قومی

Sarguja Women Self Reliant Hope: مودی حکومت کی لکھپتی دیدی اسکیم سے یہاں کی خواتین بنیں خودمختار، ‘چھتیس کلا’ برانڈ کے ذریعے مارکیٹ میں قائم کی نئی پہچان

چھتیس گڑھ کے دیہات کی خواتین، جو پہلے صرف گھر کی چار دیواری تک محدود تھیں، اب اپنی مہارت اور محنت سے خودمختار بنتی جا رہی ہیں۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی لکھپتی  دیدی اسکیم نے ان خواتین کی زندگی بدلنے کی سمت میں اہم قدم اٹھایا ہے۔ خاص طور پر، سرگوجا  کی خواتین اب اپنے مصنوعات کو نہ صرف مقامی بازار میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پہچان دلا رہی ہیں۔ سرگوجا  ضلع کے دیہات کی خواتین اب کاروبار کر رہی ہیں اور مقامی مصنوعات کو بہتر برانڈنگ اور پیکجنگ کے ذریعے بازار میں پیش کر رہی ہیں۔ ان خواتین کا خواب اب صرف اپنے خاندان کی کفالت تک محدود نہیں رہا۔ وہ بڑی بڑی کمپنیوں سے مقابلہ کرنے کے لیے اپنی محنت اور مہارت کو اس حد تک نکھار رہی ہیں کہ ان کی مصنوعات اب عالمی بازار میں بھی فروخت کے قابل ہو گئی ہیں۔سرگوجا  ضلع انتظامیہ نے ان خواتین کے لیے ایک خاص اقدام اٹھایا ہے۔ اب تک جو خواتین اپنے مصنوعات بیچنے کے لیے بازار میں کوئی مستقل جگہ نہیں پا رہی تھیں، انہیں ایک بڑا موقع ملا ہے۔ ضلع انتظامیہ نے خواتین کی مصنوعات کو آشا بیہان بازار کے نام سے ایک خاص آؤٹ لیٹ میں رکھا ہے۔ یہ بازار اب شہر کی دکانوں اور ای کامرس ویب سائٹس پر بھی دستیاب ہے، جس سے ان مصنوعات کی رسائی مزید بڑھ گئی ہے۔

چھتیس کلا برانڈ سے جُڑی نئی پہچان

یہاں فروخت ہونے والی تمام مصنوعات کی برانڈنگ چھتیس کلا نام سے کی گئی ہے۔ اب صرف سرگوجا  یا چھتیس گڑھ کی مصنوعات ہی نہیں بلکہ پورے صوبے کے دیہات کی خواتین بھی اپنے مصنوعات دوسرے اضلاع اور شہروں میں فروخت کر سکیں گی۔ یہ ایک نئی شروعات ہے، جو خواتین کے لیے ان کی مصنوعات کو ایک پہچان دے رہی ہے۔

جدوجہد سے کامیابی کی مثال

اس تبدیلی کی ایک مثال کشون نگر گاؤں کی رہائشی آشا دیوی ہیں۔ آشا کہتی ہیں کہ پہلے ان کے پاس مصنوعات بنانے کی مہارت تو تھی لیکن اسے بیچنے کے لیے کوئی مستقل جگہ نہیں تھی۔ نیشنل رورل لائیولی ہڈ مشن اور لکھپتی  دیدی اسکیم کے تحت انہیں پانچ لاکھ روپے کا قرض ملا۔ انہوں نے کہا،“اس قرض نے ہماری زندگی بدل دی۔ ہم نے ‘آشا بیہان’ کے نام سے اپنی دکان کھولی۔ آج ہمارے پاس مورنگا پاؤڈر، کچی گھانی کا خالص سرسوں کا تیل، خوشبودار جیرا پھول چاول اور تیخور کا آٹا جیسے کئی خالص مصنوعات ہیں، جو مکمل طور پر گاؤں کی دیہاتی خواتین نے تیار کی ہیں۔”

چھتیس کلا کیوں خاص ہے؟

سرگوجا  ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ونے اگروال کا کہنا ہے کہ دیہات کی خواتین پہلے بھی کئی مصنوعات بناتی تھیں، لیکن مارکیٹ میں فروخت ہونے والے فینسی پراڈکٹس کے سامنے ان کی پیکجنگ ماند پڑ جاتی تھی۔ اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے انتظامیہ نے چھتیسکلا نام سے ایک مکمل پلیٹ فارم تیار کیا ہے۔ اب ان مصنوعات کی معیار کے ساتھ ساتھ پیکجنگ بھی شاندار ہے، جس سے یہ بازار میں کسی بھی بڑے برانڈ کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Mirabai Chanu Silver: اب28 سال کا انتظار ختم! میرابائی چانو نے ایشین گیمز میں جیتا تاریخی سلور

ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…

3 hours ago

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

4 hours ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

4 hours ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

5 hours ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

6 hours ago