قومی

Imran Pratapgarhi on Waqf Amendment Bill: کیوں رات کے 2 بجے تک پارلیمنٹ چلا رہے تھے وزیراعظم مودی؟ کانگریس ایم پی عمران پرتاپ گڑھی نے کیا یہ بڑا دعویٰ

Waqf Amendment Bill 2024: بدھ (2 اپریل) کو اپوزیشن کی زبردست ہنگامہ آرائی کے درمیان لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل 2024 منظور کرلیا گیا۔ اس بل سے متعلق اپوزیشن پارٹیوں نے سخت اعتراض ظاہرکیا اورحکومت پرتلخ سوال اٹھائے۔ اس درمیان، کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (ایکس) پرایک ٹوئٹ کرکے وزیراعظم نریندرمودی پرتنقید کی۔

عمران پرتاپ گڑھی نے وزیراعظم مودی پرکی تنقید

 راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے لکھا، “مائی ڈیئرفرینڈ ڈونالڈ ٹرمپ کل رات بھارت پر26 فیصد ٹیرف لگا رہے تھے۔ اس لئے ہمارے وزیر اعظم رات کے 2 بجے تک پارلیمنٹ چلا رہے تھے۔ ضروری مدعوں سے دھیان ہٹانے کے لئے پھرسے مسلمانوں کے نام کا سہارا لینا پڑا حکومت کو۔”

انوکھے اندازمیں کی تھی بل کی مخالفت

اس سے قبل، عمران پرتاپ گڑھی نے انوکھے انداز میں اس بل کی مخالفت کی۔ وہ پارلیمنٹ کے گیٹ پرسیاہ (کالے) کپڑے پہن کراورہاتھ میں بینرلے کر احتجاج کرتے ہوئے نظرآئے۔ ان کے بینرپرلکھا تھا “وقف بل نامنظور”۔ احتجاجی مظاہرہ کے دوران انہوں نے انہوں نے سرپرکالی پٹی بھی باندھ رکھی تھی، جس سے ان کا  احتجاج مزید واضح ہوگیا۔ واضح رہے کہ اپوزیشن کی زبردست مخالفت کے باوجود حکومت نے اس بل کولوک سھا میں منظورکردیا۔ اب دیکھنا ہوگا کہ راجیہ سبھا میں اس پرکیا ردعمل دیکھنے کو ملتا ہے۔

اپوزیشن نے اٹھائے کئی سوال

اپوزیشن نے اس بل سے متعلق کئی اعتراض کئے۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ یہ وقف بورڈوں کی خود مختاری میں مداخلت ہوگی اورمسلمانوں کے مذہبی معاملات میں حکومت کی مداخلت ہوگی۔ اے آئی ایم آئی ایم کے اسد الدین اویسی نے بل کی مخالفت کی اوراپنے خیالات پیش کرنے کے بعد آخرکاربل کی کاپی پھاڑدی۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے بھی حکومت پرکی تنقید

کانگریس رکن پارلیمنٹ گوروگوگوئی نے کہا کہ یہ ایک ایسا بل ہے جوآئین کی بنیادی روح پرحملہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، “آج حکومت کی نظرایک مخصوص برادری کی زمین پرہے، کل ان کی نظریں برادری کی دوسری اقلیتوں کی زمین پرہوں گی، ترامیم کی ضرورت ہے، میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ کوئی ترمیم نہیں ہونی چاہئے۔ ترامیم ایسی ہونی چاہئیں کہ بل مضبوط ہو، ان کی ترامیم سے مسائل اورتنازعات بڑھیں گے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ملک کے کونے کونے میں مقدمات درج ہوں”۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Adani Foundation Story: مشرقی اترپردیش میں سماجی تبدیلی کی نئی عبارت لکھ رہا ہے اڈانی فاؤنڈیشن

ملک بھر میں اڈانی فاؤنڈیشن 19 سے زائد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں…

57 minutes ago

The Signature Award 2026: نودیپ سنگھ کو سپلائر ڈیولپمنٹ میں نمایاں خدمات کے لیے ’دی سگنیچر ایوارڈ 2026‘ سے نوازا گیا

نودیپ سنگھ نے اپنے ہاسپیٹیلٹی کیریئر کا آغاز ہندوستان سے کیا۔ امرتسر سے لندن تک…

3 hours ago