نئی دہلی: دہلی میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کو لے کر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سکھدیو بھگت نے حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صرف باتیں کرنے کے بجائے ٹھوس اقدامات کے ذریعے ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) کے مسئلے کا حل نکالے۔ اس کے علاوہ انہوں نے راہل گاندھی کے دیوالی ملن پروگرام اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) میں جاری سیاسی سرگرمیوں پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
آلودگی سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات ضروری
کانگریس رکن پارلیمنٹ سکھدیو بھگت نے کہا، ’’میرا خیال ہے کہ گزشتہ بار بھی دہلی میں اسی طرح کا مسئلہ پیدا ہوا تھا۔ اگر ایئر کوالٹی انڈیکس کی بات کریں تو حکومت کو صرف باتیں کرنے کے بجائے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے کیا تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں۔ گزشتہ بار بھی یہ مسئلہ سامنے آیا تھا اور حکومت نے بڑے بڑے وعدے کیے تھے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ حکومت اس سمت میں زیادہ سنجیدہ ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی اور قلیل مدتی، دونوں طرح کی پالیسیاں نافذ ہونی چاہئیں، لیکن موجودہ حالات میں حکومت کا رویہ کافی غیر سنجیدہ نظر آتا ہے۔
راہل گاندھی کے دیوالی ملن پروگرام کو بتایا خوشگوار
تقریباً 15 سال بعد راہل گاندھی کی جانب سے دیوالی ملن پروگرام منعقد کیے جانے کے بارے میں سکھدیو بھگت نے کہا کہ سب سے پہلے دیوالی کے موقع پر تمام لوگوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ ہم سب ایک کانگریس خاندان کی طرح ہیں اور راہل گاندھی نے بھی سبھی کو خاندان کے افراد کی طرح بلایا تھا۔ اس موقع پر لوگوں نے ایک دوسرے سے بات چیت کی اور غیر رسمی انداز میں ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری روایت رہی ہے کہ تہواروں کے موقع پر خاندان کے افراد ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ اس لیے میں کہوں گا کہ کل کا پروگرام بہت اچھا رہا۔ یقیناً جب آپ اپنے لیڈر سے ملتے ہیں تو نئی توانائی ملتی ہے۔ ہم سب نے ایک دوسرے کو مبارک باد دی اور نئی توانائی حاصل کی۔
این سی پی کی سرگرمیوں کو بتایا اندرونی معاملہ
این سی پی کے ریاستی صدر کی شرد پوار سے ملاقات کے بارے میں سکھدیو بھگت نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے۔ یقیناً آپ نے دیکھا ہوگا کہ گزشتہ بار بھی اس طرح کی باتیں سامنے آئی تھیں۔ ایک بات ضرور کہنی چاہیے کہ شرد پوار ایک انتہائی سینئر اور تجربہ کار لیڈر ہیں۔ اگر این سی پی کی بات کریں تو آج بھی لوگ سب سے پہلے شرد پوار کا نام لیتے ہیں، لیکن یہ ان کا اپنا سیاسی معاملہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی چیز متحد ہوتی ہے تو یہ کسی بھی تنظیم کے لیے اچھی بات ہے۔ سیاسی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اختلافات یا انتشار کہیں بھی ہو، یہ اچھی بات نہیں ہے۔ اگر دونوں فریقوں کے درمیان اتحاد قائم ہوتا ہے تو میرے خیال میں یہ ایک خوش آئند اشارہ ہوگا۔ سکھدیو بھگت نے الزام لگایا کہ بی جے پی ہمیشہ چاہتی ہے کہ اس طرح کی علاقائی جماعتوں میں ٹوٹ پھوٹ اور انتشار پیدا ہو۔ وہ ہمیشہ انہیں توڑنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
دہلی میں فضائی آلودگی کے بچوں کی صحت پر سنگین اثرات سامنے آئے ہیں۔ مرکزی…
نیوزی لینڈ کی طرف سے 135 رنوں کے ہدف میں ٹیم انڈیا کی سانسیں رک…
ایودھیا میں دیپوتسو کے حوالے سے سنجے راوت نے کہا کہ ایودھیا میں یہ روایت…
سنجے راوت نے الزام لگایا کہ اتر پردیش اور مہاراشٹر میں بھی اسی طرح کی…
بالی ووڈ کے میگا اسٹارامیتابھ بچن کی خرابی صحت کے باعث کوئزشو 'کون بنے گا…
جمعہ کے روز منیر میں پولیس کے ساتھ مبینہ تصادم میں تین افراد کی موت…