ششی تھرور نے اپنے آرٹیکل میں جمہوریت کوہلکے میں نہیں لینے کی بات پرزوردیا۔ انہوں نے اسے ایک ‘بیش قیمتی وراثت’ بتایا، جسے مسلسل محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے وارننگ دی کہ اقتدارکو مرکوزکرنے، اختلاف رائے کودبانے اورآئین کی خلاف ورزی پرعدم اطمینان کئی شکلوں میں دوبارہ جنم لے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکثرایسے اقدامات کو قومی مفاد یا استحکام کے نام پرجائزقراردیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے ایمرجنسی ایک انتباہ کے طورپرکھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے محافظوں کوہمیشہ چوکنا رہنا چاہئے تاکہ دوبارہ ایسے حالات پیدا نہ ہوں۔ قابل ذکرہے کہ ششی تھرورکا یہ مضمون ایمرجنسی کے 50 سال مکمل ہونے کے بعد آیا ہے۔