قومی

Adhir Ranjan Chowdhury Suspended: کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری کو لوک سبھا سے کیے گئے معطل

Adhir Ranjan Chowdhary Suspended: مانسون اجلاس کے دوران لوک سبھا میں جمعرات کے روز تحریک عدم اعتماد پر بحث ہوئی۔ اس دوران پی ایم مودی نے اپوزیشن کے الزامات کا جواب دیا۔ اپوزیشن کی جانب سے لائی گئی تحریک عدم اعتماد کو مکمل صوتی ووٹنگ کے ساتھ مسترد کر دیا گیا۔ دوسری جانب کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری کو لوک سبھا سے معطل کر دیا گیا۔ اس کے پیچھے ان کا پی ایم مودی پر کیے گئے متنازعہ ریمارکس کو بتایا جا رہا ہے۔ ان کی معطلی اس وقت تک موثر رہے گی جب تک پریولیج کمیٹی ان کے خلاف اپنی رپورٹ پیش نہیں کرتی۔

‘منی پور اور ہستینا پور میں کوئی فرق نہیں’

ادھیر رنجن چودھری نے پی ایم مودی کے تعلق سے اپنے متنازعہ بیان میں کہا تھا کہ جب دھریتراشٹر اندھے تھے تو دروپدی کا وسترا ہرن ہوا تھا، آج بھی راجہ اندھے بیٹھے ہیں۔ منی پور اور ہستینا پور میں کوئی فرق نہیں ہے۔ وزیر اعظم نیرو مودی بن کر خاموش بیٹھے ہیں۔ کسی کو تکلیف دینے کے لیے کچھ نہیں کہا، منی پور پر پی ایم کی خاموشی بالکل پسند نہیں ہے۔ بی جے پی نے منی پور کے رکن پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ میں بولنے کا موقع نہیں دیا۔ اس معاملے میں، لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ ادھیر رنجن چودھری کا رویہ ایوان کے مطابق نہیں تھا۔

 

‘تحریک عدم اعتماد کی طاقت نے پی ایم کو پارلیمنٹ میں لایا’

وہیں ادھیر رنجن چودھری نے یہ بھی کہا کہ تحریک عدم اعتماد کی طاقت نے آج وزیر اعظم کو پارلیمنٹ میں لایا ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی اس تحریک عدم اعتماد کے بارے میں نہیں سوچ رہا تھا۔ ہم صرف یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ پی ایم مودی کو پارلیمنٹ میں آکر بات کرنی چاہئے۔ منی پور کے معاملے پر ہم بی جے پی کے کسی رکن سے پارلیمنٹ میں آنے کا مطالبہ نہیں کر رہے تھے، ہم صرف اپنے وزیر اعظم کے آنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

 

بیان کے خلاف بی جے پی ارکان پارلیمنٹ کا احتجاج

وہیں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ادھیر رنجن کے اس بیان کے خلاف بی جے پی ارکان پارلیمنٹ نے احتجاج کیا۔ ادھیر رنجن چودھری اور وزیر داخلہ امت شاہ کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔ شاہ نے ادھیر رنجن کے بیان پر اعتراض کیا۔ انہوں نے اسپیکر سے کہا کہ پی ایم کے متعلق اس طرح کے بیانات دینا غلط ہے۔ ان کو کنٹرول کیا جائے۔ پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کے خلاف بے بنیاد الزامات کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اسے ختم کیا جانا چاہیے اور انہیں (ادھیر رنجن) معافی مانگنی چاہیے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Amit Shah launches Mission Uttarakhand: امت شاہ نے ’مشن اتراکھنڈ‘ کا کیا آغاز، مسلسل تیسری بار بی جے پی حکومت بنانے کے لیے 65 سے زیادہ سیٹوں کا ہدف

اتراکھنڈ یومِ تاسیس کی تقریب میں کانگریس اور راہل گاندھی پر سخت تنقید کرتے ہوئے…

39 seconds ago

PM Modi meets Suryakumar Yadav: وزیراعظم مودی سے سابق بھارتی ٹی-20 کپتان سوریہ کمار یادو اور ان کے اہل خانہ کی ملاقات

سوریہ کمار اپنے اہل خانہ کے ساتھ نئی دہلی میں وزیر اعظم سے ملاقات کی۔…

8 minutes ago

Supreme Court refuses suspend Tarun Tejpal 10 Year Sentence: ترون تیج پال کو سپریم کورٹ سے ایک اور جھٹکا، 10 سال کی سزا پر روک لگانے سے انکار

وہیں گوا حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹرجنرل تشارمہتا نے ترون تیج پال کی…

14 minutes ago

’نہرو کی خواہشوں نے شمال مشرق کو پیچھے چھوڑ دیا…‘ راہل گاندھی پر بی جے پی ایم پی نشی کانت دوبے نے اٹھائے بڑے سوال

نشی کانت دوبے نے اپنے بیان میں جواہرلال نہرو کی پالیسیوں پربھی سنگین سوال اٹھائے۔…

2 hours ago

Notice Movie Review: ایک سو پچاس سال پرانی دکان پر سرکاری نوٹس، نظام سے ٹکرائے ارون گوول

’نوٹس‘ کی سب سے بڑی خوبی اس کا سماجی موضوع اور ارون گوول و دیپیکا…

2 hours ago