مہاراشٹرمیں آپریشن ٹائیگرسے متعلق سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہوچکا ہے۔ شیوسینا (یوبی ٹی) گروپ سے باغی ہونے والے 6 اراکین پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ اس پورے معاملے پرکانگریس کے جنرل سکریٹری اور کٹیہارکے رکن پارلیمنٹ طارق انورنے اپنے ردعمل کا اظہارکیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا ہمیشہ ہوتا ہے، جب بھی لوگ پارٹی تبدیل کرتے ہیں توان کووائی پلس سیکورٹی دی جاتی ہے۔ ان کوہرطرح سے نوازا جاتا ہے۔ جمعرات (18 جون) کوکانگریس رکن پارلیمنٹ طارق انورنے مزید کہا، ”سبھی لوگ جانتے ہیں کہ اس میں رقم کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے۔ لوگوں کو اتنی بڑی رقم کی پیشکش کی جاتی ہے، جس سے ان کی ایمانداری ڈگمگا جاتی ہے۔”
ادھوگروپ کے 6 باغی ا راکین کی سیکورٹی میں اضافہ
واضح رہے کہ مہاراشٹرپولیس اورریاستی وزارت داخلہ نے ادھوگروپ کے 6 باغی اراکین پارلیمنٹ کی سیکورٹی کواپ گریڈ کردیا ہے۔ انہیں اب وائی پلس کٹیگری کی سیکورٹی گھیرا دینے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ مہاراشٹرکی وزارت داخلہ کا یہ حکم ریاست کی انٹلی جنس رپورٹ کی بنیاد پرلیا گیا ہے، جس میں ان اراکین پارلیمنٹ کی سیکورٹی کوممکنہ خطرے کے اشارے کے طورپردیا گیا تھا۔
Delhi: On ‘Operation Tiger’, Congress MP Tariq Anwar says, “This has always happened. Whenever people defect, they are given Y-plus security and are rewarded in various ways. Everyone knows that a great deal of money is used in such situations, and people are offered such large… pic.twitter.com/QlrpMyqHrV
— IANS (@ians_india) June 18, 2026
شیوسینا (یوبی ٹی) کے 6 باغی اراکین پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے، ان میں سنجے دینا پاٹل، سنجے دیشمکھ، ناگیش پاٹل اشٹیکر، اوم راجے نمبالکر، بھاوصاحب واک چورے اورسنجے جادھو کے نام شامل بتائے جا رہے ہیں۔ یہ سبھی حال ہی میں پارٹی کی اہم میٹنگ سے ندارد رہے تھے، جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں مزید تیزہوگئیں کہ یہ لیڈرپارٹی سے الگ ہوکرکسی دیگرگروپ میں شامل ہوسکتے ہیں یا نئے سیاسی حالات بناسکتے ہیں۔ حالانکہ ان دعووں کی ابھی تک کسی فریق کی طرف سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ حالانکہ سوشل میڈیا پریہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یوبی ٹی کے باغی 6 اراکین پارلیمنٹ اب ایکناتھ شندے کی شیوسینا میں شامل ہوسکتے ہیں۔
یوپی کے ڈپٹی سی ایم کیشوپرساد موریہ کے بیان پربھی طارق انورنے دیا جواب
اترپردیش کے نائب وزیراعلیٰ کیشوپرساد موریہ کے بیان پرکانگریس رکن پارلیمنٹ طارق انورنے کہا، ”وہاں بھی کوششیں کی جائیں گی، لیکن ہمیں لگتا ہے کہ اکھلیش یادو کی اپنی پارٹی اوراس کے اراکین پرپکڑ بہت مضبوط ہے۔ وہاں شاید یہ اپنی سازش میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
Delhi: On Uttar Pradesh Deputy Chief Minister Keshav Prasad Maurya’s statement, Congress MP Tariq Anwar says, “There may certainly be attempts in that direction. However, we believe that Akhilesh Yadav has a very strong hold over his party and its members. Therefore, it is… pic.twitter.com/CaByBhujAr
— IANS (@ians_india) June 18, 2026
واضح رہے کہ کیشوپرساد موریہ نے دعویٰ کیا تھا کہ مغربی بنگال میں جو حشر ٹی ایم سی کا ہوا، ویسا ہی کچھ حال سماجوادی پارٹی کا بھی ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ 26-25 اراکین پارلیمنٹ ابھی ٹوٹنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ وہیں سہیل دیوبھارتیہ سماج پارٹی کے صدراوریوگی حکومت میں کابینی وزیراوم پرکاش راج بھرنے بھی یہی دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی کی ٹی ایم سی اورادھوٹھاکرے کی شیوسینا کے بعد سماجوادی پارٹی ٹوٹنے کے لئے تیارہے۔ حالانکہ سماجوادی پارٹی نے ان خبروں کومسترد کردیا ہے اورسماجوادی پارٹی کے اراکین کومتحد بتایا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
امریکی حکام کے مطابق روس اور چین جیسے ممالک کی گرین لینڈ میں حساس سرمایہ…
قانون میں امریکا کے یورپی اتحادیوں کو بعض پابندیوں سے بچانے کے لیے بھی گنجائش…
محکمۂ موسمیات کے مطابق اب مانسون کمزور پڑ رہا ہے، جس کے باعث بارش میں…
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…
مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…