قومی

Women’s Reservation Bill: وزیراعظم مودی کے ملک سے خطاب کے خلاف کانگریس کا شدید احتجاج، حدبندی بل کو ’’ہتھیار‘‘ بنانے کا الزام

نئی دہلی: لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل کی ناکامی کے بعد کانگریس رہنماؤں نے وزیراعظم نریندر مودی کے قوم سے خطاب کے خلاف احتجاج کیا۔ اس مظاہرے میں کانگریس کی رہنما الکالامبا سمیت کئی دیگر لیڈران شریک ہوئے۔ یہ احتجاج اس وقت سامنے آیا جب وزیراعظم مودی نے 131ویں آئینی ترمیمی بل پر قوم سے خطاب کیا، جس کا مقصد خواتین کو ریزرویشن دینا تھا، تاہم یہ بل لوک سبھا میں منظور نہ ہو سکا۔ کانگریس لیڈر راگنی نائک نے وزیراعظم سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ خواتین ریزرویشن بل کو حدبندی (ڈیلمیٹیشن) اور مردم شماری سے کیوں جوڑا گیا اور اسے 2034 تک کیوں مؤخر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت حدبندی کو ایک ’’ہتھیار‘‘ کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور اس کے ذریعے ملک کی یکجہتی کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم مودی کے خطاب پر طنز کرتے ہوئے اسے کانگریس کے خلاف سازش بھی کہا۔

بی جے پی پر خواتین مخالف پالیسی کا الزام

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ دیپیندر سنگھ ہڈا نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا رویہ خواتین مخالف ہے اور وہ خواتین کو گمراہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک خواتین ریزرویشن نافذ نہیں ہو جاتا۔ اسی طرح کانگریس رکن پارلیمنٹ جیبی میتھر نے بھی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ خواتین کے نام پر ایک جھوٹا بیانیہ قائم کر رہی ہے اور 2014 سے اب تک خواتین کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔

بل کی ناکامی اور سیاسی پس منظر

17 اپریل کو لوک سبھا میں اپوزیشن جماعتوں نے آئینی ترمیمی بل کے خلاف ووٹ دیا، جس کے نتیجے میں یہ بل منظور نہ ہو سکا۔ تین روزہ خصوصی اجلاس کے دوران وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سمیت کئی رہنماؤں نے اس پر بحث کی، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے اکھلیش یادو، اسد الدین اویسی اور کے سی وینوگوپال نے بھی حصہ لیا۔ ووٹنگ کے دوران 298 ارکان نے بل کے حق میں جبکہ 230 نے مخالفت میں ووٹ دیا، جس کے بعد حکومت نے اس سے جڑے دیگر بلوں کو بھی آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ اس بل کے تحت لوک سبھا کی نشستوں کو 543 سے بڑھا کر 816 کرنے اور خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن دینے کی تجویز تھی، جسے 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر نافذ کیا جانا تھا۔ یہ معاملہ اب ملک کی سیاست میں ایک اہم موضوع بن چکا ہے، جہاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خواتین ریزرویشن کے طریقہ کار کو لے کر اختلافات واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

12 ماہ میں 119 بچوں کو گھرپہنچایا، دہلی پولیس کی خاتون ہیڈ کانسٹبل چنچل بنیں مثال

دہلی پولیس کی ہیڈ کانسٹبل چنچنل نے ایک سال کے اندر119 لاپتہ بچوں اور16 دیگرگمشدہ…

1 minute ago

1st ODI shifted from Delhi to Visakhapatnam: دہلی کی زہریلی ہوا کے آگے جھکا بی سی سی آئی، ہندوستان-سری لنکا ونڈے کا مقام تبدیل

 بی سی سی آئی نے دہلی کی آلودگی اوراسٹیڈیم میں چل رہی تجدید کاری کے…

43 minutes ago

Drone Attacks on Protesters in PoK: پی او کے میں مظاہرین پر فائرنگ اور ڈرون حملوں کا الزام، 7 افراد ہلاک، 18 زخمی

پاکستانی سکیورٹی فورسز پر راولاکوٹ میں پُرامن مظاہرین اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے کا…

54 minutes ago

The revolution of 1857: ملک کی تحریک آزادی اور 1857 کو بغاوت کہنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی، یہ آزادی کی پہلی جنگ تھی: امت شاہ

نائب سنگھ سینی نے امت شاہ کی تنظیمی صلاحیتوں کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے…

1 hour ago

Prime Minister Narendra Modi: پیدائش سے  معذور بچوں کے لیے پنشن کی راہ ہموار، رقم میں بھی اضافہ کیا: وزیر اعظم مودی

گزشتہ ماہ حکومت نے وزیر اعظم دیویانگ جن پنشن اسکیم کے تحت معذور افراد کے…

1 hour ago