امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں امن کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے قائم کیے گئے مجوزہ ”غزہ پیس بورڈ“ کو عالمی سطح پر شدید سفارتی دھچکا لگا ہے۔ اقوام متحدہ میں ویٹو پاور رکھنے والے تین مستقل ارکان فرانس، چین اور برطانیہ نے اس بورڈ میں شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ان ممالک کے فیصلے نے نہ صرف ٹرمپ کے منصوبے پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے کردار اور عالمی طاقتوں کے درمیان توازن پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ غزہ پیس بورڈ کے قیام کا اعلان امریکی صدر نے حال ہی میں کیا تھا، جس کا مقصد فلسطین کے غزہ علاقے میں جاری تنازع کے بعد امن کی بحالی، انسانی امداد کی فراہمی اور انفراسٹرکچر کی ازسرنو تعمیر بتایا گیا۔ اس بورڈ میں شمولیت کے لیے دنیا کے 58 ممالک کو دعوت نامے بھیجے گئے تھے، تاہم اعلان کے فوراً بعد کئی بڑی طاقتوں نے اس سے فاصلہ اختیار کرنا شروع کر دیا۔
چین نے سب سے سخت مؤقف اپناتے ہوئے ٹرمپ کے اس منصوبے کو مسترد کر دیا۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان یو جِنگ نے واضح کیا کہ چین کو اگرچہ غزہ پیس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، مگر وہ اقوامِ متحدہ کے مرکزی کردار کے تحفظ کے لیے اس میں شامل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چین ہمیشہ سے حقیقی کثیرالجہتی نظام کا حامی رہا ہے اور وہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین اور یو این کو مرکز ماننے والی عالمی ترتیب کے دفاع کے لیے پرعزم رہے گا۔ چین کے مطابق کسی ایسے متوازی نظام کی حمایت نہیں کی جا سکتی جو اقوامِ متحدہ کو کمزور کرے۔ فرانس اور برطانیہ، جو روایتی طور پر امریکہ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، انہوں نے بھی اس پیس بورڈ سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ غزہ پیس بورڈ میں روس کو دی گئی دعوت ناقابلِ فہم ہے، کیونکہ روس خود ایک فعال جنگ میں مصروف ہے، ایسے میں وہ امن کا علمبردار کیسے بن سکتا ہے۔ دوسری جانب فرانس نے پالیسی سطح پر اختلافات کی بنیاد پر اس منصوبے میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے، اگرچہ اس نے تفصیلی وجوہات ظاہر نہیں کیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ویٹو پاور رکھنے والا ایک اور ملک روس اور ابھرتی ہوئی طاقت بھارت نے تاحال اس معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اشارہ دیا ہے کہ اگر یوکرین جنگ کے معاملے میں روس کو کسی قسم کی رعایت دی جاتی ہے تو وہ غزہ پیس بورڈ میں شمولیت پر غور کر سکتے ہیں۔ اس بیان کو سفارتی سودے بازی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بھارت میں بھی اس معاملے پر سنجیدہ غور و خوض جاری ہے۔ معروف اخبار ”دی ہندو“ کے مطابق نئی دہلی میں ٹرمپ کے اس منصوبے پر مختلف سطحوں پر مشاورت ہو رہی ہے۔ 30 اور 31 جنوری کو عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مجوزہ ملاقات میں بھی غزہ پیس بورڈ پر تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے۔ بھارت کے لیے یہ فیصلہ سفارتی طور پر نہایت حساس ہے، کیونکہ ایک طرف اس کے امریکہ سے مضبوط تعلقات ہیں، تو دوسری طرف وہ اقوامِ متحدہ کے کردار اور فلسطینی مسئلے پر متوازن مؤقف کا حامی رہا ہے۔
غزہ پیس بورڈ سے عالمی طاقتوں کی دوری کی کئی وجوہات بتائی جا رہی ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے اس بورڈ کے قیام سے قبل اقوامِ متحدہ سے کوئی باضابطہ منظوری حاصل نہیں کی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ماڈل کامیاب ہو گیا تو یہ یو این کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ ٹرمپ ماضی میں بھی اقوامِ متحدہ پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ دوسری اہم وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ اس بورڈ میں تمام اختیارات امریکی صدر کے پاس ہوں گے۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے پاس ویٹو پاور ہوگی، جبکہ دیگر رکن ممالک محض مشاورتی کردار ادا کر سکیں گے۔ مزید یہ کہ ٹرمپ تاحیات اس بورڈ کے سربراہ رہیں گے، جس پر کئی ممالک کو شدید اعتراض ہے۔ تیسری وجہ مالی نوعیت کی ہے۔ اگرچہ بورڈ میں شمولیت کے لیے کوئی ابتدائی فیس نہیں رکھی گئی، تاہم مستقل رکن بننے والے ممالک سے ایک ارب ڈالر کی خطیر رقم طلب کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی بڑے ممالک اس منصوبے کو غیر شفاف اور یکطرفہ قرار دے رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ پائیدار ترقی (Sustainability) ہندوستان کی روایت…
اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…
لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…
بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…