قومی

Clash between NSUI and ABVP: حیدرآباد کی یونیورسٹی میں این ایس یوآئی اوراے بی وی پی کے درمیان جھڑپ، 7 طلبہ زخمی، دونوں فریق کے خلاف مقدمہ درج

نئی دہلی: تلنگانہ کے حیدرآباد میں انگلش اینڈ فارن لینگویجز یونیورسٹی (EFLU) کے کیمپس میں این ایس یوآئی اور اے بی وی پی سے وابستہ طلبہ کے درمیان جھڑپ ہوگئی، جس میں کم از کم 7 طلبہ زخمی ہوگئے۔ پولیس نے اس معاملے میں دونوں فریق کے ارکان کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں۔ یہ جھڑپ گزشتہ 14 اگست کو ہوئی تھی۔ اس سے ایک روز قبل اے بی وی پی سے وابستہ طلبہ نے خواتین کے ہاسٹل میں احتجاج کیا تھا، جس کے دوران دونوں طلبہ تنظیموں کے کارکنوں کے درمیان بحث ہوگئی تھی۔

این ایس یوآئی نے مارپیٹ کا الزام عائد کیا

این ایس یوآئی نے اے بی وی پی کے ارکان پر الزام لگایا کہ انہوں نے ایک طالب علم کے خلاف ذات پر مبنی توہین آمیز تبصرے کیے اور EFLU طلبہ یونین کے نائب صدر کے ساتھ مارپیٹ کی۔ این ایس یوآئی کا مزید الزام ہے کہ اے بی وی پی کے ارکان کے ایک فریق نے ان کے کارکنوں پر لاٹھیوں اور شیشے کی بوتلوں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد طلبہ زخمی ہوئے۔

اے بی وی پی کا طالبات سے بدسلوکی کا دعویٰ

دوسری جانب اے بی وی پی کی EFLU یونٹ کے مطابق، 13 اگست کو ایک وارڈن نے ہاسٹل میں رہنے کی اجازت مانگنے والی دو طالبات سے مبینہ طور پر بدتمیزی کی اور ان کے بارے میں کچھ قابل اعتراض باتیں کہیں۔ اے بی وی پی کا کہنا ہے کہ اس کے ارکان نے یہ معاملہ اٹھایا اور طلبہ کی حمایت میں پُرامن احتجاج کیا۔

ہاسٹل کی بنیادی سہولیات کا مسئلہ اٹھایا

اے بی وی پی نے ہاسٹل میں بنیادی سہولیات کی کمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ تنظیم نے صاف واش رومز اور پینے کے محفوظ پانی سمیت دیگر سہولیات کا مسئلہ اٹھایا۔ اے بی وی پی کا الزام ہے کہ احتجاج کے دوران این ایس یوآئی کے ارکان نے بحث اور مبینہ طور پر نازیبا زبان کا استعمال کرتے ہوئے پُرامن مظاہرے میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔

دونوں فریق کے ارکان کے خلاف مقدمہ درج

پولیس نے اتوار کو بتایا کہ جھڑپ میں 7 طلبہ زخمی ہوئے، جن میں این ایس یوآئی کے 4 اور اے بی وی پی کے 3 ارکان شامل ہیں۔ سر پر شدید چوٹ لگنے والے کچھ طلبہ کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ شکایت اور جوابی شکایت کی بنیاد پر عثمانیہ یونیورسٹی تھانے میں دونوں طلبہ گروپوں کے ارکان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

اے بی وی پی کا غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ

پولیس کے مطابق اے بی وی پی کے 7 ارکان کو گرفتار کرکے عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔ دوسری جانب این ایس یوآئی کے جن 7 ارکان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، انہیں بھی گرفتار کیا گیا، تاہم بعد میں پولیس اسٹیشن سے ہی ضمانت دے دی گئی۔ اس دوران اے بی وی پی کی EFLU یونٹ نے پورے واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور اپنے 7 ساتھیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Jio now sets its sights on the US and Germany: جیو کی نظریں اب امریکہ اور جرمنی پر: 12 شراکت داریوں کے ذریعے 150 کروڑ صارفین تک پہنچنے کی امید

ہندوستان کی ثابت شدہ ٹیکنالوجی اب دنیا تک پہنچنے کے لیے تیار، ترقی یافتہ ممالک…

2 hours ago

Vijeta Dahiya: اقتدار تبدیلی کی بات کرنا غیر آئینی نہیں، جمہوریت میں عوام کو حکومت بدلنے کا حق ہے: وجیتا دہیا

پرشانت بھوشن کے اقتدار کی تبدیلی سے متعلق بیان پر وجیتا دہیا نے کہا، ’’انہوں…

2 hours ago