قومی

Delhi HC junks cases against Tablighi Jamaat: تبلیغی جماعت کو عدالت میں ملی بڑی جیت،70لوگوں کے خلاف درج مقدمات کو دہلی ہائی کورٹ نے کیا رد،جانئے کیا ہے معاملہ

دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات، 17 جولائی 2025 کو ایک اہم فیصلے میں مارچ 2020 میں کووڈ-19 کی وبا کے دوران تبلیغی جماعت کے غیر ملکی شرکاء کو پناہ دینے کے الزام میں 70 بھارتی شہریوں کے خلاف درج 16 مقدمات کو رد کر دیاہے۔ جسٹس نینا بنسل کرشنا نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا، “چارج شیٹس رد کی جاتی ہیں۔یہ مقدمات دہلی پولیس کی جانب سے درج کیے گئے تھے، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ملزمان نے نظام الدین مرکز سے آنے والے غیر ملکی شرکاء کو لاک ڈاؤن کے دوران پناہ دے کر کووڈ-19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ پابندیوں کی خلاف ورزی کی۔ عدالت نے وکیل عاصمہ مندلا کی جانب سے دائر 16 درخواستوں پر یہ فیصلہ سنایا، جن میں ایف آئی آرز کو رد کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ تفصیلی فیصلے کا انتظار ہے۔

دہلی پولیس کی مخالفت کے باوجود عدالت کا فیصلہ ملزمان کے حق میں

دہلی پولیس نے ان درخواستوں کی مخالفت کی تھی اور موقف اختیار کیا تھا کہ ملزمان نے نہ صرف لاک ڈاؤن کے دوران نقل و حرکت پر پابندیوں کی خلاف ورزی کی بلکہ غیر ملکی شرکاء کو پناہ دے کر کووڈ-19 کے پھیلاؤ میں کردار ادا کیا۔ پولیس نے کہا تھا کہ یہ غیر ملکی شرکاء نطام الدین مرکز میں منعقدہ تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شریک تھے، جو اس وقت کووڈ-19 کے پھیلاؤ کا ایک بڑا مرکز سمجھا گیا تھا۔ تاہم، عدالت نے پولیس کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ ان الزامات کی قانونی بنیاد ناکافی ہے۔ اس سے قبل بمبئی ہائی کورٹ اور پٹنہ ہائی کورٹ نے بھی اسی طرح کے مقدمات کو رد کیا تھا، یہ کہتے ہوئے کہ غیر ملکی شرکاء کے خلاف ثبوت ناکافی ہیں اور انہیں “بلی کا بکرا” بنایا گیا۔

تبلیغی جماعت کے تناظر میں مقدمات اور میڈیا کی کردار کشی

تبلیغی جماعت کا مارچ 2020 کا اجتماع نظام الدین مرکز میں کووڈ-19 کے ابتدائی دنوں میں تنازع کا باعث بنا تھا، جب اسے وائرس کے پھیلاؤ کا ایک بڑا ذریعہ قرار دیا گیا۔ اس وقت میڈیا کے ایک حصے نے تبلیغی جماعت کے شرکاء، بالخصوص غیر ملکیوں، کے خلاف پروپیگنڈا کیا، جسے بمبئی ہائی کورٹ نے “سیاسی دباؤ” کے تحت کی گئی کارروائی قرار دیا تھا۔ دہلی ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ اس تناظر میں اہم ہے کہ اس نے نہ صرف بھارتی شہریوں کے خلاف مقدمات کو رد کیا بلکہ اس بات کو بھی تقویت دی کہ وبائی امراض کے دوران کسی مخصوص گروہ کو نشانہ بنانا غیر منصفانہ ہو سکتا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے سے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے اور غیر ضروری قانونی کارروائیوں کو روکنے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

Prime Minister Narendra Modi: وزیر اعظم مودی نے سیوا یاترا میں شامل نوجوانوں سے کی بات چیت ، کہا- یہ تجربات انمول ہیں

پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…

36 minutes ago

Utter Pradesh International Trade Showگریٹر نوئیڈا میں میگا ٹریڈ شو، دنیا بھر کے تاجروں کا اجتماع، امت شاہ آج کریں گے شاندار افتتاح

گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…

2 hours ago

DU Financial Support Scheme: دہلی یونیورسٹی کا 100 فیصد فیس معافی کا اعلان، درخواست کے لیے یہ دستاویزات ضروری

دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…

2 hours ago

Uproar over CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار پر ہنگامہ، پروگرام ملتوی، کانگریس کا احتجاج، مہوا موئترا نے تھانے میں درج کرائی شکایت

کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں…

3 hours ago

Delhi SIR: اڈوانی سے لے کر جے شنکر اور کیجریوال تک، حتمی ووٹر فہرست میں ہوں گے شامل VVIPs کے نام، الیکشن کمیشن نے وجہ بتائی

بیشتر معاملات میں ووٹروں کا ریکارڈ 2002 میں دہلی میں ہونے والی گزشتہ SIR کی…

4 hours ago