قومی

Rahul Gandhi Goa Speech: ’کانگریس آئین کی محافظ، گیانیش کمار بچ نہیں پائیں گے‘، گوا میں راہل گاندھی کا بیان، حکومت پر سخت حملہ

گوا کے مڈگاؤں میں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ’ووٹ چوری‘ کے الزامات کو لے کر انتخابی نظام پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف ہتک عزت کے 45 سے زیادہ مقدمات چل رہے ہیں، لیکن ووٹ چوری کا الزام لگانے کے باوجود اب تک اس معاملے میں ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا۔ راہل گاندھی کے مطابق، اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اگر اس معاملے میں قانونی کارروائی شروع ہوئی تو الزام لگانے والوں کو بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ راہل گاندھی اتوار، 18 اکتوبر کو کانگریس کی ’Goy Rakhonn Yatra‘ میں شامل ہوئے۔ اس دوران انہوں نے تقریباً دو کلومیٹر پیدل چل کر پارٹی کارکنوں کے ساتھ شرکت کی۔ بعد میں مڈگاؤں میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے گیانیش کمار، وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر اعظم نریندر مودی پر ووٹ چوری میں کردار ادا کرنے کے الزامات لگائے۔

ووٹ چوری پر کیا بولے راہل گاندھی؟

مڈگاؤں کی عوامی ریلی میں راہل گاندھی نے کہا کہ گیانیش کمار ’ووٹ چوری‘ کو انجام دیتے ہیں، جبکہ امت شاہ اور وزیر اعظم مودی اس میں ان کا ساتھ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، ووٹ چوری کے پیچھے پوری منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ کانگریس کو آئین کا محافظ قرار دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ووٹ چوری کے ذمہ دار لوگوں کو انصاف کا سامنا کرنا ہوگا اور انہیں اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ان کے خلاف ہتک عزت کے 45 سے زیادہ مقدمات ہیں۔ اس کے باوجود ووٹ چوری کے معاملے پر مسلسل سوال اٹھانے کے بعد بھی ان کے خلاف اس الزام میں کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ راہل گاندھی کے مطابق، اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اگر اس معاملے میں قانونی کارروائی شروع ہوئی تو الزام لگانے والوں کو بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

طلبہ کے مظاہروں کا معاملہ بھی اٹھایا

راہل گاندھی نے تعلیمی نظام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں پہلے عالمی معیار کا تعلیمی نظام تھا، لیکن اب جب طلبہ احتجاج کرتے ہیں تو ان پر پیلٹ گن کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس بیان کے ذریعے انہوں نے طلبہ کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر سوال اٹھائے۔

27 دن تک جاری رہنے والی ’گوئے راکھن یاترا‘ اختتام پذیر

راہل گاندھی جس یاترا میں شامل ہوئے، وہ 22 ستمبر کو شروع ہوئی تھی اور 18 اکتوبر کو ختم ہوئی۔ 27 دن تک جاری رہنے والی اس یاترا کی قیادت کانگریس لیڈر یوری الیماؤ اور گریش چوڈنکر کر رہے تھے۔ یہ یاترا گوا کی تمام 40 اسمبلی نشستوں سے گزری۔ کانگریس نے اس مہم کا مقصد گوا کی زمین، ماحولیات، ثقافتی ورثے اور شناخت کا تحفظ بتایا۔ یاترا کے دوران زمین کے استعمال میں تبدیلی، زمین پر قبضے کے الزامات، بے روزگاری، بدعنوانی اور لوگوں کی حفاظت جیسے مسائل اٹھائے گئے۔ گوا میں 2027 میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ ایسے میں کانگریس اس یاترا کے ذریعے زمینی سطح پر اپنی گرفت مضبوط کرنے اور لوگوں تک اپنی رسائی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Global Protests: دنیا بھر میں کیوں بھڑک رہا ہے عوامی غصہ؟ فرانس سے امریکہ تک سڑکوں پر اترے لوگ

عالمی سطح پر مہنگائی، بے روزگاری، رہائش کے بحران اور تعلیم سے متعلق مسائل کے…

27 minutes ago

Amit Shah Punjab Visit: منشیات کے بحران اور انتخابی تیاریوں کے درمیان امت شاہ 20 اکتوبر کو پنجاب کا کریں گے دورہ

منشیات کی اسمگلنگ، منظم جرائم اور آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے درمیان مرکزی وزیر…

1 hour ago

Gwalior Tragedy: گوالیار حادثہ: شیٹلا ماتا مندر کے قریب ٹرک کی زد میں آکر 14 افراد ہلاک، امت شاہ نے تعزیت کا کیا اظہار

مدھیہ پردیش کے گوالیار میں شیٹلا ماتا مندر کے قریب ٹرک کی زد میں آکر…

2 hours ago