قومی

Delimitation Bill Failure: حکومت کا حد بندی پلان کیسے ناکام ہوا؟ جے رام رمیش نے بتایا پورا حساب کتاب

نئی دہلی میں کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے دعویٰ کیا ہے کہ بجٹ اجلاس کے دوران پیش کیا گیا حد بندی بل اپوزیشن کے اتحاد کی وجہ سے منظور نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ 17 اپریل کو حکومت کو اس وقت بڑا جھٹکا لگا، جب بل منظور کرانے کے لیے مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہو پائی۔ جے رام رمیش کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کی متحدہ حکمت عملی نے حکومت کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔

اپوزیشن کا اتحاد حکومت پر پڑا بھاری

جے رام رمیش نے بتایا کہ کانگریس، سماج وادی پارٹی، این سی پی اور ڈی ایم کے نے فلور مینجمنٹ کے معاملے میں حکومت کا ساتھ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ایم کے کے ساتھ کچھ معاملات میں فاصلے ضرور رہے ہیں، لیکن حد بندی کے معاملے پر پارٹی مکمل طور پر اپوزیشن کے ساتھ کھڑی رہی۔ کانگریس لیڈر کے مطابق اپوزیشن کی یکجہتی نے حکومت کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنا مشکل بنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف اپوزیشن جماعتوں نے اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس معاملے پر مشترکہ موقف اختیار کیا۔

تمل ناڈو اسمبلی کی قرارداد کا حوالہ

جے رام رمیش نے تمل ناڈو اسمبلی میں منظور کی گئی قرارداد کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا موقف ہے کہ حد بندی نہیں ہونی چاہیے اور لوک سبھا کی موجودہ 543 نشستوں کی تعداد برقرار رہنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ریاستوں کی نمائندگی میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے ایک تہائی ریزرویشن بھی نافذ کیا جانا چاہیے۔ کانگریس لیڈر نے واضح کیا کہ خواتین کے ریزرویشن کا نفاذ ان کی پارٹی کے اہم مطالبات میں شامل ہے۔

ووٹنگ میں حکومت مطلوبہ ہدف سے پیچھے رہ گئی

17 اپریل 2026 کو لوک سبھا میں آئین کے 131ویں ترمیمی بل پر ووٹنگ ہوئی۔ جے رام رمیش کے مطابق ووٹنگ میں مجموعی طور پر 528 ارکان نے حصہ لیا، جن میں 298 ارکان نے بل کے حق میں، جبکہ 230 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لیے 352 ووٹ درکار تھے، لیکن حکومت کو مطلوبہ تعداد سے 54 ووٹ کم ملے۔ جے رام رمیش نے اسی نتیجے کو حکومت کی حکمت عملی کی ناکامی قرار دیا۔

حکومت پر ’نیرٹیو مینجمنٹ‘ کا الزام

کانگریس لیڈر نے الزام عائد کیا کہ حکومت اپنی حکمت عملی ناکام ہونے کے بعد اب میڈیا اور نیرٹیو مینجمنٹ کے ذریعے سیاسی بیانیہ تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت اپوزیشن پر الزام عائد کر رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حد بندی کے معاملے پر اس کی اپنی حکمت عملی کامیاب نہیں ہوسکی۔

اپوزیشن کا کیا ہے مطالبہ؟

اپوزیشن کا بنیادی مطالبہ ہے کہ حد بندی نہیں کی جانی چاہیے، لوک سبھا کی موجودہ 543 نشستیں برقرار رہیں اور انہی نشستوں پر خواتین کے لیے ایک تہائی ریزرویشن نافذ کیا جائے۔جے رام رمیش نے کہا کہ اپوزیشن نے اسی موقف پر متحد ہوکر حکومت کے منصوبے کی مخالفت کی۔ ان کے مطابق ووٹنگ کے نتائج نے ثابت کردیا کہ حکومت مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی اور یہی اس منصوبے کی ناکامی کی بنیادی وجہ بنی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Jio now sets its sights on the US and Germany: جیو کی نظریں اب امریکہ اور جرمنی پر: 12 شراکت داریوں کے ذریعے 150 کروڑ صارفین تک پہنچنے کی امید

ہندوستان کی ثابت شدہ ٹیکنالوجی اب دنیا تک پہنچنے کے لیے تیار، ترقی یافتہ ممالک…

55 minutes ago

Vijeta Dahiya: اقتدار تبدیلی کی بات کرنا غیر آئینی نہیں، جمہوریت میں عوام کو حکومت بدلنے کا حق ہے: وجیتا دہیا

پرشانت بھوشن کے اقتدار کی تبدیلی سے متعلق بیان پر وجیتا دہیا نے کہا، ’’انہوں…

2 hours ago

Manisha Koirala’s Message for Women: ’’بدلتے جسم سے لڑنے کے بجائے اسے سمجھیں…‘‘، منیشا کوئرالا کا خواتین کو خاص پیغام

منیشا کوئرالا نے خواتین سمیت سبھی لوگوں سے صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی اپیل…

2 hours ago