’کاکروچ جنتا پارٹی‘کے بانی ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر صفحہ بنائے جانے کے صرف 7 دن بعد اپنی پہلی عرضی (پٹیشن) پیش کر دی ہے۔ اس پٹیشن میں انہوں نے NEET امتحان پیپر لیک معاملے پر بڑا سوال اٹھاتے ہوئے وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ ابھیجیت دیپکے کا کہنا ہے کہ پیپر لیک جیسے واقعات طلبہ کے مستقبل کو متاثر کرتے ہیں، اس لیے اس پورے معاملے کی ذمہ داری طے ہونی چاہیے اور وزیر تعلیم کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے۔
وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ
’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھیجیت دیپکے نے X پر ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک نئی پٹیشن شروع کر رہے ہیں۔ اس پٹیشن میں انہوں نے وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ ابھیجیت دیپکے نے عوام سے اپیل کی کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس پٹیشن پر دستخط کریں تاکہ نظام کی خامیوں اور غلطیوں پر سوال اٹھائے جا سکیں۔
X اکاؤنٹ بھی بند کر دیا گیا
اس سے پہلے 21 مئی کو ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (CJP) کا X اکاؤنٹ بند کر دیا گیا تھا۔ اس وقت اس اکاؤنٹ پر 1.93 لاکھ سے زائد فالوورز تھے۔ اکاؤنٹ بند ہونے کے بعد تنظیم نے فوری طور پر نیا X اکاؤنٹ بنایا، جس کا نام “Cockroach Is Back” رکھا گیا۔ اس کے بایو میں لکھا گیا: “Cockroach Don’t Die”، یعنی کاکروچ مرتے نہیں ہیں۔ نئے اکاؤنٹ سے پہلی پوسٹ جمعرات دوپہر 2:29 بجے کی گئی تھی۔ جمعہ دوپہر 1 بجے تک اس نئے اکاؤنٹ پر 1.50 لاکھ سے زیادہ فالوورز جڑ چکے تھے۔ اس کے علاوہ ابھیجیت دیپکے نے الزام لگایا ہے کہ پارٹی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ کو بھی ہیک کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
CJP کی ویب سائٹ پر کیا ہے؟
‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (CJP) نے اپنی ویب سائٹ پر خود کو ایک سیاسی جماعت قرار دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ اُن لوگوں کی آواز ہے جنہیں نظام میں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ پارٹی کی پانچ اہم مانگیں ہیں اور اس کے پیچھے کوئی اسپانسر نہیں بلکہ ایک بڑا اور ضدی گروپ کام کر رہا ہے۔
سی جے پی کی ویب سائٹ پر منشور، وژن، اہلیت (Eligibility) اور رابطہ (Contact) جیسے سیکشن بھی موجود ہیں۔ پارٹی خود کو سست اور بے روزگار لوگوں کی آواز بھی قرار دیتی ہے۔ اس کا نعرہ ہے: “Secular, Socialist, Democratic, Lazy”۔ پارٹی میں شامل ہونے کے لیے چار شرطیں رکھی گئی ہیں — بے روزگار ہونا، سست ہونا، ہمیشہ آن لائن رہنا اور “Ability to Rant Professionally” یعنی پیشہ ورانہ انداز میں شکایت کرنے کی صلاحیت رکھنا۔
سی جے آئی کے بیان سے شروع ہوا تنازع
15 مئی 2026 کو سپریم کورٹ میں ایک عرضی کی سماعت کے دوران بھارت کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے نوجوانوں سے متعلق ایک تبصرہ کیا تھا۔ Live Law کی رپورٹ کے مطابق، سی جے آئی سوریہ کانت نے کہا تھا کہ ’’کاکروچ کی طرح کچھ نوجوان ایسے ہیں جنہیں اس پیشے میں روزگار نہیں مل پا رہا۔ ان میں سے کچھ میڈیا میں، کچھ سوشل میڈیا پر اور کچھ آر ٹی آئی و دیگر ایکٹیوسٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ یہ لوگ ہر کسی پر سوال اٹھانے لگتے ہیں۔‘‘اس تبصرے کے اگلے ہی دن ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے ایک ڈیجیٹل مہم شروع کی گئی۔ بعد میں جب اس بیان پر تنازع بڑھا تو CJI سوریہ کانت نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بات کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…