قومی

Jauhar University Row: جوہر یونیورسٹی معاملے پر کانگریس کا یوگی حکومت پر حملہ، اجے رائے بولے- رام مندر چندہ معاملے سے توجہ ہٹانے کی کوشش

لکھنؤ: اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے جمعہ کے روز رام پور میں واقع جوہر یونیورسٹی کے خلاف مجوزہ کارروائی پر ریاستی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کو منہدم کرنے کی کارروائی قانونی سے زیادہ سیاسی دکھائی دیتی ہے اور حکومت اس کے ذریعے رام مندر میں چندے کی چوری کے معاملے سے عوام کی توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔

کارروائی کی شفافیت پر سوال

ریاستی کانگریس ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اجے رائے نے کہا کہ رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے 15 جولائی کو جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کا حکم جاری کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس دن اس معاملے کی سماعت ہوئی، اسی دن چند گھنٹوں کے اندر 17 صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کر دیا گیا، جس سے پوری کارروائی کی شفافیت اور غیر جانبداری پر سوالات اٹھتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جوہر یونیورسٹی کا قیام 2005 میں سنگھم کھیڑا گاؤں میں عمل میں آیا تھا۔ اس وقت یہ علاقہ رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دائرۂ اختیار میں نہیں بلکہ ضلع پنچایت کے ماتحت تھا۔ اجے رائے کے مطابق سال 2024 میں اس علاقے کو رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دائرے میں شامل کیا گیا۔ ایسے میں یونیورسٹی کے قیام کے وقت ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے نقشہ منظور کرانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یونیورسٹی تمام ضروری ضابطوں کے مطابق قائم کی گئی ہے اور یہ کسی ایک برادری کا ادارہ نہیں بلکہ یہاں مختلف مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

’’اگر اختلاف ہے تو حکومت انتظام سنبھال لے‘‘

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ اگر حکومت کو اعظم خان سے سیاسی اختلافات ہیں تو یونیورسٹی کو منہدم کرنے کے بجائے اس کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے اور ادارے کو چلا سکتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت تعلیم کے فروغ کے بجائے تعلیمی اداروں کو کمزور کرنے میں مصروف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بڑی تعداد میں اسکول بند ہوئے ہیں، نئے یونیورسٹیوں کے قیام کی رفتار سست ہے اور میڈیکل کالجوں میں بھی وسائل اور عملے کی کمی برقرار ہے۔

بی جے پی اور آر ایس ایس دفاتر پر بھی سوال

اجے رائے نے وارانسی کی بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں درختوں کی کٹائی کے معاملے میں نیشنل گرین ٹریبونل کارروائی کر چکا ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے تمام دفاتر کی عمارتوں کے نقشے بھی قواعد کے مطابق منظور شدہ ہیں؟ اگر قوانین سب کے لیے یکساں ہیں تو کارروائی بھی یکساں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر جوہر یونیورسٹی میں کوئی تکنیکی یا انتظامی خامی ہے تو اسے قانونی طریقے سے دور کیا جائے یا کمپاؤنڈنگ جیسے ضابطہ جاتی اقدامات اختیار کیے جائیں۔ اجے رائے نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت ترقی اور تعمیر کے بجائے انہدام کی سیاست کر رہی ہے اور تعلیمی اداروں کے تحفظ کے بجائے انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

India vs Afghanistan T20: بھارت-افغانستان سیریز کے دوران 19 افراد گرفتار، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

13 ستمبر کو بھارت نے پہلا میچ 7 وکٹ سے جیتا، جب کہ دوسرے مقابلے…

1 hour ago

Prime Minister Modi: دہلی میں ماحولیات پر بڑا بین الاقوامی اجلاس، وزیر نریندر اعظم مودی 19 ستمبر کو کریں گے افتتاح

’ماحولیات اور آب و ہوا کی حرکیات کا مستقبل‘ کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس،…

2 hours ago

Travis Head: ٹریوس ہیڈ کی طوفانی سنچری، آسٹریلیا کا زمبابوے کے خلاف ون ڈے میں اب تک کا سب سے بڑا اسکور

زمبابوے کی جانب سے گیند بازی میں بریڈ ایونز نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں…

2 hours ago