مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے منگل 2 دسمبر کو ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں جاری خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے دوران دباؤ، ذہنی اذیت، خودکشی یا شدید بیماری کے سبب جان گنوانے والے افراد کے اہل خانہ کو ریاستی خزانے سے مالی مدد فراہم کی جائے گی۔ ان کے مطابق، ایس آئی آر کے باعث مبینہ طور پر جان گنوانے والے شہریوں اور اس عمل میں شامل بوتھ لیول افسران (بی ایل او) دونوں کے لیے معاوضے کا انتظام کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ جن افراد نے دباؤ سے تنگ آ کر خودکشی کر لی یا بیماری کی وجہ سے موت ہو گئی، ان کے لواحقین کو دو لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے گا۔ جبکہ وہ لوگ جو شدید بیمار ہو گئے لیکن زندہ بچ گئے، انہیں ایک ایک لاکھ روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ فیصلہ انسانیت اور ریاستی ذمہ داری کے تحت کیا گیا ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو یہ احساس ہو کہ حکومت مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس موصول رپورٹس کے مطابق ایس آئی آر کے دباؤ کی وجہ سے کل 39 افراد نے یا تو خودکشی کی یا شدید بیماری کا شکار ہو کر جان گنوا دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ ایس آئی آر کے نام پر لوگوں پر غیر ضروری دباؤ ڈالا گیا، جس سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے ایس آئی آر سے متعلق تنازع پر مرکز کو بھی سخت پیغام دیا اور کہا کہ مرکزی حکومت کو یکطرفہ احکامات جاری کرنے کے بجائے بنگال حکومت کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسئلے حل کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس ملک میں اب 1940 کا دور نہیں ہے، جہاں برطانوی حکومت عوام پر فیصلے تھوپتی تھی۔ وفاقی ڈھانچے کا احترام ضروری ہے‘‘۔ ممتا بنرجی نے عوام اور افسروں سے اپیل کی کہ کوئی بھی حکم ایسا نہیں ہونا چاہیے جس سے شہریوں کو اذیت یا بے چینی ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی زبردستی کی کارروائی ہوتی ہے تو ریاستی حکومت پوری کوشش کرے گی کہ عام لوگوں کو ریلیف فراہم کیا جائے، کیونکہ حکومت بنیادی طور پر عوام، جمہوریت اور آئین کے سامنے جوابدہ ہے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ نے 2011 سے اب تک اپنی حکومت کے کاموں کی تفصیلی پیش رفت رپورٹ بھی جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ ترنمول کانگریس نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ہمیشہ سیکولر سیاست اور عوامی خدمت کو اپنا اصول بنایا ہے۔ ان کے مطابق، ’’مغربی بنگال میں فرقہ وارانہ سیاست کی کبھی گنجائش نہیں تھی اور نہ کبھی ہو گی‘‘۔ ایس آئی آر تنازع پر یہ اعلان بتاتا ہے کہ ریاستی حکومت اسے ایک انسانی مسئلہ سمجھ کر حل کرنا چاہتی ہے اور سیاسی الزام تراشی سے زیادہ متاثرین کی مدد پر یقین رکھتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
منیشا کیر، نیرو اور آشِما اہلاوت کی تین رکنی ٹیم نے خواتین کے ٹریپ ٹیم…
وزیر اعظم کے دفتر (PMO) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر مبارکباد دیتے ہوئے…
CAQM نے 29 ستمبر کو جاری کیا نیا گریڈیڈ رسپانس ایکشن پلان، آلودگی بڑھنے سے…
پنجاب کے تمام 117 اسمبلی حلقوں سے گزری ’نشہ مُکت پنجاب یاترا‘، بی جے پی…
بسولی میں ڈیوٹی تبدیل کرنے کے دوران بحث کے بعد 2009 بیچ کے ہیڈ کانسٹیبل…
جاپانی بروکریج کمپنی نومورا نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ ریزرو بینک اکتوبر اور دسمبر…