قومی

CJI slams SC Bar Association: چیف جسٹس  نے  سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کو لگائی پھٹکار، جسٹس بیلا تریویدی کیلئے الوداعی تقریب نہ رکھنے پرسخت ناراضگی کا کیا اظہار

چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) بی آر گاوائی نے جمعہ (16 مئی 2025) کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) پر اس بات کے لیے شدید تنقید کی کہ اس نے ریٹائر ہونے والی جج جسٹس بیلا ایم تریویدی کے لیے روایتی الوداعی تقریب کا اہتمام نہیں کیا۔ جسٹس تریویدی، جو 9 جون کو ریٹائر ہونے والی تھیں، نے ذاتی وجوہات کی بنا پر جمعہ کو اپنا آخری کام کا دن بنایا کیونکہ وہ ایک فیملی شادی کے لیے امریکہ جا رہی ہیں۔ روایت کے مطابق، سپریم کورٹ میں آخری کام کے دن ایک رسمی بنچ کا انعقاد ہوتا ہے، جس میں ریٹائر ہونے والے جج سی جے آئی کے ساتھ بیٹھتے ہیں، اور ایس سی بی اے  یعنی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن شام کو الوداعی تقریب کا اہتمام کرتی ہے۔ تاہم، اس بار ایسی کوئی تقریب منعقد نہ ہونے پر سی جے آئی گوائی اور جسٹس اے جی مسیح نے سخت الفاظ میں اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔

سی جے آئی گوائی نے جسٹس تریویدی کے اعزاز میں منعقدہ رسمی بنچ کی صدارت کرتے ہوئے کہاکہ ایسوسی ایشن کا یہ موقف قابل مذمت ہے، اور میں اسے کھلے عام مسترد کرتا ہوں کیونکہ میں صاف گوئی پر یقین رکھتا ہوں۔ اس موقع پر ایسی پوزیشن نہیں اپنانی چاہیے تھی۔انہوں نے ایس سی بی اے کے صدر کپل سبل اور نائب صدر رچنا سریواستو کی موجودگی کی تعریف کی، جو اس فیصلے کے باوجود تقریب میں شریک ہوئے۔ جسٹس مسیح نے بھی روایات کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے کہاکہ یہ عجیب ہے کہ روایات کو نظر انداز کیا گیا۔ اچھی روایات کو جاری رکھنا چاہیے۔انہوں نے جسٹس تریویدی کو مستقبل کے لیے نیک خواہشات پیش کیں اور انہیں ایک رہنما اور مشیر کے طور پر یاد کیا۔

جسٹس تریویدی کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ان کی عدالتی خدمات کو سراہا گیا۔ سی جے آئی گوائی نے ان کی ضلعی عدالت سے لے کر سپریم کورٹ تک کی شاندار پیشہ ورانہ سفر کی تعریف کی، جو ان کے والد، ایک جج، سے متاثر تھا۔ انہوں نے کہاکہ جسٹس تریویدی کی کہانی استقامت، ایمانداری اور لگن کی عکاس ہے۔ وہ واحد موجودہ سپریم کورٹ جج ہیں جو ضلعی عدالت سے اس مقام تک پہنچیں۔ان کی اہم فیصلوں میں شیڈولڈ کاسٹس کے ذیلی درجہ بندی کے بارے میں سات ججوں کے بنچ میں ان کی مختلف رائے شامل ہے، جو ان کے آزادانہ سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ اٹارنی جنرل آر وینکٹارامانی اور سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بھی ان کی عدالتی سالمیت اور فیصلوں میں عوامی جذبات سے متاثر نہ ہونے کی تعریف کی۔

ایس سی بی اے کی جانب سے الوداعی تقریب نہ رکھنے کی وجوہات واضح نہیں ہے، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ جسٹس تریویدی کے کچھ سخت فیصلوں سے متعلق ہو سکتا ہے۔ گزشتہ سال، ان کی سربراہی میں ایک بنچ نے کچھ وکلا کے خلاف جعلی وکالت نامہ پر مبنی درخواست دائر کرنے کے الزام میں سی بی آئی تحقیقات کا حکم دیا تھا، جس سے کچھ وکلا ناراض ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ، ان کے سخت اور قدامت پسند رویے، خاص طور پر ضمانت کے معاملات اور سیاسی طور پر حساس مقدمات میں، نے بھی تنازعات کو جنم دیا تھا۔ اس کے باوجود، رسمی بنچ میں موجود وکلا نے ان کی قانونی بصیرت اور روحانیت سے متاثر شخصیت کی تعریف کی، جبکہ سی جے آئی نے اس موقع پر عدالتی روایات اور اس کے احترام کی اہمیت پر زور دیا۔

Rahmatullah

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

8 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

9 hours ago