قومی

Congress bihar brainstorming session: کانگریس  کا بہار شکست پر جائزہ و احتساب: سیٹوں کی تقسیم سے لے کر قیادت کے سوال تک — شکست کا جائزہ اور آئندہ کی حکمتِ عملی

بہار کے انتخابات میں مایوس کن کارکردگی کے بعد کانگریس کے اعلیٰ قیادت نے ابتدائی جائزے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ پارٹی کی سینئر قیادت—راہل گاندھی اور ملییکارجن کھڑگے—نے لالُو پرساد یادو اور تیجسوی یادو سے فون پر بات چیت کے بعد اب انڈیا بلاک کی دیگر شریک جماعتوں کے ساتھ بھی مشاورت شروع کر دی ہے۔ کانگریس کا ماننا ہے کہ بہار میں ہونے والی شکست صرف ایک انتخابی نتیجہ نہیں بلکہ کئی حکمت عملی کی غلطیوں اور اتحادی جماعتوں کے کردار سے وابستہ ایک بڑا اشارہ ہے۔

1۔ سیٹوں کی تقسیم میں ‘ناانصافی’ کی شکایت

کانگریس قیادت کا بنیادی الزام ہے کہ آر جے ڈی نے سیٹوں کی تقسیم میں من مانی کی۔ کل 61 سیٹیں کانگریس نے لڑی، 9 سیٹوں پر ‘فرینڈلی فائٹ’ کی صورتحال بنی۔ ان میں سے 23 سیٹیں ایسی تھیں جہاں نہ کانگریس اور نہ ہی آر جے ڈی کا کوئی تاریخی اثر تھا۔ 15 سیٹیں وہ تھیں جہاں دونوں جماعتوں میں سے کسی نے صرف ایک بار جیتا تھا۔ یوں کانگریس کے پاس عملی طور پر صرف 14 ‘جیتنے والی’ سیٹیں آئیں، جن میں سے پارٹی صرف 6 ہی جیت پائی۔ پارٹی کا موقف ہے کہ اگر سیٹیں حقیقی تناسب کے مطابق ملتی تو نتیجہ مختلف ہو سکتا تھا۔

2۔ تیجسوی کو لیڈر اور سی ایم چہرہ قرار دینے کے باوجود مایوسی

کانگریس کا دعویٰ ہے کہ سیٹوں کی تقسیم میں آر جے ڈی کی من مانی کے باوجود اس نے تیجسوی یادو کو اتحاد کا لیڈر اور وزیر اعلیٰ کے امیدوار کے طور پر قبول کیا۔ یہ قدم اتحاد کی یکجہتی برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا تھا، لیکن توقع کے مطابق فائدہ نہیں ہوا۔

3۔ ’ڈپٹی سی ایم فارمولے‘  کا منفی اثر

تیجسوی کو سی ایم چہرہ قرار دینے کے بعد مکیش سہنی کی ڈپٹی سی ایم کی مانگ بھی قبول کرنی پڑی۔ کانگریس کے جائزے کے مطابق، اس کا مسلم ووٹروں پر منفی اثر پڑا، جس کا فائدہ AIMIM اور جے ڈی یو کو ہوا۔ ساتھ ہی دلت اور سوارن کمیونٹی میں بھی اس کا مثبت اثر نہیں دکھا۔

4۔  نتیش بمقابلہ تیجسوی:  شبیہہ کی لڑائی

کانگریس کا ماننا ہے کہ نتیش کمار کے طویل تجربے، انتظامی شبیہہ اور ان کے ‘استحکام’ کے سامنے تیجسوی یادو کی شبیہہ انتخابی مقابلے میں کمزور ثابت ہوئی، جس کا اثر پورے عظیم اتحاد پر پڑا۔ کئی سیٹوں پر ووٹر قیادت کے معاملے پر الجھن میں رہے۔

5۔  تشہیر اور حکمت عملی میں کمی

جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ تیجسوی یادو نے پانچ برسوں میں زمینی سطح پر کافی کمزور تشہیر کی، جبکہ انہیں بے روزگاری، نقل مکانی اور سماجی انصاف جیسے مسائل پر مستقل طور پر مضبوط گرفت بنانی چاہیے تھی۔ آخری دنوں میں روزانہ 25 ریلیاں کرنا محض ‘اعدادی مظاہرہ’ تھا۔

6۔ ووٹ چوری اور SIR گڑبڑی کا مسئلہ ’اثر نہیں دکھا سکا‘

کانگریس نے ووٹ چوری اور انتخابی عمل میں گڑبڑی کا مسئلہ اٹھایا، لیکن یہ عوام پر وسیع اثر ڈالنے میں ناکام رہا۔ انتخابی کمیشن–بی جے پی کے مبینہ سازش کے سوال اٹھانے میں سب سے بڑی کوتاہی کانگریس کے مطابق یہ تھی کہ تیجسوی یادو نے اسے ممتا بنرجی کی طرح جارحانہ انداز میں نہیں اٹھایا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ جمہوریت کی حفاظت اب صرف کانگریس کا نہیں بلکہ تمام اپوزیشن جماعتوں کا اجتماعی فریضہ ہے۔

7۔ آئندہ حکمت عملی: بڑی ریلی کی تیاری

کانگریس اب بہار کے انتخابات سے متعلق ووٹ چوری، SIR گڑبڑی اور بوتھ سطح کی غیر قانونی کارروائیوں کے اعداد و شمار جمع کر کے عوام اور میڈیا کے سامنے پیش کرے گی۔

دسمبر کے آغاز میں دہلی کے راملیلا میدان میں ایک بڑی ریلی منعقد کرنے کی منصوبہ بندی ہے، جس میں انڈیا بلاک کی تمام اہم جماعتوں کو مدعو کیا جائے گا۔ اس کا مقصد نہ صرف انتخابی مسائل کو عوام تک پہنچانا ہے بلکہ اتحاد کی مشترکہ جدوجہد کو بھی وسیع سمت دینا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

MEA condemns Oman ship attack: عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر حملہ، ایک ہندوستانی ملاح کی موت، بھارت نے واقعے کی مذمت کی

ہندوستان نے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خطے…

20 minutes ago

Two Helicopters Collide During Landing in Nepal: نیپال میں لینڈنگ کے دوران دو ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا گئے، ایک شخص کی موت

 نیپال میں بلند پہاڑی علاقوں اور ماؤنٹ ایورسٹ کے اطراف سیاحوں اور کوہ پیماؤں کو…

56 minutes ago

Union Home Minister Amit Shah: چھتیس گڑھ راجیہ اتسو کی اختتامی تقریب میں شرکت کریں گے امت شاہ، تین اہم پروگراموں میں لیں گے حصہ

راجیہ اتسو کی اختتامی تقریب کے دوران ریاست کی خواتین کے لیے چلائی جانے والی…

2 hours ago

Test of Leadership: اقتدار، سوال اور قیادت کی آزمائش

بھارتی جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ ہر شہری کو سوال پوچھنے…

3 hours ago