قومی

Waqf Amendment Bill: کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے وقف ترمیمی بل پر بی جے پی کو گھیرا، گنائیں پانچ اہم خامیاں

نئی دہلی: کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر، راجیہ سبھا ایم پی اور جنرل سکریٹری (Communication) جے رام رمیش نے وقف (ترمیمی) بل 2024 کو لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے اس بل کو اقلیتی برادریوں کے خلاف بی جے پی کی ’’حکمت عملی‘‘ کا حصہ قرار دیتے ہوئے اسے آئین اور سماجی ہم آہنگی پر حملہ قرار دیا۔

جے رام رمیش نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ بل ہندوستان کے کثیر مذہبی معاشرے میں ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے، اقلیتوں کو بدنام کرنے اور آئینی حقوق کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اس بل کے ذریعہ سماج کو پولرائز کرکے انتخابی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد اقلیتی برادری کی روایات اور اداروں کو بدنام کرنا بھی ہے، تاکہ معاشرے کو انتخابی فوائد کے لیے مستقل پولرائزیشن کی حالت میں رکھا جاسکے۔

کانگریس لیڈر نے بل کو ’سنگین طور پر عیب دار‘ قرار دیتے ہوئے پانچ بڑی خامیوں کی نشان دہی کرائی۔  پہلا، وقف مینجمنٹ کے اداروں جیسے قومی کونسل، ریاستی بورڈز اور ٹربیونلز کے اختیارات کو محدود کیا جا رہا ہے، تاکہ اقلیتی برادری کو ان کی مذہبی روایات اور مذہبی اداروں پر انتظامی حقوق سے محروم کیا جا سکے۔

دوسرا، وقف کی وضاحت کو جان بوجھ مبہم رکھا گیا ہے۔ اپنی زمین کو کون وقف مقاصد کے لیے عطیہ کر سکتا ہے، یہ واضح نہیں ہے۔ تیسرا، ملک کی عدلیہ کی طرف سے ایک طویل بلاتعطل چلی آ رہی روایت کی بنیاد پر تیار کردہ ”وقف بائی یوزر“ کا تصور ختم کیا جا رہا ہے۔

چوتھا، وقف انتظامیہ کو کمزور کرنے اور تجاوزات کو بڑھاوا دینے کے لیے دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ساتھ ہی، وقف اراضی پر تجاوزات کرنے والوں کو بچانے کے لیے اب قانون میں مزید حفاظتی تدابیر کیے جا رہے ہیں۔

پانچواں، کلکٹرس اور ریاستی حکومت کے عہدیداروں کو وقف املاک پر یکطرفہ فیصلے لینے کے وسیع اختیارات دیئے گئے ہیں۔ ریاستی حکومت کے افسران کو اب یہ اختیار ہوگا کہ وہ کسی کی شکایت پر یا محض اس الزام پر کہ وقف کی جائیداد سرکاری ملکیت ہے، حتمی فیصلہ ہونے تک کسی بھی وقف کی تسلیم کو منسوخ کرنے کا حق ہو گا۔

جے رام رمیش نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ 428 صفحات پر مشتمل رپورٹ کو بغیر تفصیلی بحث کے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) میں زبردستی پاس کیا گیا، جو پارلیمانی طریقہ کار کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ بل بنیادی طور پر ہندوستان کے آئین پر حملہ ہے‘‘۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Supreme Court: بچوں کو انٹرنیٹ سے محروم کرنا درست نہیں، یہ بھی ان کا بنیادی حق ہے- سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر بچوں کے انٹرنیٹ استعمال پر پابندی لگائی گئی تو…

25 minutes ago

Senior BJP leader Lal Krishna Advani: لال کرشن اڈوانی کی طبیعت اب کیسی ہے؟ اسپتال سے سامنے آیا ہیلتھ اپ ڈیٹ

لال کرشن اڈوانی ملک کے سینئر سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا سیاسی…

2 hours ago

Tragic incident in Greater Noida, Uttar Pradesh: گریٹر نوئیڈا میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی مشتبہ موت، علاقے میں سنسنی

یہ دردناک واقعہ گریٹر نوئیڈا کے ربوپورہ تھانہ علاقے کے تحت آنے والے گاؤں نگلا…

3 hours ago

From Clay To Consciousness: مٹی سے شعور تک، قدیم ہندوستانی مذہبی متون کی روشنی میں دیوی درگا کی مورتی کا مفہوم

مہا سپتمی کے موقع پر عقیدت مند نو پودوں کے مجموعے، نوپتریکا، کو نصب کرتے…

3 hours ago