نئی دہلی: اپیرل ایکسپورٹ پروموشن کونسل (اے ای پی سی) نے منگل کے روز بھارت اور کینیڈا کے درمیان تعلقات میں بہتری اور جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے) پر مذاکرات کی بحالی کا خیرمقدم کیا ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے کینیڈا کو بھارتی ملبوسات کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اے ای پی سی کے چیئرمین ڈاکٹر اے شکتی ویل کے مطابق سی ای پی اے پر دستخط ہونے کی صورت میں آئندہ تین برسوں میں کینیڈا کو ہونے والی برآمدات دوگنی ہو سکتی ہیں، جس سے سرمایہ کاری اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔
دوطرفہ تجارت کے فروغ کی امید
ڈاکٹر شکتی ویل نے کہا کہ یہ جامع تجارتی فریم ورک دوطرفہ تجارت میں اضافے اور باہمی اقتصادی مضبوطی کی بنیاد پر سرمایہ کاری کو نئی رفتار دینے میں معاون ثابت ہوگا۔ فی الحال کینیڈا کو بھارت کی ملبوسات برآمدات تقریباً 25 کروڑ امریکی ڈالر کے قریب ہیں، جن میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
سی ای او فورم میں اقتصادی تعاون پر زور
کونسل نے کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی کے دورۂ بھارت اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ساتھ سی ای او فورم میں ان کی شرکت کا بھی خیرمقدم کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے اور باہمی مفاد پر مبنی سی ای پی اے کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
پائیدار توانائی اور ٹیکنالوجی میں تعاون
ڈاکٹر شکتی ویل کے مطابق یہ شراکت داری پائیدار توانائی کی پیداوار کے میدان میں بڑے مواقع فراہم کرتی ہے، جس سے بھارت ایک ذمہ دار اور اخلاقی سورسنگ ڈیسٹینیشن کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ کونسل نے کہا کہ مضبوط تعلقات کے نتیجے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (آر اینڈ ڈی) شراکت داری، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور آٹومیشن کو فروغ ملے گا، جس سے صنعت کو پیداواری صلاحیت بڑھانے اور عالمی معیارات پر عمل درآمد میں مدد ملے گی۔
اسٹریٹجک انرجی پارٹنرشپ کا اعلان
نئی دہلی میں بھارت اور کینیڈا نے ’اسٹریٹجک انرجی پارٹنرشپ‘ کا بھی اعلان کیا ہے، جس کے تحت کینیڈین کمپنی کیماکو 2027 سے 2035 کے دوران بھارت کے سویلین نیوکلیئر ری ایکٹروں کے لیے تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ پاؤنڈ یورینیم فراہم کرے گی۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق کینیڈا کی حکومت سی ای پی اے کو 2030 تک دوطرفہ تجارت کو دوگنا سے زائد بڑھا کر 70 ارب ڈالر تک پہنچانے کے ہدف سے جوڑ کر دیکھ رہی ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے کینیڈین ہم منصب مارک کارنی نے دونوں ممالک میں سفارتی عملے کی تعداد کو سابقہ سطح پر بحال کرنے پر بھی تبادلۂ خیال کیا ہے۔ مارک کارنی کے منصب سنبھالنے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے متعدد متوازن اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں نئی سفارتی تقرریاں بھی شامل ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…
آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…