ممبئی: قومی سلامتی سے متعلق ایک بڑے معاملے میں ممبئی پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں خفیہ چھاپوں کے دوران تین مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جن کا تعلق دہلی میں حال ہی میں پیش آنے والے کار بلاسٹ کیس کے مرکزی ملزم سے بتایا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی خصوصی ٹیم نے انتہائی خاموشی سے چلائی، جس میں تکنیکی نگرانی، لوکیشن ٹریکنگ اور انٹلیجنس ان پٹ کا استعمال کیا گیا۔ ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد ان افراد کو مزید تفتیش کے لیے دہلی منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اہلکاروں کے مطابق گرفتار افراد سوشل میڈیا کی ایک محفوظ اور خفیہ چیٹنگ ایپ کے ذریعے بلاسٹ کیس کے مرکزی ملزم کے رابطے میں تھے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ ان تینوں کا پس منظر بھی معاشی طور پر مستحکم خاندانوں سے ہے، بالکل اسی طرح جیسے اس دہشت گرد نیٹ ورک کے دو اہم افراد ڈاکٹر عمر محمد اور ڈاکٹر مزمل کا تھا۔ حکام نے بتایا کہ ریاست کی کئی دیگر مقامات پر بھی اسی طرح کی تلاشی اور چھاپہ ماری کی کارروائیاں جاری ہیں اور مزید مشتبہ لوگوں کی نشاندہی ہو رہی ہے۔
انکریپٹڈ چیٹ اور اسلحہ سپلائی کے ٹھوس ثبوت
ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی ایجنسیوں کو انکریپٹڈ چیٹس، اسلحہ کی سپلائی اور مالی مدد کے شواہد حاصل ہوئے ہیں، جن سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ نیٹ ورک انتہائی منظم اور تربیت یافتہ تھا، جس کی گرفتاری کے بعد ایک بڑا دہشت گرد منصوبہ ناکام بنایا گیا۔ ایجنسیوں کے مطابق یہ نیٹ ورک اسی ماڈیول سے جڑا ہوا تھا جس میں ڈاکٹر عمر محمد 10 نومبر کو نئی دہلی کے لال قلعہ کے قریب ہونے والے بم دھماکے میں ہلاک ہو گیا تھا۔ اس واقعے میں 13 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ اسی دھماکے کے بعد مرکزی اور ریاستی سیکیورٹی اداروں نے بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق عمر محمد نے تین ماہ قبل سِگنل ایپ پر ایک انکریپٹڈ گروپ بنایا تھا، جس کا نام مخصوص نشانات اور غیر معمولی حروف کی مدد سے رکھا گیا تھا تاکہ کسی بھی انٹیلیجنس نگرانی سے بچا جا سکے۔ اس گروپ میں مزمل، عادل راتھر، مظفر راتھراور مولوی عرفان احمد واغے کو شامل کیا گیا تھا۔ یہی گروپ نیٹ ورک کا بنیادی رابطہ اور ہدایات کا ذریعہ تھا۔
اسلحہ کی فراہمی اور مالی تعاون کی تفصیلات
تفتیش کے دوران اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ڈاکٹر شاہین شاہد کی کار سے ایک اسالٹ رائفل اور پستول برآمد ہوئی۔ ایجنسیوں کی رائے ہے کہ یہ اسلحہ عمر محمد نے رواں سال عرفان کے حوالے کیا تھا۔ شاہین نے اعتراف کیا ہے کہ وہ مزمل کے ساتھ عرفان کے کمرے میں ان ہتھیاروں کو پہلے بھی دیکھ چکی ہے۔ شبہ ہے کہ ماڈیول میں مالی معاونت کا بڑا حصہ شاہین ہی فراہم کر رہی تھی۔ تحقیقاتی حکام کے مطابق تینوں ڈاکٹر عمر، مزمل اور شاہین فنڈنگ اور حکمت عملی کے ذمہ دار تھے، جبکہ عرفان کی ذمہ داری کشمیر کے نوجوانوں کو بھرتی کرنا تھی۔ عرفان نے ہی گرفتار ہونے والے دو نوجوان عارف نثار ڈار عرف ساحل اور یاسرالاشرف کو تنظیم میں شامل کیا تھا۔
اسلحہ کی آمدورفت کی خفیہ سرگرمیاں
تحقیقات میں ایسے شواہد بھی ملے ہیں کہ گزشتہ برس اکتوبر اور نومبر کے دوران کئی بار اسلحہ خفیہ طریقے سے منتقل کیا گیا۔ اکتوبر 2023 میں عادل اور عمر ایک مسجد میں عرفان سے ملے اور وہاں ایک بیگ میں چھپی رائفل کی بیرل صاف کی گئی۔ بعدازاں نومبر میں بھی عادل عرفان کے گھر ایک اور رائفل لایا، اسی دن مزمل اور شاہین بھی وہاں پہنچے۔ اگلے روز عادل ہتھیار واپس لینے آیا۔
فریدآباد نیٹ ورک سے براہ راست تعلق
یہ ماڈیول فریدآباد میں قائم اس نیٹ ورک سے جڑا تھا جسے 9 نومبر کو بے نقاب کیا گیا تھا، جب پولیس نے ڈاکٹر مزمل کے کرائے کے کمروں سے 2900 کلو دھماکہ خیز مواد اور بارود ضبط کیا۔ 10 نومبر کو جس گاڑی میں لال قلعہ کے قریب دھماکہ ہوا اسے ڈاکٹر عمر خود چلا رہا تھا۔ اسی سانحے کے بعد ایجنسیوں نے ملک بھر میں تعاون سے تحقیقات تیز کیں اور کئی ریاستوں میں چھاپے اب بھی جاری ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…
دہلی کے دیش بندھو گپتا روڈ تھانہ علاقے کے کشن گنج میں 7 سالہ بچی…
صدر جمہوریہ مختلف زمروں کے فاتحین کو دیں گی قومی فلم ایوارڈ، تقریب میں بالی…
فلم ’ہنومان انش‘ کی کامیابی کے بعد پروڈیوسر انوپریا ناگر ایودھیا پہنچیں، جہاں انہوں نے…
’ہندی میری جان 2026‘ کے دوسرے ایڈیشن میں 22 ستمبر کو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر…
راؤز ایونیو کورٹ کے پرانے حکم کو منسوخ کرکے معاملہ دوبارہ مجسٹریٹ عدالت بھیجا گیا،…