قومی

Supreme Court Registry: سپریم کورٹ رجسٹری میں چونکا دینے والے انکشافات، چیف جسٹس سوریہ کانت کا سخت نوٹس

نئی دہلی: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے سپریم کورٹ رجسٹری میں سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ایک سماعت کے دوران حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر وہ عرضی، جسے تین ججوں کی بنچ مسترد کر چکی تھی، دوبارہ کس طرح دوسری بنچ کے سامنے فہرست (لسٹ) کر دی گئی؟ چیف جسٹس نے اسے عدالت کی داخلی لسٹنگ پالیسی اور طریقۂ کار کی واضح خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ اس نوعیت کا واقعہ عدالتی نظم و نسق پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔

’’میں دنگ رہ گیا‘‘ سی جے آئی کا سخت تبصرہ

چیف جسٹس سوریہ کانت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا: ’’میں یہ جان کر دنگ رہ گیا کہ ایک عرضی، جسے تین ججوں کی بنچ نے خارج کر دیا تھا، بعد میں دوسری بنچ کے سامنے لسٹ کر دی گئی۔‘‘ انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر یہ عمل جان بوجھ کر کیا گیا ہے تو یہ نہ صرف عدالتی نظام بلکہ شفافیت اور احتساب کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔ سپریم کورٹ جیسے اعلیٰ ترین عدالتی ادارے میں فائلوں اور مقدمات کی لسٹنگ ایک باقاعدہ ضابطے کے تحت کی جاتی ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی بے قاعدگی سنگین معاملہ تصور کی جاتی ہے۔

طویل عرصے سے تعینات افسران پر اعتراض

سی جے آئی نے خاص طور پر ان افسران کے رویے پر سوال اٹھایا جو گزشتہ 20 سے 30 برسوں سے رجسٹری میں تعینات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض افراد یہ سمجھنے لگے ہیں کہ جج صاحبان تو عارضی طور پر آتے ہیں جبکہ وہ مستقل ہیں، اس لیے معاملات ان کی مرضی کے مطابق چلنے چاہئیں۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا: ’’اگر میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے سے پہلے اس نظام کو درست نہیں کر سکا تو میں اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام سمجھا جاؤں گا۔‘‘ یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ چیف جسٹس اپنے دورِ کار کے اختتام سے قبل عدالتی انتظامیہ میں اصلاحات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔

گہری جانچ کا حکم اور ممکنہ اصلاحات

چیف جسٹس نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے کی گہرائی سے جانچ کے احکامات جاری کریں گے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر اندرونی لسٹنگ کے نظام میں خامیاں پائی گئیں تو نہ صرف متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے بلکہ انتظامی ڈھانچے میں بھی اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔ عدالتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی ساکھ اس کے شفاف اور منظم طریقۂ کار پر منحصر ہے۔ ایسے میں چیف جسٹس کی جانب سے سخت مؤقف اپنانا اس بات کا اشارہ ہے کہ عدلیہ اپنے داخلی نظم و ضبط پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ یہ معاملہ عدالتی شفافیت، احتساب اور انتظامی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے دور رس اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

We have to get the Senate: سینیٹ پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے ٹرمپ نے جھونکی پوری طاقت، بولے ’ہمیں ہر حال میں جیتنا ہوگا‘

کینیڈا کے ساتھ تجارتی مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک کے…

47 minutes ago

Cyclone Murasu: سائیکلون ’موراسو‘ مچائے گا تباہی، تیز ہواؤں اور سیلاب کا خطرہ، ماہی گیروں کو الرٹ

سمندری طوفان موراسو کے پیش نظر چنئی کے تمام اسکولوں میں پیر کے روز تعطیل…

1 hour ago

Florida Plane Crash Video: فلوریڈا میں طیارہ حادثہ، پائلٹ سمیت 9 افراد ہلاک، سڑک سے ٹکراتے ہی طیارہ آگ کے گولے میں تبدیل

حادثے کی ایک خوفناک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔ کاروں میں بیٹھے لوگوں نے طیارے…

2 hours ago

Delhi Air Pollution: دہلی میں آلودگی کو لیکر سخت پابندیاں عائد، پہلے دن 68 لاکھ روپے کا جرمانہ، 127 گاڑیوں کے چالان

یہ پابندیاں ایسے وقت نافذ کی گئی ہیں، جب اتوار کو دہلی کا ایئر کوالٹی…

3 hours ago

Sangh UGC Viniyam: سنگھ کے ’غیر متوازن‘ تبصرے سے اقتدار، تنظیم اور سماجی توازن کا امتحان

آر ایس ایس کے اکھل بھارتیہ پرچار پرمکھ سنیل امبیکر نے یو جی سی کے…

12 hours ago