نئی دہلی: لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل پر جاری بحث کے دوران کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ خواتین کو ریزرویشن دینے کا تصور سب سے پہلے کانگریس نے پیش کیا تھا، لیکن اس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایوان میں اس تاریخ کا ذکر تو کیا، مگر یہ نہیں بتایا کہ اس کی مخالفت کس نے کی تھی۔ پرینکا گاندھی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ملک کی سیاسی تاریخ میں خواتین کے لیے ریزرویشن کا تصور ایک اہم اور انوکھا قدم تھا، جسے سب سے پہلے کانگریس نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پنچایتوں اور بلدیاتی اداروں میں 33 فیصد ریزرویشن کا بل بھی راجیو گاندھی کی قیادت میں کانگریس حکومت نے پیش کیا تھا، تاہم اُس وقت یہ قانون منظور نہیں ہو سکا تھا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے آج ایوان میں اس موضوع کا ذکر کیا، لیکن صرف آدھی بات بتائی۔ ”میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ اس وقت اس کی مخالفت بی جے پی نے ہی کی تھی“۔ انہوں نے کہا۔ پرینکا گاندھی نے یہ بھی کہا کہ موجودہ بحث دراصل خواتین کے ریزرویشن پر کم اور دیگر معاملات، خاص طور پر حلقہ بندی، پر زیادہ مرکوز ہے۔ کانگریس کے موقف کو واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ پارٹی خواتین کی سلامتی اور ان کے ریزرویشن کے حق میں پوری مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہے اور مستقبل میں بھی رہے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم کی تقریر سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ بی جے پی ہی خواتین کے ریزرویشن کی سب سے بڑی حامی رہی ہے، حالانکہ تاریخی حقیقت اس کے برعکس ہے۔
پرینکا گاندھی نے کہا کہ اگرچہ وزیر اعظم نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ اس کا کریڈٹ نہیں لینا چاہتے، لیکن ان کی پوری تقریر کا محور یہی تھا کہ حکومت کو اس کا سہرا دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب 2023 میں حکومت نے اس بل کو منظور کیا تو کانگریس نے اس کی مکمل حمایت کی، کیونکہ یہ خواتین کے حقوق کا معاملہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بل میں سیاسی فائدے کے پہلو بھی پوشیدہ ہیں اور حکومت کو اس معاملے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔ پرینکا گاندھی نے زور دے کر کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری کے بغیر حقیقی معنوں میں ریزرویشن کا نفاذ ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ او بی سی ریزرویشن کے مسئلے سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق کانگریس کسی بھی صورت میں او بی سی طبقے کے حقوق کو نظر انداز نہیں ہونے دے گی اور اس معاملے پر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
بحث کے دوران پرینکا گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم اکثر ایوان میں راہل گاندھی کا مذاق اڑاتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ بعد میں ان کی باتوں پر غور بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں خواتین کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اور جامع پالیسی کی ضرورت ہے، نہ کہ سیاسی فائدے کے لیے فیصلے کیے جائیں۔ مجموعی طور پر لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل پر بحث کے دوران سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات واضح طور پر سامنے آئے، تاہم سبھی جماعتیں اصولی طور پر خواتین کے حقوق کے حق میں نظر آئیں، جبکہ اس کے نفاذ کے طریقہ کار پر اختلاف برقرار ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
دو بار کی اولمپک تمغہ جیتنے والی پی وی سندھو نے کمیلا سماگولووا کو یکطرفہ…
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 48000 کروڑ روپے کی لاگت والا یہ منصوبہ آسام میں…
اڈانی احمد آباد مریاتھن کے 10ویں ایڈیشن کی آفشل جرسی جاری کر دی گئی۔ احمد…
پتنجلی یوگ پیٹھ پہنچنے پر سوامی رام دیو جی نے انتہائی احترام اور سادگی کے…
جیت اڈانی نے کہا، ’’اگرچہ وہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیں، لیکن کئی بار ان…
احتجاج کے دوران سماج وادی پارٹی کے لیڈران پی ایم کے نام ایک میمورنڈم بھی…