قومی

P Chidambaram’s big revelation on 26/11 attacks:پی چدمبرم کا 26/11  حملے پر بڑا انکشاف، جوابی فوجی کارروائی کے حق میں تھے، اس وجہ سے بدلا فیصلہ

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے انکشاف کیا ہے کہ 26/11 ممبئی دہشت گردانہ حملے کے بعد وہ پاکستان کے خلاف جوابی فوجی کارروائی کے حق میں تھے، لیکن آخرکار انہیں اس سے روک دیا گیا۔ چدمبرم نے ایک پوڈکاسٹ میں بتایا کہ عالمی سفارتی دباؤ (خاص طور پر امریکہ کے دباؤ) نے بھارت کے موقف کو متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ 26/11 حملے کے فوراً بعد 30 نومبر 2008 کو انہیں وزیر داخلہ کا عہدہ سنبھالنے کے لیے کہا گیا، جب شیو راج پاٹل نے استعفیٰ دے دیا تھا۔

حملے کے اگلے دن بنایا گیا تھا وزیر داخلہ

چدمبرم نے کہا، ’’مجھے حملے کے اگلے دن وزیر داخلہ بنایا گیا۔ وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے مجھے فون کر کے وزارت خزانہ سے وزارت داخلہ میں جانے کو کہا۔ جب میں نے انکار کیا، تو بتایا گیا کہ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے یہ فیصلہ کر لیا ہے۔ میں نے ان سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی، مگر کہا گیا کہ وہ شہر سے باہر ہیں۔ مجھے اگلی صبح عہدہ سنبھالنے کی ہدایت دی گئی۔‘‘

وزارت خزانہ چھوڑنا نہیں چاہتے تھے چدمبرم

انہوں نے بتایا کہ وہ وزارت خزانہ چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔ چدمبرم نے کہا، ’’میں خوش تھا کہ وزیر خزانہ کے طور پر اپنی میعاد مکمل کروں۔ میں نے پانچ بجٹ پیش کیے تھے اور اپریل 2009 میں انتخابات ہونے والے تھے، مگر بتایا گیا کہ پارٹی نے فیصلہ کر لیا ہے۔ میں نے کہا کہ نہ چاہتے ہوئے بھی میں وزارت داخلہ سنبھال لوں گا۔‘‘

سیکورٹی ڈھانچے سے ناواقفیت کا اعتراف

بھارت کی سیکورٹی ڈھانچے سے ناواقفیت کا اعتراف کرتے ہوئے چدمبرم نے کہا، ’’میں مکمل طور پر ناآشنا تھا۔ مجھے پاکستان اور قریبی علاقوں میں دستیاب انٹیلیجنس ذرائع کے بارے میں جانکاری نہیں تھی۔‘‘

جوابی کارروائی کرنا چاہتے تھے پی چدمبرم

سابق وزیر داخلہ نے قبول کیا کہ ان کے ذہن میں جوابی کارروائی کا خیال آیا تھا۔ انہوں نے کہا، میرے ذہن میں آیا تھا کہ ہمیں کوئی جوابی اقدام کرنا چاہیے۔ میں نے اس پر وزیراعظم اور دیگر اہم لوگوں سے بات کی۔ حملے کے دوران وزیراعظم نے اس پر بات کی تھی، ایسا میں اندازہ لگا سکتا ہوں۔ حتمی نتیجہ (جو بنیادی طور پر وزارت خارجہ اور انڈین فارن سروس کے اثر میں تھا) یہ تھا کہ ہمیں سیدھے طور پہر فوجی ردعمل نہیں دینا چاہیے بلکہ سفارتی اقدامات کرنے چاہئیں۔‘‘

عالمی دباؤ میں لیا گیا تحمل برتنے کا فیصلہ

چدمبرم نے وضاحت کی کہ تحمل سے کام لینے کا فیصلہ عالمی دباؤ کے بیچ لیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا، ’’دہلی پر پوری دنیا کا دباؤ تھا کہ جنگ شروع نہ کریں۔‘‘

میں ذاتی رائے کی بنیاد پر فیصلہ نہیں لیتا

منموہن سنگھ حکومت پر ’دہشت گردی کے تئیں نرم‘ ہونے کے الزامات کو خارج کرتے ہوئے چدمبرم نے کہا، ’’ہم نے جوابی کارروائی نہیں کی۔ میرا ذاتی خیال تھا کہ کرنی چاہیے تھی، لیکن میں ذاتی رائے کی بنیاد پر فیصلہ نہیں لیتا۔ میں حکومت کی طاقت اور کمزوریوں کو مدنظر رکھتا ہوں۔‘‘

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Samajwadi Party Poster War: ’کیو آر اسکین کریں، اپنی رائے بتائیں‘، یوپی میں سماج وادی پارٹی کا جین زی داؤ، دفتر کے باہر نیا پوسٹر

یوپی اسمبلی انتخابات 2027 سے پہلے سماج وادی پارٹی نے لکھنؤ میں اپنے دفتر کے…

26 minutes ago

Telangana RPF Viral Video: تلنگانہ میں آر پی ایف اہلکار نے خاتون کو پیٹا، بال پکڑ کر گھسیٹا، ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ریلوے نے شروع کی جانچ

سکندرآباد میں جنوبی وسطی ریلوے کے حکام نے بتایا، متعلقہ اہلکار کی شناخت تلنگانہ ریاستی…

34 minutes ago

Seva Sankalp Bike Yatra update: وزیر داخلہ امت شاہ گجرات کے وڈ نگر سے کاشی میں بائیک سواروں کا کریں  گے استقبال اور اختتامی تقریب میں کریں گے شرکت

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ جالھوپور میں واقع قومی فرانزک سائنس یونیورسٹی کا افتتاح بھی…

1 hour ago