قومی

Bihar Electoral Revision Row: ’’بہار میں ووٹر لسٹ سے ووٹروں کو ہٹانے کی سازش…بی ایل او کو گاؤں میں داخل نہیں ہونے دیں گے…‘‘، پپو یادو کا بڑا بیان

دہلی: بہار اسمبلی انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کو لے کر سیاست تیز ہوگئی ہے۔ الیکشن کمیشن کی اس مہم پر اپوزیشن لیڈر سوال اٹھا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں پورنیہ لوک سبھا سیٹ کے ایم پی پپو یادو نے ووٹر کی تصدیق پر مرکز اور الیکشن کمیشن کو جم کر گھیرا۔ انہوں نے اسے ایک سازش قرار دیا۔

بہاریوں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک

خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کے ساتھ خصوصی بات چیت میں پپو یادو نے دعویٰ کیا کہ بہار میں تقریباً 8 کروڑ ووٹرز میں سے تقریباً 4 کروڑ ووٹرز کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹانے کی تیاری ہے۔ انہوں نے اسے غریبوں، دلتوں اور محروم طبقات کے خلاف سازش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ذات پر نہیں بلکہ غریبوں اور بہاریوں پر حملہ ہے۔ یہ لوگ بہار کے دشمن ہیں۔ گجرات میں ہمیں مارا پیٹا گیا، آسام میں ذلیل کیا گیا۔ پورے ملک میں بہاریوں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔

بی ایل اوز کے خلاف کارروائی کی دھمکی

انہوں نے ووٹر کی تصدیق کے عمل میں تعینات بی ایل اوز (بوتھ لیول آفیسرز) کے خلاف کارروائی کرنے کی دھمکی بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ بی ایل اوز کو گاؤں میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ہم نے ہر گاؤں میں جا کر ان سے کہا ہے کہ بی ایل او کو کوئی دستاویزات نہ دیں۔ اگر ضروری ہو تو انہیں گاؤں سے نکال دو۔ یہ جمہوریت کا قتل کرنے کی تیاری ہے۔

اپوزیشن کو جوش اور جذبہ کی ضرورت

پپو یادو نے مرکزی حکومت پر تنقیدی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت آئین کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے اور ہندوستان کے جمہوری نظام کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابا صاحب امبیڈکر، منوسمرتی، منڈل کمیشن، وی پی سنگھ اور کرپوری جی کی حکومت، ریزرویشن تک، ان کے 11 سال کے دور کو یاد کریں۔ یہ حکومت کسان مخالف، خواتین مخالف اور نوجوان مخالف ہے۔ بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد، سبھاش چندر بوس، منگل پانڈے، راج گرو اور گاندھی جی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج اپوزیشن کو بھی وہی جوش اور جذبہ درکار ہے جو ہمارے آزادی پسندوں میں تھا۔

یہ آزادی کی دوسری جنگ ہے: پپو یادو

پپو یادو نے کہا کہ یہ آزادی کی دوسری جنگ ہے۔ ہمیں عوام کے درمیان جا کر ان کے حقوق کے لیے لڑنا ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو میں اپوزیشن سے درخواست کروں گا کہ وہ سڑکوں پر آکر اس تاناشاہی کے خلاف آواز بلند کریں۔ مہاراشٹرا اور دہلی کے حالیہ انتخابات پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں فرضی ووٹروں کو جوڑا گیا اور شام 6 بجے کے بعد بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے گئے جس سے انتخابی عمل پر شکوک پیدا ہوتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

PM Modi Boosts Morale of Para-Athletes: وزیراعظم مودی نے پیرا ایتھلیٹس کا حوصلہ بڑھایا، کہا-عزم ہو تو کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ عالمی کھیلوں کے میدان میں ہندوستان کی شناخت مسلسل…

9 hours ago

PM Modi to visit Vaishali: بہار میں این ڈی اے حکومت کا ایک سال مکمل، 21 نومبر کو وزیر اعظم مودی کا ویشالی دورہ ممکن، بڑے جشن کی تیاریاں

وزیر اعظم کے مجوزہ بہار دورے اور پروگرام کی تیاریوں کے سلسلے میں جمعرات کو…

9 hours ago

Nepal’s Prime Minister Balen Shah Praises PM Modi: نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے پی ایم مودی کی ستائش کی، بھارت کے تعاون پر ادا کیا شکریہ

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جمعرات کے روز بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے…

10 hours ago