتے ہیں، جس سے دھواں اور آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔

عدالت نے کہا تھا کہ صرف دیکھ کر یہ پہچاننا ممکن نہیں کہ گاڑی میں کیا لدا ہے، اس لیے سبھی گاڑیوں کو روک کر چیک کرنا پڑتا ہے، جس سے تاخیر اور آلودگی دونوں بڑھتے ہیں۔ عدالت نے مزید کہا تھا کہ ضروری اشیاء پر لگنے والا اضافی خرچ عام صارفین کو زیادہ متاثر نہیں کرے گا، اس لیے چھوٹ ہٹائی جا سکتی ہے۔

سی اے کیو ایم نے میٹنگ میں کیا کہا؟

سی اے کیو ایم نے اپنی میٹنگ میں کہا کہ دہلی کی سرحدوں پر پرانی مال بردار گاڑیوں کی طویل قطاریں اور ان کا بار بار رکنا، فضائی معیار کو شدید طور پر خراب کر رہا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ یہ فیصلہ دارالحکومت میں آلودگی اور ٹریفک جام دونوں کو کم کرنے میں مدد کرے گا۔

کمیشن نے واضح کیا کہ بی ایس-3 یا اس سے نیچے کے تمام تجارتی وہیکل (ٹرک، میڈیم اور لائٹ گڈز وہیکل) کسی بھی حالت میں دہلی میں داخل نہیں ہو سکیں گے، جس سے آلودگی کے اخراج میں نمایاں کمی آئے گی۔

فیصلے پر سختی سے عمل کرانے کا حکم

تمام متعلقہ محکموں، دہلی ٹرانسپورٹ، دہلی ٹریفک پولیس، این ایچ اے آئی اور این سی آر ریاستوں کے ٹرانسپورٹ محکموں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر سختی سے عمل درآمد کرائیں اور ہر تین ماہ میں پیش رفت رپورٹ کمیشن کو پیش کریں۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Retail Inflation: مہنگائی نے بڑھائی لوگوں کی پریشانی، خوردہ مہنگائی دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچی

ستمبر 2026 میں خوردہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر 5.54 فیصد ہوگئی۔ سبزیوں سمیت کھانے…

10 minutes ago

Delhi Metro Station Closure: دہلی میٹرو اسٹیشن بند کرنے کا فیصلہ کون کرتا ہے؟ جانیں پولیس، ڈی ایم آر سی اور قانون کی مکمل کارروائی

دہلی میں احتجاج اور مارچ کے دوران میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے اچانک…

49 minutes ago