قومی

JNU Clash: جے این یو میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپ، 25 پولیس اہلکار زخمی، 51 طلبہ حراست میں

نئی دہلی: دارالحکومت دہلی میں واقع جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں جمعرات کو طلبہ یونین کی جانب سے نکالے گئے احتجاجی مارچ کے دوران حالات اس وقت کشیدہ ہو گئے جب طلبہ اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپ ہوگئی۔ اس جھڑپ میں کم از کم 25 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 51 طلبہ کو حراست میں لے لیا۔ واقعے کے بعد یونیورسٹی کیمپس اور اطراف کے علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق طلبہ کی بڑی تعداد نے مقررہ اجازت کے بغیر کیمپس سے باہر مارچ کرنے کی کوشش کی، جس کے دوران مظاہرین نے بیریکیڈ توڑ دیے اور پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین نے جوتے، بینرز اور ڈنڈے پھینکے جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ کچھ پولیس اہلکاروں کو دانتوں سے کاٹنے کے واقعات بھی پیش آئے۔ زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔

واقعے کے بعد پولیس نے 51 طلبہ کو حراست میں لے کر وسنت کنج تھانے میں مقدمہ درج کر لیا۔ پولیس کے مطابق طلبہ کے خلاف سرکاری ملازمین کو ڈیوٹی انجام دینے سے روکنے، حملہ کر کے زخمی کرنے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور غیر قانونی اجتماع کرنے جیسی دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پورے واقعے کی تفصیلی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ویڈیو شواہد بھی جمع کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب طلبہ تنظیموں نے پولیس کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ احتجاج پُرامن تھا اور پولیس نے بلا ضرورت طاقت کا استعمال کیا۔ طلبہ کے مطابق مارچ یونیورسٹی کیمپس سے وزارتِ تعلیم تک نکالا جانا تھا تاکہ حالیہ انتظامی فیصلوں کے خلاف آواز بلند کی جا سکے۔ احتجاج کی بنیادی وجہ وائس چانسلر کے حالیہ پوڈکاسٹ بیان کو بتایا جا رہا ہے، جس میں یو جی سی ضوابط کے نفاذ، طلبہ یونین عہدیداروں کی معطلی اور مجوزہ روہت ایکٹ پر تبصرہ کیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جے این یو انتظامیہ نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ کیمپس سے باہر احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاہم اس کے باوجود تقریباً 400 سے 500 طلبہ دوپہر کے وقت جمع ہوگئے اور وزارتِ تعلیم کی جانب پیش قدمی شروع کر دی۔ سہ پہر تقریباً تین بج کر بیس منٹ پر طلبہ نے مرکزی دروازے سے باہر نکلنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں صورتحال بے قابو ہوگئی۔ ادھر جے این یو ٹیچرز ایسوسی ایشن نے پولیس کارروائی پر شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم نے الزام لگایا کہ متعدد طلبہ زخمی ہوئے اور کچھ کو نامعلوم مقامات پر منتقل کیا گیا۔ اساتذہ تنظیم نے حراست میں لیے گئے تمام طلبہ کی فوری رہائی اور واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ واقعے کے بعد کیمپس میں کشیدگی برقرار ہے جبکہ انتظامیہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Riyadh Airport Attack: سعودی عرب کے ریاض ایئرپورٹ پر بھیانک حملہ، 12 افراد ہلاک، 300 سے زائد زخمی، 11 ہندوستانی بھی متاثر

ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے میں بھاری جانی نقصان کی…

8 hours ago

LG Dr. Dinesh Sharma: شری وجئے پورم میں پہلی بار ڈانڈیا مہوتسو کا انعقاد، لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کی شرکت

انڈمان و نکوبار جزائر کے لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے شاردیہ نوراتری کے مبارک…

8 hours ago

LG Inaugurated MT IRIS: انڈمان و نکوبار کے لیفٹیننٹ گورنر نے انڈین آئل کے نئے بارج ’ایم ٹی آئرس‘ کا کیا افتتاح

دور دراز جزائر تک ایندھن کی محفوظ اور قابل اعتماد فراہمی کو ملے گی تقویت،…

8 hours ago

LPU Student Suicide: پنجاب، ایل پی یو کے طالب علم کی خودکشی، پی جی کے کمرے میں پنکھے سے لٹکی ملی لاش، علاقے میں ہلچل

جالندھر میں واقع لوولی پروفیشنل یونیورسٹی (ایل پی یو) کے 21 سالہ طالب علم کی…

8 hours ago