قومی

LPG cylinder shortage: ایل پی جی کی مسلسل سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری، بحران کے دوران عام شہریوں کو ترجیح: نتن کھارا

نئی دہلی :ایران میں جنگ کے باعث پیدا ہونے والے عالمی تناؤ کے درمیان ایل پی جی کی سپلائی کو برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ کمپنیوں کی کوششیں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں کانفیڈنس پیٹرولیم انڈیا لمیٹڈ کے چیئرمین نتن کھارا نے نیوز ایجنسی IANS سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی حالات کے باعث سپلائی میں چیلنجز ضرور ہیں، لیکن کمپنی کی اولین ترجیح ملک کے ڈیلرز اور صارفین تک وقت پر گیس پہنچانا ہے۔

نتن کھارا نے بتایا کہ موجودہ صورتحال میں ہر روز سپلائی کی صورتحال کا جائزہ لیا جاتا ہے اور صبح صبح یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ دن بھر گیس کی ترسیل کس طرح یقینی بنائی جائے۔ ملک بھر سے ڈیلرز کے فون مسلسل آتے رہتے ہیں اور کمپنی کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ ہر ڈیلر تک گیس بروقت پہنچے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ  گیس کی محدود دستیابی کے سبب بعض چیلنجز درپیش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایل پی جی درآمد کرنے والی کمپنیوں کے لیے ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ دو ایل پی جی ویزل بندرگاہ کے قریب رکے ہوئے ہیں، جو نہ تو اندر آ پا رہے ہیں اور نہ باہر جا پا رہے ہیں، جس کی وجہ سے باقاعدہ سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔

عام طور پر کمپنی ہر ماہ تقریباً 40,000 میٹرک ٹن ایل پی جی درآمد کرتی ہے، لیکن موجودہ حالات کی وجہ سے اس میں رکاوٹ آئی ہے۔ فی الحال تقریباً 11,200 میٹرک ٹن ایل پی جی کا ایک ویزل بھارت پہنچ چکا ہے۔ نتن کھارا کے مطابق اس شپمنٹ میں سے تقریباً 850 میٹرک ٹن گیس کو خالی کرنے کا منصوبہ تھا، جب کہ باقی گیس ملیشیا کی کمپنی ایکوئنور کے ساتھ کیے گئے کمٹمنٹ کے تحت فراہم کی جانی تھی۔

کئی ڈیلرز نے کمپنی سے درخواست کی کہ یہ گیس بھارت کے شہریوں اور گھریلویوزر کو ترجیحی طور پر فراہم کی جائے۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کمپنی نے فیصلہ کیا کہ دستیاب گیس کا زیادہ تر استعمال ملک میں ہی کیا جائے تاکہ عوام کو ریلیف ملے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے بھی یہی سفارش کی گئی کہ گیس مقامی سطح پر فراہم کی جائے تاکہ سپلائی نظام مستحکم ہو۔

نتن کھارا نے بتایا کہ اگر یہ ایل پی جی ملک میں دستیاب ہو جائے تو تقریباً 12 سے 13 دن اضافی گیس کی سپلائی ممکن ہے، جس سے مارکیٹ میں ریلیف کی توقع کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات اور جنگ کی وجہ سے سپلائی متاثر ہوئی ہے اور اگر آج ہی حالات معمول پر آجائیں، تب بھی پورے عمل کو معمول پر آنے میں تقریباً چار ماہ لگ سکتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کئی ریفائنریز کو نقصان پہنچا، جس سے پیداوار متاثر ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے ریفائنریز میں پیداوار شروع ہوگی، پھر اس گیس کو ویزل کے ذریعے ملک اور دیگر ممالک تک پہنچایا جائے گا۔ موجودہ وقت میں ویزل کی کمی بھی سپلائی کے عمل کو متاثر کر رہی ہے، اور پیداوار، نقل و حمل اور تقسیم کے پورے عمل کو معمول پر آنے میں وقت لگے گا۔

نتن کھارا نے یقین دلایا کہ تمام متعلقہ کمپنیاں اور حکومتیں مل کر صورتحال کو جلد از جلد معمول پر لانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق کمپنی کی سب سے بڑی ترجیح یہی ہے کہ ملک کے عام شہریوں تک ایل پی جی کی سپلائی برقرار رہے اور وہ کسی پریشانی کا سامنا نہ کریں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Strait Of Hormuz: آبنائے ہرمز کے قریب بحری سرنگ سے ٹکرا کر تیل کے جہاز میں لگی آگ، ایران کا دعویٰ

ایرانی بحریہ نے تیل بردار جہاز کو ’خلاف ورزی کرنے والا‘ جہاز قرار دیا۔ بیان…

23 minutes ago

President Murmu Extends Diwali Wishes: صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی دیوالی پر مبارک باد، نوجوانوں سے ’وکست بھارت‘ کی تعمیر میں حصہ لینے کی اپیل

صدر جمہوریہ نے کہا کہ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار نوجوان ہندوستانی اقدار کو…

38 minutes ago

Indresh Kumar Raises Questions: سونیا گاندھی کے الزامات احمقانہ اور نامناسب… راہل اور اکھلیش کو بھی عقل و سمجھ عطا ہو: اندریش کمار

اندریش کمار نے سونیا گاندھی کی کتاب پر اٹھائے سوالات، راہل گاندھی پر بھی تنقید،…

3 hours ago